ملتان: 6خواتین سمیت 53 گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نو ستمبر کو متحدہ اپوزیشن یعنی اے آر ڈی اور ایم ایم اے کی ہڑتال میں پولیس نے 6خواتین سمیت 53 سیاسی کارکنوں کوگرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے۔ اتحاد برائے بحالی جمہوریت اور متحدہ مجلس عمل کے کارکن طے شدہ پروگرام کے تحت ضلع کچہری سے احتجاجی جلوس لے کر نکلے ہی تھے کہ پولیس کی بھاری نفری نے مقامی رہنماؤں اور کارکنوں کوگرفتار کرکے گاڑیوں میں ٹھونسنا شروع کردیا۔ اس موقع پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔ یاد رہے کہ حکومت نے ہڑتال اور احتجاج کے پیش نظر دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت چار یا اس سے زائد افراد کے اکٹھ کو غیر قانونی قرار دے رکھا تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں پی پی پی کے ملک مختار اعوان، حبیب اللہ شاکر، خواجہ رضوان عالم، خالد حنیف لودھی، بیگم بی اے جگر، مسلم لیگ نواز کے رکن پنجاب اسمبلی نفیس انصاری، سلطان عالم انصاری، بلال بٹ، سلطانہ شاہین، جماعت اسلامی کے راؤ طفر اقبال، جمیعت علمائے اسلام (ف) کے قاری رؤف، تحریک انصاف کے یونس غازی، سرائیکی پارٹی کے حکیم حیدر اقبال اور جمیعت علمائے پاکستان (نورانی) کے مفتی ہدایت اللہ پسروری شامل ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق گرفتار افراد کی تعداد چالیس کے لگ بھگ ہے تاہم اے آر ڈی کے ذرائع اسے پچاس سے زائد بتا رہے ہیں۔ ملتان میں کاروباری مراکز جمعہ کو بند رہتے ہیں اس لیے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کامیابی یا ناکامی کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ملتان کے ضلعی پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حکومت مخالف مظاہرہ کرنے کے الزام میں چھ خواتین سمیت تریپن افراد کو سولہ ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ان گرفتار افراد کو شہر کے چہلیک اور دلّی گیٹ تھانوں کے حوالات میں رکھا گیا ہے۔ ادھر اوکاڑہ سے آنے والی اطلاعات کے مطابق جمعہ کو حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے ہڑتال کی کال پر جلوس نکالنے کے الزام میں ایک رکن پنجاب اسمبلی سمیت بارہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||