بجلی کے بحران پراحتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں بجلی کی جاری لوڈشیڈنگ کے خلاف عوامی احتجاج پرتشدد ہوگئے ہیں۔ مشتعل لوگوں نے بدھ کے روز شہر کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے’ کے ای ایس سی‘ کے دو دفاتر پر حملے کئے ہیں۔ جبکہ ہوائی فائرنگ کے بھی واقعات پیش آئے ہیں۔ شہر میں لیاقت آباد، ناظم آباد،گلستان جوہر، عزیز آباد، لانڈھی اور کورنگی کے علاقوں میں منگل کی شب سے بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی تھی۔ گلستان جوہر کے علاقے میں لوڈشیڈنگ سے تنگ لوگ جمع ہوکر کے ای ایس سی کے شکایتی سینٹر پہنچے جہاں عملے سے تلخ کلامی کے بعد پتھراؤ کیا گیا۔ اس دوران کچھ مشتعل افراد نے شکایتی سینٹر کے فرنیچر کو آگ لگادی اور شعلوں نے پورے سینٹر کو گھیرے میں لے لیا۔ لیاقت آباد کے علاقے رضویہ میں مشتعل افراد نے کے ای ایس سی کے شکایتی سینٹر پر پتھراؤ کیا اس دوران پولیس نے ہوائی فائرنگ بھی کی۔ اس سے قبل گزشتہ شب گلستان جوہر کے علاقے پہلوان گوٹھ میں لوگوں نے سڑک پر نکل کر ٹائر جلائے اور گاڑیوں پر پتھراؤ کیا جس وجہ سے کچھ دیر کے لیئے ٹریفک معطل ہوکر رہ گئی۔ گلبھار کے علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہونے کے بعد مشتعل افراد نے کےای ایس سی کی ایک گاڑی کو نذر آتش کردیا۔ کے ای ایس سے کے حکام کا کہنا ہے کہ لوڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے گرڈ اسٹیشن بند ہوجاتا ہے اس لیئے بجلی کی فراہمی ممعطل ہو جاتی ہے۔ ادارے کے ترجمان سید سلطان احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی کو دو ہزار آٹھ سو بیالیس میگاواٹ کی ضرورت ہے جس میں دو سو میگاواٹ کی کمی ہے۔ دوسری جانب ڈی آئی جی پولیس مشتاق شاہ نے بتایا کہ لوڈشینڈنگ کی وجہ سے امن امان کا مسئلہ بن رہا ہے۔ فائرنگ پتھراؤ اب معمول بنتا جارہا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شکایتی سینٹروں پر حملے کے بعد کچھ سینٹروں پر پولیس تعینات کی گئی ہے۔ | اسی بارے میں کےای ایس سی کے لیےحکومتی اعانت 08 June, 2006 | پاکستان واپڈا لوڈشیڈنگ: وزیر پریشان01 October, 2004 | پاکستان کراچی مغرب کے بعد بازار بند02 June, 2006 | پاکستان کراچی: آلودہ پانی سے 70 افراد بیمار24 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||