پشاور میں صحافیوں کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور پریس کلب پر گزشتہ دنوں حکمراں مسلم لیگ (ق) کے حامیوں کی جانب سے مبینہ حملے کے خلاف صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور اور قبائلی علاقوں کے صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا۔ صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے جمعرات کو پشاور پریس کلب سے نکل کر شیر شاہ سوری روڈ پر احتجاجی مارچ کیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر آزادی صحافت پر پابندیاں نامنظور اور مسلم لیگ (ق) کی صوبائی قیادت کے خلاف نعرے درج تھے۔ اس مظاہرے کا انتظام خیبر یونین آف جرنلسٹس نے صحافیوں کی قومی سطح پر تنظیم فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی قومی سطح پر احتجاج کی کال پر کیا تھا۔ مظاہرے کی قیادت کے ایچ یو جے کے صدر انتخاب امیر نے کی۔ ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے صدر سیلاب محسود اور عورت فاونڈیشن کی رخشندہ ناز اور اخبار فروش یونین کے صدر جعفر شاہ نے بھی اس مظاہرے میں صحافیوں کا ساتھ دیا۔ مظاہرین نے مسلم لیگ (ق) کی صوبائی قیادت کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی اور پشاور پریس کلب پر حملے میں ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ صحافیوں نے اس سے قبل ایک ہنگامی اجلاس میں یہ احتجاج مسلم لیگ کے صوبائی دفتر کے سامنے کرنے کے پروگرام کو ترک کر دیا۔ خیبر یونین آف جرنلسٹس نے آئندہ پیر کے روز صحافت پر پابندیوں کے عنوان سے خصوصی مذاکرے کا بھی اہتمام کیا ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے ڈنڈا بردار کارکنوں نے گزشتہ دنوں پشاور پریس کلب میں ایک علیحدہ ہونے والے دھڑے یا فاروڈ بلاک کی اخباری کانفرنس کے موقعہ پر ہنگامہ اور مارپیٹ کی تھی۔ اس تصادم میں چار صحافی بھی زخمی ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں حیات اللہ کے قتل پر احتجاج17 June, 2006 | پاکستان ’یہ صحافتی آزادی کا قتل ہے‘ 16 June, 2006 | پاکستان صحافی حیات اللہ کا قتل 16 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||