BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 August, 2006, 15:27 GMT 20:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قابلِ اعتراض فقرات،ایوان میں ہنگامہ

قومی اسمبلی
سپیکر کو ایوان میں’ وائس ووٹ‘ یا آواز کے ذریعے رائے شماری کرانا پڑی
قومی اسمبلی میں منگل کے روز خواتین پر گھریلو تشدد کے خلاف ایک بل پر بحث کے دوران مذہبی جماعتوں کے ارکان کی طرف سے قابلِ اعتراض فقروں پر شدید احتجاج کیا گیا۔

ایوان میں منگل کو نجی کارروائی کے روز اس وقت ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی جب اراکین، خواتین پر گھریلو تشدد کے مسئلہ پر قرآن کی آیات کی مختلف تشریحات پیش کر رہے تھے۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نے پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شیری الرحمان کی طرف سے خواتین پر تشدد کے خلاف پیش کیئے گئے بل کو اسلامی اقدار اور آئین کے منافی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق یہ ایوان کوئی بھی ایسا قانون منظور نہیں کر سکتا جو کہ اسلامی اقدار اور احکامات سے متصادم ہو۔ ڈاکٹر شیر افگن کا کہنا تھا کہ خواتین کی مار پیٹ اسلامی احکامت کی روشنی میں جائز ہے۔

جماعت اسلامی کی رکن اسمبلی راحیلہ قاضی نےوزیر موصوف کی تشریح پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ قران کی آیات کو لوگ اپنے اپنے نکتہ نظر سے بیان کرتے ہیں جو کہ غلط بات ہے۔

خواتین پر تشدد کے حوالے سے آیات کی تشریح کرتے ہوئے انہوں نے کہا جو عورت بدکرداری کا راستہ اختیار کر لےصرف اس کے بارے میں قرآن میں حکم ہے کہ پہلے اسے وعظ و نصیحت سے سمجھایا جائے اور اگر وہ پھر بھی نہ مانے تو اُسے اکیلا چھوڑ دیا جائے اور اگر وہ پھر بھی بدکاری کی راہ نہ چھوڑے تو اُس پر اس انداز میں سختی کی جائے کہ اس کے جسم پر کوئی نشان نہ پڑے۔

جماعت اسلامی کے رکن لیاقت بلوچ نے اس بل پر بات کرتے ہوئے ایک فقرہ ایسا کہا جس پر حزب اختلاف اور حزب اقتدار کی خواتین بھڑک گئیں۔ لیاقت بلوچ نے اپنا فقرہ فوراً ہی واپس لے لیا لیکن خواتین ارکانِ اسمبلی نے اِس پر احتجاج جاری رکھا اور حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کی ارکان سپیکر کے سامنے جا کھڑی ہوئیں۔

لیاقت بلوچ کے ایک فقرے پر خواتین ارکان مشتعل ہوگئیں

اس موقع پر وزراء کے درمیان پایا جانے والا اختلاف رائے بھی سامنے آیا۔ وفاقی وزیر قانون وصی ظفر نے بل پر بات کرتے ہوئے تجویز کیا کہ اس مسودہ قانون کو کمیٹی کے سپرد کر دینا چاہئیے۔ تاہم جب سپیکر نے خواتین کے احتجاج کےمدِنظر بل کو کمیٹی کو بھجینے کے بارے میں تحریک پیش کی تو پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیر افگن نےاس کی مخالفت کر دی۔

ڈاکٹر شیر افگن کی مخالفت کے بعد اس تحریک پر سپیکر کو ایوان میں ’ وائس ووٹ‘ یا آواز کے ذریعے رائے شماری کرانا پڑی جس پر ایوان میں مذہبی خطوط پر اختلاف دیکھنے میں آیا۔

کئی حکومتی ارکان نے مذہبی جماعتوں کے ارکان کے ساتھ ہم آواز ہو کر اس تحریک کی مخالفت کی۔ تاہم اس تحریک کے خلاف حزب اختلاف اور حزب اقتدار کی خواتین اور مرد ارکان نے با آواز بلند بل کو کمیٹی کے حوالے کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ جس پر سپیکر نے بل کو کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد