BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 August, 2006, 01:50 GMT 06:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ میں چوبیس گھنٹے کا کرفیو نافذ

فائل فوٹو: نواب اکبر خان بگٹی کی خفیہ پناہ گاہ

نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد بلوچستان میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں صبح چھ بجے سے چوبیس گھنٹے کے لیئے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔ گوادر اور خصدار سے بھی احتجاج کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے پولیس کے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ کوئٹہ میں نواب اکبر بگٹی اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد ہزاروں افراد نے احتجاج کیا۔

بلوچستان یونیورسٹی میں طلباء نے اٹھارہ بسوں کو آگ لگا دی جبکہ کوئٹہ میڈیکل کالج میں بھی مشتعل طلباء نے دو بسیں جلا دیں۔ شہر میں ہنگاموں کے دوران ہفتے کی رات گئے پانچ بینکوں کی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

کوئٹہ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس وزیر خان ناصر کے مطابق اتوار کو کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے احتجاج کیا گی۔ انہوں نے کہا کہ دو سو کے قریب افراد نے سڑکوں پر ٹائر جلا ئے۔

وزیر خان ناصر نے بتایا ہےکہ سریاب روڈ بروری بلوچستان یونیورسٹی اور بولان میڈیکل کالج میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے بعد درجنوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں اکثریت طلباء کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور فوج نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

سبزل روڈ پر لوگوں نے ٹائر جلا کر روڈ بلاک کر دی تھی جس پر پولیس نے آنسو گیس کے شیل پھینکے ہیں اور بعض مقامات پر لاٹھی چارج کیا گیا ہے۔

بلوچستان یونیورسٹی کے طالب علموں نے بتایا ہے کہ یونیورسٹی میں طلباء نے احتجاجی جلوس نکالا ہے اور عمارت پر پتھراؤ کیا ہے، اس کے علاوہ گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

حکومت نے کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے سخت حفاطتی انتظامات کیئے ہیں۔ سریاب روڈ اور دیگر حساس علاقوں میں پولیس کے دستے تعینات کر دیئے گئے ہیں اور شہر سے باہر جانے والے راستوں پر گاڑیوں کی چیکنگ کی جا رہی ہے۔

گوادر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وہاں بھی مشتعل مظاہرین نے مختلف جگہوں پر توڑ پھوڑ اور احتجاج کیا ہے۔ گوادر میں مسلم لیگ کے دفتر پر حملہ کیا گیا۔

خصدار میں اتوار کو ایک بہت بڑا احتجاجی جلسہ منعقد کیا جا رہا ہے۔

دریں اثناء بلوچ قوم پرست جماعتوں نے اتوار کے روز ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں اس واقعے کے حوالے سے پالیسی مرتب کی جائے گی۔

 بگٹی ہاؤسڈیرہ بگٹی سفرنامہ
لاسی کے گھر کے نزدیک دھماکہ
ڈیرہ بگٹی ماضی، حال، مستقبل
برہمداغ اور آغا شاہد کو کون کون سی وزارتیں
اکبر بگٹی’مسئلہ حق کا ہے‘
’ہم اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں‘
اکبر بگٹی کی ہلاکت
حکومت کی نئی پالیسی کا پہلا نشانہ؟
بگٹی پاکستانی اخبارات
’اکبر بگٹی کا پتہ سیٹلائٹ فون سے چلا ‘
لیجنڈری موت
اکبر بگٹی: بھٹو کے بعد لیجنڈری موت
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد