BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 August, 2006, 08:25 GMT 13:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ: کرفیو، 450 افراد گرفتار

کوئٹہ
نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کی خبر پر کوئٹہ سمیت کئی علاقوں میں ہنگامے ہوئے ہیں

نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں توڑ پھوڑ اور ہنگامے جاری ہیں بنکوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اس دوران کوئٹہ میں ساڑھے چار سو افراد گرفتار کیئے گئے ہیں۔

کوئٹہ میں ہنگاموں میں ایک انسپکٹر سمیت چھ پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے اور چار مظاہرین زخمی ہوئے ہیں جبکہ جبکہ پنجگور میں ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ کوئٹہ کے جنوب میں قلات میں پولیس نے بتایا کہ ایک سرکاری عمارت پر بم کا حملہ کیا گیا اور ٹیلی فون ایکسچینج کو نذر آتش کر دیا گیا۔وہاں سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔


کوئٹہ میں کرفیو کے باوجود ہنگامے جاری ہیں۔ شہر میں کہیں کہیں نیم فوجی دستوں کی گاڑیاں نظر آرہی ہیں جبکہ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ فوج کسی بھی وقت شہر کا کنٹرول سنبھال لے گی۔

کوئٹہ شہر کے علاقے سریاب روڈ سبزل روڈ، منو جان روڈ، عالمو چوک اور دیگر علاقوں میں توڑ پھوڑ کی جارہی ہے۔ سول ہسپتال میں ڈاکٹر عرض محمد نے بتایا ہے کہ عالمو چوک سے دو زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کو گولیوں کے زخم آئے ہیں۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ مظاہرین اور پولیس کے مابین آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے۔ بینکوں اور دکانوں سمیت کئی عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے جبکہ کل رات سے اب تک کئی گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ لوگوں نے سڑکوں پر ٹائر جلا رکھے ہیں اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی جا رہی ہے۔

ادھر صوبے کے دیگر علاقوں میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے اور بہت کم گاڑیاں سڑکوں پر نظر آرہی ہیں۔ خضدار سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی ہے اور آگ لگائی ہے۔ گوادر میں بلوچ قوم پرست جماعتوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جبکہ پسنی، تربت، پنجگور، دابندین، نوشکی، ڈیرہ مراد جمالی، ڈیرہ اللہ یار میں بھی حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ گوادر اور پسنی میں مظاہرین نے مسلم لیگ کے دفاتر اور بینکوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ نوشکی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے کئی سرکاری عمارتوں پر پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کی ہے۔مختلف علاقوں سے لوگوں نے بتایا ہے کہ انتظامیہ حالات قابوں کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

خصوصی ضمیمہ
بلوچستان باغی کیوں؟
اکبر بگٹی کی ہلاکت
حکومت کی نئی پالیسی کا پہلا نشانہ؟
بگٹی پاکستانی اخبارات
’اکبر بگٹی کا پتہ سیٹلائٹ فون سے چلا ‘
اکبر بگٹینواب اکبر بگٹی
آخری پناہ گاہ کی تصاویر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد