| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
استاد کی سزا حوالات
اسلام آباد پولیس نے جمعرات کو ایک استاد کو صبح سکول سے گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا کیونکہ اس نے موجودہ حکومت کے وزیر رئیس منیر احمد کے بیٹے کو، جو چھٹی جماعت کا طالبعلم ہے ، کلاس ورک نہ کرنے پر معمولی سزا دی تھی۔ احمد جمال اسلام آباد کالج فار بوائز جی سکس میں شعبہ مطالعہ پاکستان کے ہیڈ ہیں۔ انہوں نےبدھ کے دن اپنی کلاس کے چند طالبعلموں کو جنہوں نے صیح کام نہیں کیا تھا، کی سرزنش کی ان میں وزیر موصوف کے صاحبزاد طاہر منیر بھی شامل تھا۔ استاد نے لکڑی کے ایک پیمانہ جو اس کے ہاتھ میں تھا ، طاہر منیر کے ہاتھ پر مارا جس سے طالبعلم کے ہاتھ میں خراش ہو گی۔ احمد جمال نے بتایا کہ اس سے ہاتھ زخمی نہیں ھوا تھا۔ جب وہ جمعرات کو اپنے کالج میں آیا تو ایک پولیس پارٹی اس کے انتظار میں تھی اور اس کو گرفتار کر کے آبپارہ پولیس سٹیشن میں بند کر دیا گیا، جہاں وہ اب بھی زیر حراست ہے۔ احمد جمال نے آبپارہ تھانے کی حوالات میں بتایا کہ اس کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ طاہر منیر وزیر کا بیٹا ہے ۔ طاہر منیر پچھلے پانچ دن سے کوئی کام نہیں کر رہا تھا جس کی وجہ سے اس نے لکڑی کا پیمانہ اس کے ہاتھ پر مارا تھا اور اس کے ایک نوک لگنے سے طاہر کے ہاتھ پر ہلکی سی سوزش ھو گی تھی۔ پولیس نے احمد جمال کو بتایا کہ وزیر مملکت رئیس منیر کے ایک ملازم اللہ رکھا نے اس کو رپورٹ کیا ہے کہ طالبعلم پر تشدد ھوا ہے۔پولیس نےتعزیرات پاکستان کی دفعہ تین سو سینتیس کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جس کی زیادہ سے زیادہ سزا پانچ سال ہے۔ عام حالات میں پولیس ایسی رپورٹوں پر مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیتی ہے، کیونکہ قانون معمولی ضرب کی صورت پولیس کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ کسی شہری کو گرفتار کرئے، لیکن اس کیس میں اس نے کمال چابکدستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک استاد کو گرفتار کر کے حوالات میں ڈال دیا ہے۔ احمد جمال کا تعلق صوبہ سندھ کے شہر خیر پور سے ہے اور انہوں نے قائد اعظم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد تعلیم جیسے مقدس پیشے کو اپنایا۔ وہ ایک قابل استاد ہیں اور انہوں نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی طرف سے استادوں کی اسامیوں کو پر کرنے کے لیے منعقد کرائے گئے مقابلے کے امتحان میں سب سے زیادہ نمبر لیے اور اسلام آباد کے اس مشہور تعلیمی ادارے میں استاد مقرر ہوے۔ وزیر مملکت پیپلز پارٹی کے رکن کے طور قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ھونے کے بعد اس گروپ کا حصہ بن گے جو حکومت میں شامل ھو گیا اور اب پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||