بگٹی ہلاکت -- آفاتِ ناگہانی کا اشارہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواب اکبر بگٹی کی موت شاید پاکستان کی مرکزی حکومت اور بلوچ قوم پرستوں میں برسوں سے جاری سرد گرم کشیدگی میں شدید ترین بحران کا پیش خیمہ ہے۔ اس واقعے کے ذمہ دار افراد نے دانستہ یا غیردانستہ طور پر تنازعے کو ایسا موڑ دے دیا ہے جہاں سے بلوچستان کے حالات کا معمول پر لوٹ آنا ناممکن نہیں تو از حد دشوار ضرور ہوگیا ہے۔ نواب اکبر بگٹی روایتی قبائلی سردار تھے۔ ان کے کردار کے بہت سے پہلو متنازع تھے لیکن سردار اکبر بگٹی گزشتہ بیس برس میں بلوچستان کی شناخت کا استعارہ بن گئے تھے۔ یہ درجہ کسی عہدے کا محتاج نہیں ہوتا۔ یہ کسی منطقی دلیل کا نتیجہ بھی نہیں ہوتا۔ اسے زمینی حقائق سے بھی واسطہ نہیں ہوتا۔اس کا تعلق تاریخی تناظر اور معاشرتی مکالمے کے ارتقا سے ہوتا ہے۔ سیاست محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں۔ سیاسی عمل میں حقائق اور واقعات کی اہمیت اپنی جگہ مگر اجتماعی نفسیات میں مقبولِ عام تاثر کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں کم ہی لوگوں کو یاد ہوگا کہ مشرقی پاکستان 16 دسمبر 1971 کو نہیں بلکہ 5 دسمبر 1963 ہی کو الگ ہو گیا تھا جب پاکستان کے سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی بیروت کے ہوٹل میں پُراسرار حالت میں مردہ پائے گئے تھے۔ بلوچستان اسمبلی کی موجودگی میں اس نام نہاد جرگے کے اعلانات کی کیا حیثیت ہے؟ اگر ایسے بے سر پیر کے اعلانات سے سرداری نظام ختم ہو سکتا تو ایسا ہی ایک اعلان 1976 میں سینڈک کے مقام پر جلسہ ِ عام میں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کیا تھا۔ سرداری نظام اور شرعی نظام ایسے طلسمی کبوتر ہیں جنہیں مداری کی پٹاری سے کہیں بھی برآمد کیا جا سکتا ہے۔ اس معاملے کی نزاکت پاکستان کی قومی سیاسی جماعتوں اور مرکزی قیادت سے دانشمندی اور حساس رویے کی متقاضی ہے۔ وفاقی وزیرِ مملکت برائے اطلاعات نے اکبر بگٹی کی موت کی تصدیق کرتی ہوئے انہیں دہشت گرد قرار دیا۔ ظاہر ہے کہ واقعے کے فوری بعد ایسا کہنا حکومت کی مجبوری تھی مگر جہاں قانون ساز اداروں میں دنیا بھر کے قانون شکن افراد کے لیے دعائے مغفرت کی تحریکیں پیش کی جاتی ہیں وہاں ملک کے حساس ترین صوبے سے تعلق رکھنے والے اور اعلی ترین عہدوں پر فائز رہنے والے سیاسی رہنما کے لیے دہشت گرد کے لقب سے قومی یکجہتی کو فروغ نہیں ملا۔ مستعد فضائیہ اور سیٹلائٹ تصاویر کی صلاحیت رکھنے والی پاکستانی فوج کے بارے میں کون تسلیم کرے گا کہ اسے بلوچستان کے چپے چپے پر فوجی چوکیوں کے باوجود تین روز قبل ہی اکبر بگٹی کے ٹھکانے کا علم ہوا تھا۔ خبروں کے مطابق یہ جھڑپیں 24 اگست سے شروع ہو کر 26 اگست تک جاری رہیں۔ یہ باور کرنا نہایت مشکل ہے کہ اس دوران میں فوج کو اس پناہ گاہ میں نواب اکبر بگٹی کی موجودگی کا علم نہ ہو سکا۔ آج بلوچستان میں بلوچوں کے دل اسی طرح جل اٹھے ہیں جس طرح 4 اپریل 1979 کو ہر سندھی کی آنکھ میں چنگاری سلگ اٹھی تھی۔ تب پنجاب اور دوسرے صوبے اس سانحے میں سندھیوں کے ساتھ شریک تھے۔ 2006 کا المیہ یہ ہے کہ پنجاب اور دوسرے صوبوں میں بسنے والے پاکستانیوں کو بلوچ دکھ کا پورا اِدراک نہیں ہے۔ سیاسی معاملات کا شعور پیدا کرنے کے مکلف قومی ذرائع ابلاغ جہادی کہہ مکرنیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ موجودہ سیاسی صورت حال میں غالب امکان یہی ہے کہ بلوچوں میں بے گانگی کا احساس مزید بڑھے گا اور شاید اس واقعے سے جنوبی بلوچستان میں جاری کشیدگی کا درجہ حرارت کم ہونے کی بجائے خطرے کا نشان پار کر جائے۔ مشرقی پاکستان کے قوم پرست رہنما شیخ مجیب الرحمان مارچ 1971 سے لے کر جنوری 1972 تک مغربی پاکستان میں قید رہے لیکن انہیں گزند نہیں پہنچایا گیا۔ پرویز مشرف کمانڈو وردی پہننا پسند کرتے ہیں۔ فوجی سالار کے لیے اعصابی جبلت پر مبنی فوری ردِعمل خوبی سمجھا جاتا ہے۔ سیاست ٹھنڈے دل و دماغ کا اثاثہ مانگتی ہے۔ ایک سے زیادہ اہم مواقع پر جنرل صاحب کا ردعمل ایسا رہا ہے جو درجن بھر کور کمانڈروں کے اجلاس کے لیے تو شاید موزوں ہو مگر 16 کروڑ عوام پر مشتمل ایسے وفاق کے لیے سود مند نہیں جس کی اکائیاں رقبے، آبادی، وسائل، جغرافیائی حقائق اور معاشرتی خدوخال کے اعتبار سے نہایت نازک توازن کی حامل ہیں۔ اگلے مورچوں پر لڑنے والے کمانڈر میں پہل کاری کی جو صلاحیت خوبی سمجھی جاتی ہے سیاست میں اس کے دُوررس اور غیرمتوقع نتائج برآمد ہوتے ہیں۔صدیق سالک نے 25 مارچ 1971 کی فوجی کارروائی کے ایک روز بعد ڈھاکہ یونیورسٹی کے اقبال ہال اور جگن ناتھ ہال کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھا کہ پوری قوت استعمال کرتے ہوئے ان عمارتوں کو فتح تو کر لیا گیا مگر ان کے ملبے سے اٹھنے والا بنگالی قوم پرستی کا نظریہ مسخر نہ کیا جا سکا۔ شاید یہ کام بندوقوں اور گولیوں سے کیا بھی نہیں جا سکتا۔ نواب اکبر بگٹی دبنگ شخصیت تھے۔ کھلے میدان میں میں کھڑے ہو کر لڑنا پسند کرتے تھے۔ ان میں طنطنہ بھی تھا اور برجستہ فقرے بازی کی صلاحیت بھی فراواں تھی۔ 1989 میں پنجاب کے وزیرِ اعلی نواز شریف کی دعوت پہ لاہور کے باغ جناح میں تقریر کرنے آئے تو سٹیج پہ بیٹھے پنجابی عمائدین کی طرف مڑ کر کہا ’میں کچھ کہنے نہیں، صرف پوچھنے آیا ہوں کہ کیا آپ اب بھی مجھے غدار سمجھتے ہیں۔‘ اگر اب وہ سوال کر سکتے تو شاید اسلام آباد کی طرف نیم رخ ہو کر کہتے ’وہ جنگ تم بھی نہ جیتے جو ہم نے ہاری ہے۔‘ |
اسی بارے میں بگٹی کی موت پر’سانا‘ کی مذمت27 August, 2006 | پاکستان بگٹی ہلاکت:اے این پی کی مذمت27 August, 2006 | پاکستان ’میں ڈائیلاگ کی بات کہتا رہا‘27 August, 2006 | پاکستان فوجی آپریشن میں کتنی ہلاکتیں؟27 August, 2006 | پاکستان اکبر بگٹی کی ہلاکت پر لوگ کیا کہتے ہیں27 August, 2006 | پاکستان یہ ایک سانحہ ہے، سیاسی جماعتیں27 August, 2006 | پاکستان کراچی میں پرتشدد احتجاج27 August, 2006 | پاکستان کوئٹہ کے لیئے ٹرین سروس معطل27 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||