BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 July, 2006, 20:03 GMT 01:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لاپتہ افراد کی تلاش میں حکومت ناکام‘

لاپتہ افراد کے پروگرام میں شریک ان افراد کے خاندان والے
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے ملک میں لاپتہ افراد کی تلاش کے بارے میں حکومت کی ناکامی کو تسلیم کیا ہے۔


پیر کے روز پاکستان میں لاپتہ افراد کے متعلق بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ایک خصوصی پروگرام میں انہوں نے کہا کہ ایک طرف بڑے بڑے سرداروں اور جاگیر داروں نے لوگوں کو اپنی نجی جیلوں میں قید کر رکھا ہے اور دوسری طرف ریاستی اداروں کے زیر حراست افراد کے بارے میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

’میں یہاں اس حکومت کی ناکامی کو بیان کررہا ہوں جسے ایک طرف دہشت گردی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے اور دوسری جانب اپنے شہریوں کے حقوق کا بھی خیال رکھنا ہے۔‘

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ لاپتہ افراد کی تلاش کے سلسلے میں اپنے فرائض ادا کرے اور ایسے اقدامات کرے کے اس سلسلے میں شکایات پیدا نہ ہوں۔

اسد درانی اور محمد علی درانی لاپتہ افراد کے خاندانوں کے سامنے

یہ پروگرام بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ویب کاسٹ کیا گیا جبکہ اسے ریڈیو پروگرام سیربین میں براہ راست نشر کیا گیا۔ پروگرام کی میزبانی کے فرائض وسعت اللہ خان نے سرانجام دیے۔

اس پروگرام میں جہاں صوبہ سندھ اور بلوچستان کے لاپتہ سیاسی کارکنوں کے اہل خانہ کے نمائندے شریک ہوئے وہاں وزیر اطلاعات کے علاوہ ’آئی ایس آئی، کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ( ر) اسد درانی اور انسانی حقوق کمیشن کے سرکردہ رہنما آئی اے رحمٰن بھی شریک ہوئے۔

امریکی شہریت رکھنے والے سیاسی کارکن صفدر سرکی کی اہلیہ پارس سرکی نے امریکہ سے ٹیلی فون پر پروگرام میں شرکت کی۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ایجنسیاں ایسا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرتے ہوئے خیال یہ ہوتا ہے کہ مروجہ طریقہِ کار پر عمل کرتے ہوئے وہ اپنے فرائض انجام نہیں دے سکیں۔ تاہم انہوں نہ کہا کہ وہ اس طریقے سے کی گئی گرفتاریوں کا دفاع نہیں کر سکتے۔

انسانی حقوق کمشن کے اعلیٰ عہدے دار آئی اے رحمٰن نہ کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنی لیکن یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیئے کہ کسی حالت میں بھی بنیادی انسان ی حقوق کو پامال نہیں کیا جا سکتا۔

’میں نہیں کہتا کہ حکومتی ادارے گرفتاریاں نہ کریں لیکن اگر ان کے خلاف الزامات ہیں تو انہیں منظر عام پر لائیں اور ان کے خلاف مقدمات چلائیں‘۔

شاہی قلعہابتداء پنڈی کیس سے
پاکستان میں سیاسی گمشدگیوں کی تاریخ
مزید تین لاپتہ
اٹامک انرجی کے عتیق اور دو موٹر مکینک
مشرفحدود قوانین پر غور
معمولی مقدمات میں ملوث عورتوں کی رہائی
15 سال بعد۔۔
رؤف کشمیری پندرہ سال بعد گھر پہنچ گئے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد