لاپتہ سائنسداں: حکومت کو مہلت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے انجنیئر عتیق الرحمٰن کی حراست کے متعلق لاہور ہائی کورٹ کی راولپنڈی بینچ نے حکومت کو مزید ایک بار اور مہلت دیتے ہوئے جمعہ سات جولائی تک تحریری جواب طلب کرلیا ہے۔ عدالت نے گزشتہ دو برس سے غائب عتیق الرحمٰن کے والد کی درخواست پر سماعت کے دوران کہا کہ اگر ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی اور سیکرٹری داخلہ سات جولائی کو تحریری جواب نہیں دیتے تو وہ خود عدالت کے سامنے پیش ہوں۔ درخواست گزار کے وکیل چودھری اکرام کے مطابق یہ حکم راولپنڈی بینچ کے جج سردار محمد اسلم نے بدھ کے روز دوران سماعت اس وقت جاری کیا جب حکومت کے وکیل نے کوئی جواب داخل نہیں کیا۔
صوبہ سرحد کے ضلع ایبٹ آباد کے رہائشی صدیق الرحمٰن نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں الزام لگایا ہے کہ ان کے بیٹے کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اہلکار دو برس قبل ان کی شادی والے دن اٹھا کر لے گئے تھے اور تاحال انہیں رہا نہیں کیا۔ عدالت کے سامنے پہلے آئی ایس آئی کے وکیل نے اٹامک انرجی کمیشن میں کام کرنے والے انجنیئر عتیق الرحمٰن کی پراسرار حراست کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔ تاہم ہائی کورٹ کے جج نے ان کے اس استدلال کو مسترد کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے سربراہ اور سیکرٹری داخلہ سے اس بارے میں تفصیلی وضاحت مانگی تھی۔ گزشتہ دو سے زیادہ حاضریوں کے دوران متعلقہ حکام کی جانب سے تفصیلی جواب پیش نہیں کیا گیا اور عدالت نے بدھ کے روز ایک بار اور انہیں مہلت دیتے ہوئے یہ حکم جاری کیا ہے۔ عتیق الرحمن کے والد کے وکیل اکرام چوہدری کا کہنا ہے کہ ان کے موکل نے عدالت میں بیان حلفی داخل کیا ہے جس کے مطابق خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اہلکار انہیں کہتے رہے ہیں کہ عتیق الرحمٰن خیریت سے اسلام آباد میں ہیں اور وہ جلد ہی رہا ہو جائیں گے۔ وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ عتیق الرحمن کے گھر والوں کو ایک مرتبہ یہاں تک کہا گیا کہ وہ اپنے بیٹے کی شادی کی تیاریاں شروع کر دیں کیونکہ انہیں جلد ہی چھوڑ دیا جائے گا۔
ادھر جوہری کمیشن کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ عتیق الرحمٰن کمیشن سے اپنی شادی کے لیئے چھٹی لے کر گئے تھے اور تاحال واپس نہیں آئے۔ ان کے مطابق عتیق الرحمٰن کے خلاف جوہری کمیشن نے کسی بھی حکومتی ادارے کو کوئی شکایت نہیں کی اور نہ ہی ان کے کام پر کمیشن کو کوئی اعتراض ہے۔ واضح رہے کہ سن دوہزار چار میں جب جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر نے جوہری پھیلاؤ میں ملوث ہونے کا اقرار کیا تھا اس وقت ان کی جوہری لیبارٹری کے گیارہ ملازمین کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان میں سے دس تو رہا کردیئے گئے تھے جبکہ ایک سینیئر عہدیدار ڈاکٹر فاروق کو حراستی مرکز میں دو بار دل کا دورہ پڑنے کے بعد حال ہی میں انہیں اپنے گھر منتقل کیا گیا ہے۔ جہاں وہ سکیورٹی کے سخت پہرے میں ہیں۔ ڈاکٹر فاروق کی رہائی کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ جوہری معاملے کی تحقیقات کا باب بند ہو گیا ہے۔ | اسی بارے میں لاپتہ بلوچوں کی رہائی کے لیےمظاہرہ24 May, 2006 | پاکستان حیات اللہ کے قتل پر احتجاج17 June, 2006 | پاکستان وہ جو لاپتہ ہیں۔۔۔28 June, 2006 | Poll پراچہ کی رہائی کے لیئے درخواست28 June, 2006 | پاکستان وہ جو لاپتہ ہیں۔۔۔دوسرا حصہ30 June, 2006 | Poll پارس کی امریکہ سے اپیل 01 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||