فوجی آپریشن میں کتنی ہلاکتیں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کے ہمراہ مارے جانے والے ان کے ساتھیوں اور فوجی کارروائی میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعداد کے بارے میں متضاد دعوے کیئے جا رہے ہیں اور اس بارے میں تاحال ابہام پایا جاتا ہے۔ فوجی ترجمان، وزیر مملکت برائے اطلاعات اور اخبارات میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکت کے متعلق متضاد دعوے سامنے آئے۔ گزشتہ رات گئے وزیر مملکت طارق عظیم نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ چودہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار مارے گئے ہیں جن میں کچھ افسر بھی شامل ہیں۔ رات گئے فوجی ترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ چوبیس سے چھبیس اگست تک سات اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں چار فوجی افسر بھی شامل ہیں لیکن ان کے عہدے ترجمان نے نہیں بتائے۔ فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ چوبیس اور پچیس اگست کو ایک مسلح جھڑپ میں سیکورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔ جبکہ ان کے مطابق چھبیس اگست کو چار افسر ہلاک اور ایک سپاہی زخمی ہوا ہے۔ انگریزی روزنامہ ڈان نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ چھ افسران سمیت سکیورٹی فورسز کے اکیس اہلکار مارے گئے ہیں۔ اس اخبار نے نواب بگٹی اور ان کے مارے جانے والے ساتھیوں کی تعداد سینتیس بتائی ہے۔ اردو روزنامہ نوائے وقت نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے چار افسران میں سپیشل سروسز، یعنی کمانڈوز کے ایک کرنل، دو میجر اور ایک کیپٹن شامل ہیں۔ اس بارے میں حقائق جاننے کے لیئے جب فوجی ترجمان، وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات اور دیگر حکام سے علحیدہ علحیدہ رابطہ کیا گیا تو وہ دستیاب نہیں ہوسکے۔ فوجی اور سول حکام اس معاملے پر فی الوقت بات کرنے سے گریزاں معلوم ہوتے ہیں۔ | اسی بارے میں بگٹی اور مینگل پر پابندی29 April, 2006 | پاکستان فوجی آپریشن بند کرنے کا مطالبہ18 June, 2006 | پاکستان مینگل کی جائیداد ضبطی کا حکم10 June, 2006 | پاکستان بلوچستان: حکومت کی ’نظرِ کرم‘26 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||