کوہلو دھماکے سے بگٹی ہلاکت تک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں فوجی کارروائی کوئی نئی بات نہیں ہے اس سے پہلے بھی یہاں اس طرح کی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے دو سال قبل کوئٹہ کے دورے کے دوران یہ تسلیم کیا تھا کہ ماضی میں بلوچستان کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں اور وہ ان زیادتیوں کی بلوچستان کے لوگوں سے معافی مانگتے ہیں۔ لیکن دو سال بعد ہی بلوچستان میں فوجی کارروائی کا آغاز یہ کہہ کر کر دیا کہ وہ بلوچستان کی ترقی چاہتے ہیں۔ نواب اکبر بگٹی دوسرے بلوچ لیڈر ہیں جنہیں پیرانہ سالی میں اس طرح مار دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے صدر ایوب کے دور میں نواب نوروز خان زرکزئی پہاڑوں پر چلے گئے تھے اور انھیں قران کے واسطے دے کر پہاڑوں سے اتارا گیا اور بعد میں انہیں گرفتار کرکے ان کے بیٹوں اور ساتھیوں کے ساتھ پھانسی دے دی گئی تھی۔ حالیہ کشیدگی لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد سے گزشتہ سال فروری میں جنسی زیادتی کے بعد ہی شروع ہو گئی تھی۔ لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد سے جنسی زیادتی کے حوالے سے فوج کے ایک کیپٹن پر الزام عائد ہوا لیکن یہ الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد سے زیادتی دو اور تین جنوری کی درمیانی شب سوئی ہسپتال کے ایریا میں ہوئی جس کے کچھ دنوں بعد سوئی میں نا معلوم افراد نے سیکیورٹی فورسز پر حملے کیے۔ دونوں جانب سے فائرنگ میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد سترہ مارچ دو ہزار پانچ کو بگٹی قبائلیوں اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے مابین جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں نواب اکبر بگٹی کے مطابق ستر سے زیادہ بےگناہ شہری جن میں خواتین اور بچے شامل تھے ہلاک ہوئے۔ سرکاری سطح پر ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں ہوئی۔ سترہ مارچ کے واقعے کی ایک وجہ لیڈی ڈاکٹر شازیہ سے جنسی زیادتی بتائی گئی تھی۔ سترہ مارچ کے واقعے کے بعد مسلم لیگ قائد اعظم کے قائدین چوہدری شجاعت حسین اور سینیٹر مشاہد حسین نے ڈیرہ بگٹی کا دورہ کیا اور نواب اکبر بگٹی سے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں ایف سی اور بگٹی مسلح قبائلیوں نے ایک دوسرے کے مد مقابل قائم کیے گئے مورچے خالی کر دیئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد نواب اکبر بگٹی بار بار یہی کہتے رہے کہ حکومت ایک بڑی فوجی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔انہوں نے بلوچ قوم پرست جماعتوں کو متحد ہو کر ایک جماعت بنانے کی دعوت دی اور کہا کہ اس کے لیئے وہ اپنی جماعت جمہوری وطن پارٹی کو تحلیل کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اس بارے میں کوئی عملی اقدام نہیں کیئے گئے اور نہ ہی بلوچ قوم پرست جماعتوں نے اس طرف کوئی توجہ دی۔ اس دوران وفاقی سطح پر بلوچستان کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی قائم کی گئی جو آئین کے تحت صوبوں کوخود مختاری دینے کے حوالے سے تھی جبکہ ایک ذیلی کمیٹی مشاہد حسین کی سربراہی میں قائم کی گئی تاکہ صوبے میں جاری حالیہ کشیدگی ختم کی جا سکے۔ اس کمیٹی سے بلوچ جماعتوں کے اراکین نے یہ کہہ کر علیحدگی اختیار کر لی کہ یہ کمیٹی کچھ بہتر نہیں کر سکتی۔ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں مبینہ فوجی کارروائی کا آغاز دسمبر دو ہزار پانچ میں اس وقت ہوا جب صدر جنرل پرویز مشرف کے کوہلو کے دورے کے دوران راکٹ داغے گئے تھے۔ اس کے بعد فرنٹیئر کور کے ایک ہیلی کاپٹر پر مبینہ طور پر فائرنگ ہوئی جس میں بتایا گیا کہ انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور اور ان کے نائب زخمی ہوئے۔ سترہ دسمبر کو کوہلو سے اطلاعات موصول ہوئیں کہ سکیورٹی فورسز نے کچھ علاقوں میں مبینہ فوجی کارروائی شروع کر دی ہے اور اس کے بعد اکتیس دسمبر کو ڈیرہ بگٹی سے اسی طرح کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ دسمبر میں مبینہ فوجی کارروائی شروع کر دی گئی جس کے بعد صوبے کے حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے۔ نواب اکبر بگٹی ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑوں پر چلے گئے اور ڈیرہ بگٹی ضلع سے تمام لوگ دوسرے علاقوں کو منتقل ہوگئے۔ حکومت نے نواب اکبر بگٹی کے مخالفین کلپر اور مسوری قبیلے کے لوگوں کو دوبارہ ڈیرہ بگٹی بلا کر آباد کر دیا جنہوں نے چوبیس اگست کو ایک جرگے میں سرداری نظام کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ جس روز جرگہ منعقد ہوا اس روز سے مسلح بگٹی قبایلیوں نے کہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے سرحدی علاقوں میں شدید حملے کیے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ بعض مقامات پر جھڑپوں میں سیکیورٹی فورسز کا جانی نقصان ہوا ہے۔ آخر کار چھبیس اگست کو یہ اطلاع ملی کہ نواب اکبر بگٹی ایک حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ بلوچستان کی ترقی کی بات تو کئی مرتبہ کی گئی لیکن مسئلہ تو جوں کا توں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||