BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 June, 2006, 11:45 GMT 16:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کےای ایس سی کے لیےحکومتی اعانت

بجلی کے تار
کراچی میں گرمیوں میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی ایک اہم مسئلہ ہے
پاکستان حکومت نے ’کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن، کے ای ایس سی کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے باوجود بھی یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال میں تیرہ ارب ترانوے کروڑ اسی لاکھ روپے کی سبسڈی یعنی اعانت دی ہے۔

بجٹ 2007 - 2006 کے اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے نئے مالی سال میں مجموعی طور پر اٹھاسی ارب ستاسی کروڑ روپے مختلف اداروں کو اعانتیں دینے کے لیے مختص کیے ہیں۔

کے ای ایس سی کو نئے سال کے دوران روپے کی قیمت میں کمی سے ہونے والے خسارے کی مد میں دس ارب اسی کروڑ، جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں دو ارب اناسی کروڑ چالیس لاکھ، بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلوں کی مد میں دو کروڑ ستر لاکھ اور دیگر مدوں میں اکتیس کروڑ ستر لاکھ روپے کی اعانتیں دی ہیں۔

واضح رہے کہ کے ای ایس سی کو رواں ماہ کی تیس تاریخ کو ختم ہونے والے مالی سال میں بھی حکومت نے پانچ ارب روپے سبسڈی دینے کے لیے مختص کیئے تھے لیکن بعد میں نظرثانی شدہ تخمینے کے مطابق منظور کردہ حد سے زیادہ یعنی نو ارب بارہ کروڑ اسی لاکھ روپے کی سبسڈی دی گئی۔

حکومت نے آئندہ مالی سال میں ’فوجی فرٹیلائیزر اردن‘ کو بھی اٹھانوے کروڑ روپے کی سبسڈی دی ہے جب کہ رواں سال اُسے ایک ارب ایک کروڑ روپے کی مالی اعانت دی گئی ہے۔

فوجی فرٹیلائیزر نامی اس ادارے میں فوجی فاؤنڈیشن اور اسلامی ملک اردن کے حصص ہیں۔

حکومت نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاوہ پورے ملک میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے واپڈا کو رواں مالی سال میں پچیس ارب ستاسی کروڑ بیس لاکھ روپے کی مالی اعانت دی ہے جب کہ آئندہ مالی سال کے لیے اس مد میں بیس ارب ترانوے کروڑ چالیس لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

حکومت نے واپڈا اور کے ای ایس سی کو نئے مالی سال میں جو اربوں روپوں کی سبسڈی دی ہے وہ صارفین کو سہولت یعنی کم نرخوں پر بجلی کی فراہمی کے لیئے نہیں ہے جب کہ رواں مالی سال میں کے لیئے حکومت نے اس مد میں بھی رقم فراہم کی تھی۔

سبسڈی کا مقصد ایسے اداروں کو حکومتی فیصلوں اور حالات کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنا ہوتا ہے جو عام لوگوں کو خدمات اور اشیاء فراہم کرتے ہیں تاکہ نقصان کا اثر عام آدمی پر کم سے کم منتقل ہو۔ تاہم نجی اداروں کو ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے عوام کے ٹیکسوں سے جمع شدہ رقم فراہم کرنا غلط ہے
اقتصادی ماہرین

حکومت نے نئے مالی سال میں کھاد، گندم اور چینی کی درآمد میں نقصان کی تلافی کے ٹریڈنگ کارپوریشن کو اکتالیس ارب پندرہ کروڑ روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت نے نئے مالی سال میں ’پاسکو‘ کو بائیس کروڑ چالیس لاکھ روپے، تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے دس ارب روپے اور پاکستان ڈیری کی ترقیاتی کمپنی کی سبسیڈی کے لیے دس کروڑ روپے کی رقم مختص کی ہے۔

بعض اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں سبسڈی کا مقصد عام آدمی کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق نجی اداروں کو نقصانات کی تلافی کے لیے عوام کے ٹیکسوں سے جمع شدہ رقم فراہم کرنا غلط قدم ہے۔

اسی بارے میں
کے ای ایس سی کم قیمت
04 February, 2005 | پاکستان
کے ای ایس سی کی نجکاری منظور
07 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد