کراچی: جنریٹر کی فروخت میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں سخت گرمی کے دوران بجلی کی لوڈشینڈنگ سے بچنے کے لیئے لوگوں کا رجحان توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف بڑھ گیا جس وجہ سے جنریٹر کی فروخت میں اسی فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے گنجان آبادی والے اس شہر کو گزشتہ دو ماہ سے بجلی کی کمی کا سامنا ہے جس وجہ سے شہر کے ہر علاقے میں دو سے چار گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ سخت گرمی میں دوپہر اور رات بھر بجلی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ رات کو بے آرام ہوتے ہیں جبکہ دفاتر میں بھی کام متاثر ہو رہا ہے۔ بجلی کی فراہمی بحال رکھنے کے لیئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا جنریٹر کی خریداری کی طرف رجحاں بڑھ گیا ہے۔ ان جنریٹروں میں بیشتر چینی ساخت کے ہیں جو پٹرول اور گیس سے چلتے ہیں۔ پیٹرول کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگ گیس پر چلنے والے جنریٹر کو اولیت دے رہے ہیں۔ یہ جنریٹر ساڑھے چار ہزار سے لے کر پندرہ ہزار تک کی قیمت میں دستیاب ہیں۔ جنریٹر مارکیٹ کے ایک دکاندار غلام حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے جنریٹر کی اسی فیصد خریداری بڑھ گئی ہے۔ ’ان کی قیمتوں میں زیادہ تو اضافہ نہیں ہوا، انیس بیس کا فرق پڑا ہے‘۔
انہوں نے بتایا کہ کم آمدنی والے ایک کلو والٹ جبکہ زیادہ آمدنی والے دو کلو والٹ کا جنریٹر خریدتے ہیں۔ چھوٹا جنریٹر با آسانی دو تین پنکھے اور دو تین لائٹیں چلاتا ہے جبکہ اس سے بڑاجنریٹر پانچ پنکھوں اور اتنی ہی لائٹوں کا لوڈ اٹھا لیتا ہے۔ ایک دوسرے دکاندار محمد فاضل قادری کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سیزن میں جنریٹر کی فروخت میں نوے فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ’لوڈشیڈنگ سے عوام کا ہی نقصان ہے ہم دوکانداروں کو تو فائدہ ہی مل رہا ہے‘۔ نارتھ ناظم آباد سے جنریٹر خریدنے کے لیئے آنے والے محمد رضوان نے بتایا کہ روزانہ تین سے چار گھنٹے بجلی جارہی ہے، ’بچے سو نہیں سکتے ہیں کیا کریں مجبوری میں جنریٹر لے رہے ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے خرچہ تو بڑھے گا مگر سکون تو ہوگا۔ ان کی تائیدگلشن اقبال سے آنے والےغلام شبیر نے بھی کی اور کہا کہ اس سے ماہانہ اخراجات میں اضافہ ہوگا مگر پریشانی سے تو نجات ملے گی۔ آدم جی ننگر کے رہائشی صادق علی کا کہنا تھا کہ سارا دن بجلی نہیں ہوتی لیکن بل اتنا ہی آرہا ہے اس میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر دکاندار نے جنریٹر اجارہ داری قائم کی ہوئی۔ نو ہزار ، دس ہزار اور پندرہ ہزار میں جنریٹر ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ دکاندار محمد قیصر کہتے ہیں کہ ہم ایک سہولت مہیا کر رہے ہیں بجلی بھی نہ ہو اور جنریٹر بھی نہ ہو تو لوگ کیا کریں گے۔ہم تو سمجھتے ہیں کہ ہم لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ کراچی کی الیکٹرانکس مارکیٹ میں دوکانداروں نے جنریٹر قسطوں پر دینے کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے مگر پھر بھی چھوٹے سرکاری ملازمین اور غریب لوگ اس سہولت کی استطاعت نہیں رکھتے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||