کراچی میں پرتشدد احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے خلاف اتوار کو کراچی میں ہونے والے احتجاج اس وقت پرتشدد ہوگیا جب گاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا اور پولیس کے ساتھ مظاہرین کی جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ جہانگیر روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کر کے ٹریفک کو معطل کیا گیا، ٹائر جلائے گئے۔ اس موقع پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ’بگٹی کی شہادت مبارک‘ اور بگٹی تیری عظمت کو سلام‘ جسیے نعرے لگائے گئے۔ اس موقع پر کچھ مشتعل افراد نے ہوائی فائرنگ بھی کی جبکہ پاکستان کے جھنڈے کو بھی نذر آتش کیا گیا ہے۔ کچھ مقامت پر نواب کی عائبانہ نماز جنازہ کے بھی انتظامت کیے گئے ہیں۔ دریں اثنا سندھ کی قوم پرست جماعت جئے سندھ قومی محاذ کی جانب سے تین روز سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اتوار کے روز جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ کی فوجی حملے میں ہلاکت کے خلاف کراچی میں بلوچ آبادی والے علاقوں میں احتجاج کیا گیا ہے، جبکہ کراچی کوئٹہ روڈ مکمل طور پر بند ہے۔ کراچی شہر کی قدیمی بستی لیاری اور ملیر کے نواحی علاقوں میں کاروبار زندگی مکمل طور پر معطل ہے۔ مشتعل افراد نے ٹولیوں کی صورت میں لیاری میں ٹائر جلائے ہیں جبکہ ملیر کے کچھ علاقوں میں ہوائی فائرنگ کی بھی اطلاعات ہیں۔ کراچی کے مواچھ گوٹھ کے علاقے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے کوئٹہ جانے والی آر ٹی سی شاہراہ پر دہرنا دیکر روڈ بلاک کردیا تھا اور مظاہرین حکومت کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے۔ اس طرح بلوچستان کے سرحدی شہر حب میں لوگوں نے تمام کاروبار بند کرکے کوئٹہ کراچی روڈ بلاک کردیا اور ایک احتجاجی جلوس نکالا۔ قوم پرست جماعتوں کی جانب سے نکالے گئے اس جلوس کے شرکا نے خبردار کیا کہ اگر کاروبار کھولا گیا یا جلوس کو منتشر کرنے کی کوشش کی گئی تو احتجاج پرتشدد ہوسکتا ہے۔ سندھ میں بگٹی کی ہلاکت پر ردعمل: انہوں نے بگٹی کی ہلاکت کو ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔ خیر پور کے ریگستانی علاقے نارا میں بگٹی قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد کے ایک گروہ نے ایک لنک روڈ پر ٹائر جلائے۔ ضلع سانگھڑ جہاں بگٹی چار پانچ ہزار ایکڑ زرعی اراضی ہے جو بگٹی اسٹیٹ کے نام سے جانی جاتی ہے، پولیس کی بھاری نفری نے اس کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم احتیاطی طور پر اٹھایا گیا ہے۔ اس اسٹیٹ کی نگرانی اکبر بگٹی کے مرحوم بیٹے سلیم بگٹی کے ایک بیٹے میر عدو کرتے ہیں ۔ احتیاطی اقدامات کے طور پر تو صوبے بھر میں نیم فوجی دستے متعین کیئے گئے ہیں ۔ حکام کو بگٹی قبیلہ کے لوگ یا بلوچ قوم پرست کی طرف سے ردعمل کے اظہار کا خدشہ ہے۔ حالانکہ اندروں سندھ دوپہر تک کوئی قابل زکر ردعمل سامنے نہیں آیا تھا ۔ ضلع جیکب آباد جہاں بگٹی کا ایک بنگلہ موجود ہے ، پہلے ہی رینجرز کے قبضے میں ہے ۔ وہاں بھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ نواب کی ہلاکت پر یقین نہیں کر رہے ہیں ۔ سوئی اور ڈیرہ بگٹی جانے والی سڑک کے برابر واقع سندھ کے ضلع کشمور کی تحصیل کندھ کوٹ سے ایک رپوٹر نے بتایا ہے کہ وہاں بعض لوگوں نے یہ کہ کر مٹھائی تقسیم کی ہے کہ نواب صاحب سلامت ہیں۔ ٹی وی چینلز یہ وضاحت تو نشر ہی کر رہے ہیں کہ اکبر بگٹی کے پوتے جن میں سے ایک کی وہ قبیلہ کے ممکنہ سردار کی حییثیت سے تربیت کر رہے تھے، محفوظ ہیں ۔ کشمور اور راجن پور سے سوئی اور ڈیرہ بگٹی جانے والی سڑک اکبر بگٹی کی ہلاکت پر عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو، جۓ سندھ قومی محاذ کے بشیر خان قریشی اور سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ قادر مگسی نے گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پلیجو کا کہنا ہے کہ اس کا نتیجہ حکمرانوں کو بگھتنا پڑے گا۔ بشیر خان نے کہا ہے کہ نواب کو حق مانگنے پر قتل کیا گیا ہے جس کے نتائج اچھے نہیں نکلے گے ۔ | اسی بارے میں کوئٹہ میں کرفیو کے باوجود ہنگامے، فائرنگ اور گرفتاریاں27 August, 2006 | پاکستان نواب اکبر بگٹی کی کچھ یادیں27 August, 2006 | پاکستان کوئٹہ میں چوبیس گھنٹے کا کرفیو نافذ 27 August, 2006 | پاکستان کوئٹہ میں کرفیو کے باوجود ہنگامے، گرفتاریاں اور فائرنگ، کئی افراد زخمی27 August, 2006 | پاکستان اکبر بگٹی – بھٹو کے بعد لیجنڈری موت27 August, 2006 | پاکستان بگٹی کی موت پر’سانا‘ کی مذمت27 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||