کےای ایس سی کے لیےحکومتی اعانت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے ’کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن، کے ای ایس سی کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے باوجود بھی یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال میں تیرہ ارب ترانوے کروڑ اسی لاکھ روپے کی سبسڈی یعنی اعانت دی ہے۔ بجٹ 2007 - 2006 کے اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے نئے مالی سال میں مجموعی طور پر اٹھاسی ارب ستاسی کروڑ روپے مختلف اداروں کو اعانتیں دینے کے لیے مختص کیے ہیں۔ کے ای ایس سی کو نئے سال کے دوران روپے کی قیمت میں کمی سے ہونے والے خسارے کی مد میں دس ارب اسی کروڑ، جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں دو ارب اناسی کروڑ چالیس لاکھ، بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلوں کی مد میں دو کروڑ ستر لاکھ اور دیگر مدوں میں اکتیس کروڑ ستر لاکھ روپے کی اعانتیں دی ہیں۔ واضح رہے کہ کے ای ایس سی کو رواں ماہ کی تیس تاریخ کو ختم ہونے والے مالی سال میں بھی حکومت نے پانچ ارب روپے سبسڈی دینے کے لیے مختص کیئے تھے لیکن بعد میں نظرثانی شدہ تخمینے کے مطابق منظور کردہ حد سے زیادہ یعنی نو ارب بارہ کروڑ اسی لاکھ روپے کی سبسڈی دی گئی۔ حکومت نے آئندہ مالی سال میں ’فوجی فرٹیلائیزر اردن‘ کو بھی اٹھانوے کروڑ روپے کی سبسڈی دی ہے جب کہ رواں سال اُسے ایک ارب ایک کروڑ روپے کی مالی اعانت دی گئی ہے۔ فوجی فرٹیلائیزر نامی اس ادارے میں فوجی فاؤنڈیشن اور اسلامی ملک اردن کے حصص ہیں۔ حکومت نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاوہ پورے ملک میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے واپڈا کو رواں مالی سال میں پچیس ارب ستاسی کروڑ بیس لاکھ روپے کی مالی اعانت دی ہے جب کہ آئندہ مالی سال کے لیے اس مد میں بیس ارب ترانوے کروڑ چالیس لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت نے واپڈا اور کے ای ایس سی کو نئے مالی سال میں جو اربوں روپوں کی سبسڈی دی ہے وہ صارفین کو سہولت یعنی کم نرخوں پر بجلی کی فراہمی کے لیئے نہیں ہے جب کہ رواں مالی سال میں کے لیئے حکومت نے اس مد میں بھی رقم فراہم کی تھی۔ حکومت نے نئے مالی سال میں کھاد، گندم اور چینی کی درآمد میں نقصان کی تلافی کے ٹریڈنگ کارپوریشن کو اکتالیس ارب پندرہ کروڑ روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے نئے مالی سال میں ’پاسکو‘ کو بائیس کروڑ چالیس لاکھ روپے، تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے دس ارب روپے اور پاکستان ڈیری کی ترقیاتی کمپنی کی سبسیڈی کے لیے دس کروڑ روپے کی رقم مختص کی ہے۔ بعض اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں سبسڈی کا مقصد عام آدمی کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق نجی اداروں کو نقصانات کی تلافی کے لیے عوام کے ٹیکسوں سے جمع شدہ رقم فراہم کرنا غلط قدم ہے۔ | اسی بارے میں ’ کے ای ایس سی‘ پر کامیاب بولی04 February, 2005 | پاکستان کے ای ایس سی کم قیمت 04 February, 2005 | پاکستان کے ای ایس سی کی نجکاری منظور07 February, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||