’وہ کہتے ہیں کہ میں جھکتا نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواب اکبر بگٹی نے اب سے تقریباً ایک ماہ قبل بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ حکمران کہتے ہیں کہ جھک کر ہمیں سلیوٹ کرو اور ہتھیار ڈال دو تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ ایک ماہ قبل کیا گیا یہ انٹرویو حکومت اور بگٹی کے درمیان بڑھتی خلیج کی عکاسی کرتا ہے۔ ماضی میں بگٹی اور حکومتی نمائندوں کے درمیان مذاکرات کی خبریں بھی گرم رہیں لیکن درحققیت حکومت۔ بگٹی تنازع بڑھتا ہی چلا گیا۔ مشاہد حسین اور چوہدری شجاعت سے کیئے گئے مذاکرات کے بارے میں اکبر بگٹی نے کہا ’وہ سب بھول جائیں۔ پلیز فارگیٹ آل دیٹ نان سینس۔ وہ میرے بارے میں کہتے ہیں کہ میں جھکتا نہیں ہوں، بات نہیں مانتا، کمر ٹیڑھی نہیں کرتا۔ وہ کہتے ہیں کہ جھک کر سلیوٹ کرو اور ہتھیار ڈال دو۔ سب ٹھیک ہوجائے گا‘۔ بگٹی نے جولائی کے اوائل میں کوہلو میں کیئے گئے فوجی کریک ڈاؤن کے بارے میں بتایا تھا ’تین تاریخ کے صبح ساڑھے آٹھ بجے تین جیٹ طیارے آئے جنہوں نے براہ راست اس جگہ بمباری کی جہاں ہم تھے۔ طیارے آدھے گھنٹے تک بمباری کرتے رہے۔ جیٹ طیاروں کے بعد 19 ہیلی کاپٹر آئے جن میں سے کچھ گن شپ تھے جبکہ باقیوں نے علاقے میں ہمارے دائیں بائیں آگے پیچھے سات مختلف مقامات پر فوجی اتارے۔ ہیلی کاپٹروں سے بھی شیلنگ اور فائرنگ ہورہی تھی اور نیچے اترنے والے فوجی بھی فائرنگ کررہے تھے۔ یہ سلسلہ تمام دن چلتا رہا اور شام کے 5 بجے ہیلی کاپٹر چلے گئے لیکن زمینی فوجی موجود رہے۔ چاروں طرف سے قریباً ہماراگھیراؤ کیا جاچکا تھا۔ اس دوران ہمارے کچھ لوگ جو خفیہ راستے جانتے ہیں، ہم تک پہنچے اور فوجیوں کا گھیراؤ توڑ کر ہمیں بحفاظت وہاں سے لے گئے۔ اس سوال پر کہ فوج کا اصل ٹارگٹ کیا یا کون ہے، بگٹی نے جواب دیا ’فوج کا ٹارگٹ میں ہوں اور ایسا کیوں ہے اس کا جواب جنرل مشرف سے مانگیں۔ یہ آج سے مجھے ٹارگٹ نہیں بنارہے بلکہ گزشتہ سال 17 مارچ سے، جب ڈیرہ بگٹی پر براہ راست حملہ کیا گیا۔ گولے میرے دائیں بائیں گرے۔ جس بیٹھک میں بیٹھا تھا وہاں مجھ سے چھ فٹ کے فاصلے پر چھت ٹوڑتا ہوا گولہ گرا۔ میں معجزانہ طور پر بچ گیا‘۔ نواب اکبر بگٹی کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ وسائل اور حق حاکمیت کا ہے۔ ’وہ کہتے ہیں یہ سب چھوڑ دو تو ہم میں کوئی اختلاف کوئی جنگ نہیں‘۔ فوج کے ساتھ جھڑپ کے دوران فوجی ہلاکتوں کے بارے میں بگٹی کا کہنا تھا کہ جھڑپوں کے دوران ایک ہیلی کاپٹر گرایا گیا۔ اس میں سات لوگ تھے۔ تین ہیلی کاپٹروں کو نقصان پہنچا تھا جو سوئی تک پہنچ سکے اور کریش کرگئے۔ ’ایک ہی دن میں ہم نے 30 سے 32 ایس ایس جی کمانڈوز مار دیئے جبکہ دوسرے دن فوجی کارروائی اتنے بڑے پیمانے پر نہیں تھی لیکن تیسرے دن بڑا فوجی آپریشن کیا گیا۔ گن شپ ہیلی کاپٹر فائر کرتے رہے ۔ ہم نے پھر ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا۔ سوئی میں کئی لاشیں پہنچنے کی اطلاع تھی۔ وہاں خون ختم ہوگیا۔ وہ لوگ سوئی گیس کمپنی سے جس بگٹی کو پکرتے تھے اس سے زبردستی ایک بوتل خون نکالا جاتا تھا زخمیوں کو دینے کے لیئے۔ جہاں تک بات ہے حکومتی دعوے کی کہ ہم نے اتنے لوگ مارے ہیں وہ غلط ہے۔ ہمارا ایک بھی بگٹی نہ تو پکڑا گیا اور نہ ہی مارا گیا۔ جن نو افراد کو ہلاک کرنے کی بات ہورہی ہے وہ سب خواتین بچے یا بوڑھے ہیں ان کا تعلق مری قبیلے سے ہے‘۔ | اسی بارے میں فوجی آپریشن میں کتنی ہلاکتیں؟27 August, 2006 | پاکستان مفاہمت کا کوئی امکان نہیں: مینگل27 August, 2006 | پاکستان حکومت سے علیحدگی پر غور27 August, 2006 | پاکستان یہ ایک سانحہ ہے، سیاسی جماعتیں27 August, 2006 | پاکستان کراچی میں پرتشدد احتجاج27 August, 2006 | پاکستان کوئٹہ کے لیئے ٹرین سروس معطل27 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||