عدنان عادل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر چند ماہ قبل نواب اکبر بگٹی کا ایک نامعلوم مقام پر انٹرویو لیتے ہوئے |
ملک میں حزب مخالف کی مختلف سیاسی جماعتوں نے کوہلو میں بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور بیشتر نے اس کی مذمت کی ہے۔ حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے ابتدائی طور پر محتاط بیان دیا ہے کہ معلوم نہیں کیا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس لیے وہ اس بارےمیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اکبر بگٹی کا اثر و رسوخ ڈیرہ بگٹی تک محدود تھا جس کا مطلب ہے کہ ان کے خیال میں ان کی ہلاکت کے اثرات محدود ہوں گے۔ وزیر مملکت طارق عظیم کا کہنا ہے کہ اکبر بگٹی کوہلومیں اپنے مسلح ساتھیوں سمیت وہاں موجود تھے اور وہاں سے ایک فوجی ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی گئی اور جوابی فائرنگ سے وہاں بچھی ہوئی بارودی سرنگوں میں دھماکےہوئے جن میں شر پسند ہلاک ہوگئے۔ اکبر بگٹی کی ہلاکت پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے عبدالحئی بلوچ سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے اسے پاکستان کی تاریخ کا انتہائی شرم ناک اور دردناک واقعہ قرار دیا ہے۔ ان کے خیال میں اس واقعہ کے خلاف پورے بلوچستان میں شدید ردعمل ہوگا۔ پاکستان نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ بگٹی کی ہلاکت نے بلوچوں کے زخموں کو اتنا تازہ کیا ہے کہ فوج کو بلوچستان سے نفرت کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ سابق وزیراعلی اختر مینگل نے کہا ہےکہ اکبربگتی کی ہلاکت سے بلوچستان یتیم ہوگیا ہے اور فوج نے نوروز خان کی شہادت کی تاریخ دہرائی گئی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے اکبر بگٹی کی ہلاکت کی مذمت کی ہے اور اسے افسوسناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طاقت کا استعمال کسی مسئلہ کا حل نہیں۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے اسے انتہائی حظرناک واقعہ قرار دیا ہے۔ بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی اور جمعیت العلمائے اسلام کے رہنما حافظ حسین احمد نے بھی اکبر بگٹی کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس کی کھل کر مذمت نہیں کی۔ |