ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی |  |
 | | | مہرالدین مری گولارچی میں سندھی روزنامہ کاوش کے لیئے رپورٹنگ کرتے رہے ہیں |
سندھ کے شہر گولارچی کے ایک صحافی مہرالدین مری گزشتہ دس روز سے لاپتہ ہیں۔ مہرالدین کے والدین کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس نےگرفتار کیا تھا جبکہ پولیس گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کر رہی ہے۔ مہرالدین مری گولارچی میں سندھی روزنامہ کاوش کے لیئے رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔ مہرالدین کے والد بالاچ مری اور بھائی دلمراد مری نے سنیچر کو حیدرآباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ستائیس جون کو مہرالدین مری ایک تنازعے کے تصفیے کے لیئے مملکتی وزیر محمد علی ملکانی کے گاؤں گئے تھے۔ دلمراد مری کے مطابق جب وہ ٹھٹہ سے واپس گولارچی آرہے تھے کہ پولیس کی ایک بڑی نفری نے انہیں گھیر لیا اور شناخت کے بعد مہرالدین مری کو اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کا کہنا ہے کہ مہرالدین مری ان کے حراست میں نہیں ہیں جس کے بعد ہمیں خدشہ ہے کہ اس کی جان خطرے میں ہے۔مہرالدین کے والد اور بھائی کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں ہے کہ مہرالدین کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ ان پر کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا گیا۔ مہرالدین کے والدین نے اعلان کیا کہ اتوار کو حیدرآباد میں اور پیر کو کراچی میں بھوک ہڑتال کی جائے گی۔ حیدرآباد کے صحافیوں نے ان کے احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔دوسری جانب انسانی حقوق کی کمیشن نے بھی مہرالدین مری کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر مہرالدین مری مطلوب ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ |