BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 September, 2005, 08:55 GMT 13:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہڑتال کی اپیل پر ملا جلا ردِّعمل

 ہڑتال
کچھ شہروں میں دکانیں جزوی طور پر بند ہیں
حکومت مخالف جماعتوں، متحدہ مجلس عمل اور اے آر ڈی کے مشترکہ مطالبے پر جمعہ کو ملک کے بیشتر علاقوں میں تجارتی مراکز، کاروباری اداروں اور پبلک ٹرانسپورٹ نے جزوی ہڑتال کی جبکہ تعلیمی ادارے اور نجی و سرکاری دفاتر کھلے رہے۔

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں انارکلی، ہال روڈ، مال روڈ اور برانڈرتھ روڈ جیسے بڑے بازار بند رہے جبکہ رہائشی علاقوں اور سڑکوں کے کنارے چھوٹے بازاروں کی دکانیں کھلی تھیں۔

شہر میں زیادہ تر پبلک ویگنیں نہیں چل رہیں جبکہ فرنچائزڈ بسیں اور نجی گاڑیاں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔ لاہور میں دوسرے شہروں کے لیے چلنے والی بسوں کے بڑے اڈے بادامی باغ سے بھی بسیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔

لاہور میں جگہ جگہ پولیس کے دستے تعینات ہیں لیکن دوپہر تک کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔

پنجاب کے زیادہ تر شہروں میں جمعہ کے روز کاروباری ادارے اور دکانیں بند رہتی ہیں اور وہ آج بھی ہفتہ وار تعطیل کی وجہ سے بند ہیں۔ صرف لاہور میں اتوار کی تعطیل ہوتی ہے جہاں آج کاروبار جزوی طور پر بند ہوا۔

بی بی سی کے نمائندے اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں آبپارہ مارکیٹ کی سڑک کے سامنے والی بیشتر دکانیں بند رہیں لیکن اس مارکیٹ کے پیچھے زیادہ تر دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ ستارہ، میلوڈی ، سپر، جناح سپر مارکیٹ میں کچھ دکانیں بند اور کچھ کھلی ہوئی ہیں۔ جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان پبلک ٹرانسپورٹ بھی چل رہی ہے۔راولپنڈی سے بھی جزوی ’شٹر ڈاؤن‘ کی اطلاعات ہیں ۔

کراچی سے بی بی سی کے نمائندے ریاض سہیل کے مطابق حکمران مخالف جماعتوں کی اپیل پر شہر میں دن کے آغاز سے ہی ہڑتال موثر نہیں رہی تاہم شہر کے مضافاتی علاقوں میں کاروبار بند رہا۔

سرکاری دفتروں میں حاضری مکمل اور پرائیوٹ اداروں میں کم رہی۔ہڑتال کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں حاضری کم رہی۔ والدین نے بچوں کو اسکول نہیں بھیجا۔

صبح سے ہی مرکزی شہر کی مصروف ترین سڑکوں ایم اے جناح روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ، ایمپریس مارکیٹ اور برنس روڈ پر ٹریفک کا روایتی رش موجود نہیں ہے۔ گلشن اقبال، ملیر، گلشن حدید اور لیاری میں کاروبارِ زندگی کچھ حد تک بند رہا جبکہ ان علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی معمول سے بہت کم تھی۔

News image
کراچی کی مصروف سڑکوں پر ٹریفک کا روایتی رش موجود نہیں ہے

ایم ایم اے اور اے آر ڈی کے مرکزی رہنماؤں مولانا فضل الرحمان اور مخدوم امین فہیم ہڑتال سے ایک دن قبل کراچی میں موجود تھے۔ مگر ان کی موجودگی بھی اس ہڑتال کو اپوزیشن جماعتوں کی توقع کے مطابق موثر کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے ہڑتال کو ناکام بنانے کے لیے چوراہوں پر بڑی تعداد میں پولیس مقرر کی گئی ہے۔ جبکہ رینجرز کے سپاہی بھی گشت کرتی رہی۔ اندرون سندھ کے شہروں حیدرآباد ۔ سکھر اور لاڑکانہ میں بھی جمعہ کے روز کاروبار بند رہتا ہے جبکہ ان علاقوں میں بھی پبلک ٹرانسپورٹ معمول سے کم رہی۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نمائندے عزیز اللہ کے مطابق شہر میں زیادہ تر دکانیں بند ہیں اور مختلف چوراہوں پر مظاہرین نے آج صبح ٹائر جلائے ہیں۔ پولیس شہر میں گشت کر رہی ہے۔

ملک گیر ہڑتال کے حوالے سے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ اور جعفر آباد میں پولیس نے ساٹھ افراد کو زبردستی دکانیں بند کرانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں حزب اختلاف کی جماعتوں سے وابستہ کارکنوں نے زبردستی گاڑیاں رکوانے اور کاروباری مراکز بند کرانے کی کوشش کی ہے۔

News image
ہڑتال کو ناکام بنانے کے لیے چوراہوں پر بڑی تعداد میں پولیس مقرر کی گئی ہے

سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کوئٹہ پرویز ظہور نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں صبح کے وقت پچاس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حالات پرامن ہیں اور کسی قسم کا کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

مشترکہ بس فیڈریشن کے صدر حاجی جمعہ خان نے کہا ہے کہ آج کوئٹہ سے کسی قسم کی کوئی کوچ کسی علاقے کے لیے نہیں گئی۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم نے مکمل پہیہ جام ہڑتال کی ہے۔

حزب اختلاف نے مقامی انتخابات میں حکومت کی طرف سے دھاندلی کا الزامات عائد کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف سے صدر مملکت اور آرمی چیف کے عہدے چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عوام سے ہڑتال کی اپیل کی تھی۔

حزب اختلاف کی تمام بڑی سیاسی پارٹیاں جن میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت اور متحدہ مجلس عمل کی رکن جماعتیں شامل ہیں اس ہڑتال کی اپیل کرنے والوں میں شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد