BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 July, 2006, 03:48 GMT 08:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی میں بجلی کا بحران

بجلی کے بحران پر ہنگامے بھی ہو رہے ہیں
اس کے جانے کا کوئی وقت طے نہیں ہے ۔ صبح گئی، شام گئی، رات گئی ۔ اور آنے کا بھی کوئی وقت نہیں۔ گھنٹے میں آئی یا دس گھنٹے میں یا چوبیس گھنٹوں سے زیادہ ترسایا، انتظار کرایا، مشکل میں مبتلا رکھا، آنکھ در سے لگی ہی رہی __ بلکہ بلب اور پنکھے پر، کہ کب جلے، کب چلے۔

یہ ایک روز کی کہانی نہیں، آئے دن کا قصہ ہے۔ اور بجلی کا جانا اپنی مرضی سے، اور آنا بھی، کسی ایک علاقے تک محدود نہیں ہے۔ سارا شہر اس آنی جانی کی لپیٹ میں ہے۔ سب ہی بلبلا رہے ہیں۔

 سارے شہر پر محیط یہ مشکل کب ختم ہوگی؟ کب بچے امتحان کی تیاری کسی مشکل کے بغیر کرسکیں گے؟ کب دفتر والوں سے میں یہ کہ سکوں گا آج میں نے نیند پوری کی ہے، بتائیں کیا کام ہے؟؟

میں کہ اس شہرِخراباں کا باسی رات کو دفتر سے گھر جاتے ہوئے ڈرتا ہوں، جھجکتا ہوں، یہاں جنریٹر تو ہیں وہاں گھر پر کیا صورتحال ہوگی، دھڑکا سا لگا رہتا ہے۔ اور گھر کے قریب پہنچتے ہی، بلکہ اس سے بہت پہلے اندازہ ہوجاتا ہے کہ بجلی غائب ہے۔ سارا ہی علاقہ بند ہے، اندھیرے کا راج ہے۔ مگر گھر تو جانا ہے وہاں گھر والے بھی تو اس مشکل سے دوچار ہیں۔

پھر کسی وقت، آدھبی رات اِدھر اور آدھی اُدھر ، بجلی آگئی پنکھے چل گئے۔ گھر والے اور میں خود اپنے اپنے بستر پر براجمان کہ کچھ سولیں کل دن میں بھی بہت کام ہیں۔ مجھے دفتر اور بچوں کو اسکول کالج اور اپنے دفاتر جانا ہے ۔ کچھ نیند ہی لے لیں۔ ابھی آنکھ لگی ہی ہے کہ پنکھے بند ہوگئے اور ساتھ ہی ذرا سے وقفے سے، پورا گھر شور سے بھر گیا۔ آس پاس کے گھروں میں جنریٹر چلنے لگے۔ ہم سب تڑپ کر اٹھ بیٹھے۔ گرمی اتنی زیادہ ہے کہ پنکھے کے بغیر سونا محال کیا ناممکن ہے۔ ابھی آجائےگی، میری بیٹی نے تسلی دی۔

انتظار شروع ہے، آنکھ اندھیرے میں پنکھے پر لگی ہے۔ اور انتظار طویل ہوتا جارہا ہے، ایک گھنٹہ، دو گھنٹے -- آٹھ گھنٹے ، دس گھنٹے --- نہ بجلی آئی نہ نیند لے سکے ۔ دوسرا دن ہوگیا۔ نہ اسکول نہ کالج نہ دفتر۔ نیند پوری ہو تو آدمی اس قابل ہوسکے کہ کچھ کام کرے۔

یہ آئے دن کی کہانی ہے۔ یہ روز روز کا قصہ ہے ۔

اور کل یوں بھی ہوا کہ گاڑی چلاتے چلاتے اچانک مجھے مخالف سمت سے آنے والی گاڑیاں نظر آئیں۔ ابھی میں ٹریفک کی اس خلاف ورزی پر غصے کا اظہار کر ہی رہا تھا کہ سامنے لوگوں کا پتھراؤ کرتا ، شور مچاتا ، ہجوم نظر آیا۔ وہ بجلی کمپنی کے دفتر کے باہر احتجاج کررہے تھے ان کے علاقے میں بھی بجلی پچھلے کئی گھنٹے سے بند تھی۔

بجلی کے جانے کا کوئی وقت طے نہیں ہے۔ صبح بھی جاتی ہے، شام بھی اور رات کو بھی، گھنٹوں گھنٹوں کے لئے ۔ اور یہ کسی ایک علاقے تک محدود نہیں، سب ہی متاثر ہیں۔ لوگ بھی پریشان ہیں، میں بھی پریشان ہوں۔

سارے شہر پر محیط یہ مشکل کب ختم ہوگی؟ کب بچے امتحان کی تیاری کسی مشکل کے بغیر کرسکیں گے؟ کب دفتر والوں سے میں یہ کہ سکوں گا آج میں نے نیند پوری کی ہے، بتائیں کیا کام ہے؟؟

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد