BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 August, 2006, 07:39 GMT 12:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواب اکبر بگٹی کی کچھ یادیں

نواب اکبر بگٹی
’مجھے صحافتی زندگی میں نواب اکبر بگٹی سے تین بار بالمشافہ ملاقت کے مواقع ملے‘
نواب اکبر بگٹی یوں تو قبائیلی سردار تھے اور ان کی نفسیات وہی تھی جو عموماً سرداروں اور وڈیروں کی ہوتی ہے، یعنی ہر وہ کام کرنا جس سے ان کی سرداری اور نوابی کو تقویت ملے۔ لیکن نجی زندگی میں وہ خاصے دلچسپ آدمی بھی تھے۔

میں ان سے بحیثیت سیاستداں تو واقف تھا لیکن مجھے اپنی صحافتی زندگی میں ان سے تین بار بالمشافہ ملاقات کے مواقع ملے اور ان ملاقاتوں کا جو مجموعی تاثر میرے ذہن پر پڑا وہ کچھ یوں تھا کہ اگر وہ بگٹی قبیلے کے سردار نہ ہوتے تو یقینی ایک انتہائی بذلہ سنج، کھلنڈرے، مردانہ ذوق وشوق کے عادی رئیس زادے ہوتے جن کی غیرموجودگی اپنے دوستوں کی محفلوں میں شدت سے محسوس کی جاتی۔

مجھے پہلی بار ان سے ملاقات کا موقع کراچی میں ملا۔ جنرل ضیاالحق کا دور تھا وہ کراچی میں ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو کے مکان میں ٹھہرے ہوئے تھے اور کچھ علیل بھی تھے، اور انہوں نے اعلان کردیا تھا کہ اردو میں اب وہ کسی سے گفتگو نہیں کریں گے، روزنامہ نوائے وقت کے چیف رپورٹر یوسف خان ان کا انٹرویو کرنے جارہے تھے تو انہوں نے مجھے بھی ساتھ لے لیا۔

 میں ان سے بحیثیت سیاستدان تو واقف تھا لیکن مجھے اپنی صحافتی زندگی میں ان سے تین بار بالمشافہ ملاقات کے مواقع ملے اور ان ملاقاتوں کا جو مجموعی تاثر میرے ذہن پر پڑا وہ کچھ یوں تھا کہ اگر وہ بگٹی قبیلے کے سردار نہ ہوتے تو یقینی ایک انتہائی بذلہ سنج، کھلنڈرے، مردانہ ذوق وشوق کے عادی رئیس زادے ہوتے جن کی غیرموجودگی اپنے دوستوں کی محفلوں میں شدت سے محسوس کی جاتی

نواب صاحب اپنے کمرے میں بستر پر لیٹے ہوئے تھے، یوسف خان نے ان سے ملاقات کا ٹائم لے رکھا تھا اس لیئے انہوں نے فوراً ہی ہم لوگوں کو کمرے میں بلا لیا۔

یوسف خان اگرچہ خود انگریزی زبان میں یدطولیٰ رکھتے ہیں لیکن طے یہ ہوا کہ وہ اردو میں ہی سوال پوچھیں گے اور میں اس کا انگریزی ترجمہ کروں گا، اس لیئے کہ یوسف خان کے نزدیک انگریزی میں سوال پوچھنا اردو سے غداری ہوتی جس کا ارتکاب کرنے سے وہ گریز کرنا چاہتے تھے۔

یہ اچھا خاصہ طویل انٹرویو تھا جس میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ آپ نے بھٹو دور میں بلوچستان کی گورنری کیوں قبول کی جبکہ بھٹو کی یہ کارروائی بلوچ قوم پرستی پر ایک ضرب تصور کی جاتی تھی ؟ نواب صاحب نے اس سوال کا جو جواب دیا اس کے الفاظ تو مجھے یاد نہیں لیکن اسکا لب لباب کچھ یوں تھا کہ نیپ والوں نے مجھ پر جو تہمتیں لگائی تھیں ان پر ردعمل کے طور پر میں یہی کرسکتا تھا اس لیئے کہ میری رگوں میں بھی بلوچ خون دوڑ رہا ہے۔

میں نہیں جانتا کہ نواب صاحب کی یہ وضاحت کس حد تک صحیح تھی لیکن یہ حقیقت ہے کہ نواب صاحب نے یہ عہدہ قبول کر کے نہ صرف نیشنل عوامی پارٹی کے کارکنوں میں بلکہ پاکستان کے صحافتی اور جمہوریت پسند حلقوں میں بھی اپنے وقار کو مجروح کیا تھا۔

بہرحال اس انٹرویو کے دوران ہی ہندوستان کے ممتاز قانوندان اور صحافی جناب اے اے نورانی پاکستان کے ممتاز صحافی جناب سلطان احمد کے ساتھ وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے بہ آواز بلند نواب صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے دریافت کیا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟ ان کا اشارہ غالباً اس زمانے کے سیاسی حالات کی جانب تھا۔ نواب صاحب نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے انگریزی میں کہا کہ بلوچستان مغرب کی طرف دیکھ رہا ہے اور باقی پاکستان مشرق کی طرف۔

میں نے نواب صاحب سے کہا کہ کیا ہم اپنے انٹرویو میں اس گفتگو کو شامل کرسکتے ہیں تو انہوں نے کہا نہیں یہ صرف باہر والوں کے لیئے ہے۔

دوسری ملاقات نواب صاحب سے کراچی کے ہوٹل میٹروپول میں ہوئی۔ اس موقع پر نواب خیر بخش مری کے کوئی بھتیجے ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، نواب صاحب ساری گفتگو میں یہ جتاتے رہے کہ وہ نواب خیر بخش مری کے بڑے مداح ہیں اور ان کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں۔اس زمانے میں جناب خیر بخش غالباً افغانستان میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے اور سیاسی حلقوں میں یہ خیال کیا جاتا تھا نواب بگٹی سے انہیں کچھ شکائیتیں ہیں۔

نواب بگٹی سے میری آخری ملاقات غالباً 1996 کے اواخر میں کوئٹہ میں ہوئی۔ میں 1997 کے انتخابات کی رپورٹنگ کے لیئے کوئٹہ گیا ہوا تھا اور نواب صاحب اتفاق سے وہاں موجود تھے، میں نے رابطہ کیا تو کہنے لگے سوال تحریری شکل میں بھیج دیں اس کے بعد میں ملاقات کا وقت دوں گا۔ اس زمانے میں کوئٹہ میں ہمارے بی بی سی کے نامہ نگار امان اللہ کانسی ہوا کرتے تھے، وہ غالباً نواب صاحب کے مزاج سے زیادہ واقف تھے انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ آپ تحریری شکل میں سوال بھیجنے سے انکار کردیں۔ چنانچہ میں نے نواب صاحب کو ٹیلی فون پر بتادیا کہ میں سوال وغیرہ تو نہیں بھیجوں گا اگر آپ یوں ہی ملاقات کے لیئے وقت نکال سکیں تو میں مشکور ہوں گا۔ تھوڑی دیر کے بعد ان کا ٹیلی فون آگیا انہوں نے مجھے سہہ پہر کی چائے پر بلایا تھا۔

میرے ساتھ امان اللہ کانسی بھی تھے، بڑی طویل گفتگو ہوئی اور اردو میں ہوئی اور نواب صاحب نے اپنی اس بیٹھک میں لگی ہوئی ان تصویروں کی تفصیل بھی بتائی جن میں وہ سولر ہیٹ پہنے ہوئے کسی زمانے میں انگریز افسروں یا مہمانوں کے ساتھے شکار کھیلتے ہو ئے دکھائی دے رہے تھے۔

کاش وہ اپنے قبیلے کے سردار ہی رہتے اور جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے سیاست کی بین الاقوامی رسہ کشی میں فریق نہ بنتے تو ان کی اس بیٹھک میں ایک اور تصویر کا اضافہ ہوسکتا تھا جس میں وہ جناب پرویز مشرف کے ساتھ شکار کھیلتے ہوئے دکھائی دیتے۔

نواب اکبر خان بگٹی بگٹی کا چھُپا ہوا روپ
عاشق مزاج، نکاح خواں اکبر بگٹی
اکبر بگٹینواب اکبر بگٹی
آخری پناہ گاہ کی تصاویر
بلوچ’بغاوت‘ کا ڈیرہ
ڈیرہ بگٹی کی صورتحال: تازہ ترین تصویریں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد