BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 February, 2005, 17:23 GMT 22:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کے ای ایس سی کم قیمت

کے ای ایس سی
مزدور نجکاری روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں
پاکستان کے سوا کروڑ آبادی کے شہر کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے’کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن‘ یا ’ کے ای ایس سی‘ کو حکومت نے سعودی عرب کی الکنوزالوطن کمپنی کو پونے سولہ ارب روپے میں بیچ دیا ہے۔

اس ادارے کی نجکاری کے خلاف مزدور تنظیموں نے جہاں کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا وہیں اسلام آباد میں جاری سینیٹ کے اجلاس سے حزب مخالف نے واک آؤٹ بھی کیا۔

مزدور نجکاری روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ایسا کرنے تک ان کے دو رہنما محمد اخلاق اور محمد عثمان کراچی پریس کلب کے سامنے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر ہیں۔ سینیٹ میں حزب مخالف کے رہنماؤں نے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

نجکاری کمیشن نے جمعہ کو کے ای ایس سی کے تہتر فیصد حصص انتظامیہ سمیت بیچنے کے لیے کھلی بولی کا اہتمام کیا تھا۔ جس دوران سعودی کمپنی الکنوز الوطن نے ایک روپیہ پینسٹھ پیسے فی شیئر کی بولی لگائی اور کمیشن نے اسے سب سے بڑی بولی قرار دیتے ہوئے منظور کرلیا۔ ’سیمنز پاکستان‘ الکنوز گروپ کا پاکستانی شراکت دار ہے۔

حکام کے مطابق اب کمیشن اس بولی اور متعلقہ ادارے کی انتظامیہ نئی خریدار کمپنی کے حوالے کرنے کے لیے حکومت سے حتمی منظوری کے لیے رسمی کارروائی کرے گا۔ اس عمل میں ایک ماہ تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

کھلی بولی کے انعقاد کے وقت خاصی تعداد میں صحافی، متعقلہ کمپنیوں کے نمائندے اور نجکاری کے وفاقی وزیر عبدالحفیظ شیخ بھی موجود تھے۔ وزیر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے شفاف طریقے سے نجکاری کا اہتمام کیا ہے اور سعودی کمپنی کی بولی حکومت کی مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ قیمت سے بھی زیادہ ہے۔

’کے ای ایس سی‘ کے متعلق نجکاری کمیشن کے کنسلٹنٹ ارشد رضا کے مطابق اس ادارے کے کل حصص کی تعداد 13.2 ارب ہے۔ جس میں سے0.9 فیصد حصص سٹاک مارکیٹ میں درج ہیں۔ باقی ماندہ حصص میں سے حکومت نے تہتر فیصد شیئرز بمع انتظامیہ نیلامی کے لیے پیش کیے جبکہ چھبیس اعشاریہ ایک فیصد حصص اب بھی حکومت کے پاس رہیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’کے ای ایس سی‘ گزشتہ دس برسوں سے مسلسل خسارے میں چل رہی ہے اور ہر ماہ اس مد میں حکومت کو ایک ارب روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔

خسارے میں چلنے والے اس ادارے کے فی شیئر کی قیمت سٹاک مارکیٹ میں ساڑھے سات روپے سے بھی زیادہ ہے لیکن حکومت نے فی شیئر ایک روپیہ پینسٹھ پیسے میں سعودی کمپنی کو بیچ دیا۔

اس کی وجہ جاننے کے لیے جب کنسلٹنٹ سے پوچھا تو ان کا دعویٰ تھا کہ سٹاک مارکیٹ میں حصص کی قیمت مصنوعی ہوتی ہے اور یہ اکثر افواہ پر مبنی ہوتی ہے اور اس کی بنیاد پر کسی کمپنی کی حیثیت کا اندازہ نہیں لگایا جاتا۔

انہوں نے بتایا کہ ’کے ای ایس سی‘ میں کل بیس ہزار ملازم ہیں جس میں سے بارہ ہزار مستقل اور آٹھ ہزار کانٹریکٹ پر ہیں۔

ارشد رضا نے حکومت اور سعودی کمپنی کے درمیاں معاہدے کے حوالے سے بتایا کہ خریدار کمپنی انتظام سنبھالنے کے دن سے کانٹریکٹ پر کام کرنے والے تمام ملازمین کی تنخواہوں میں بیس فیصد اضافہ کرنے اور ایک سال تک کسی بھی ملازم کو برطرف نہ کرنے کی پابند ہوگی۔

ان کے مطابق مستقل ملازمین کی تنخواہ میں نئی انتظامیہ فوری اضافہ نہیں کرے گی کیونکہ حکومت چند ماہ قبل ان ملازمین کی تنخواہ میں پینتیس فیصد اضافہ کرچکی ہے۔

کنسلٹنٹ نے بتایا کہ معاہدے کے مطابق نئی انتظامیہ چھ ماہ بعد یونین سازی پر عائد پابندی ختم کردے گی۔ یاد رہے کہ حکومت نے گزشتہ تین برس سے اس ادارے میں یونین سازی پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک بھی اس ادارے کے ساڑھے چھ فیصد حصص خریدنے کا خواہشمند ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد