BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 August, 2006, 21:50 GMT 02:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بگٹی ہلاکت -- آفاتِ ناگہانی کا اشارہ

نواب اکبر بگٹی قاعد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ

نواب اکبر بگٹی کی موت شاید پاکستان کی مرکزی حکومت اور بلوچ قوم پرستوں میں برسوں سے جاری سرد گرم کشیدگی میں شدید ترین بحران کا پیش خیمہ ہے۔ اس واقعے کے ذمہ دار افراد نے دانستہ یا غیردانستہ طور پر تنازعے کو ایسا موڑ دے دیا ہے جہاں سے بلوچستان کے حالات کا معمول پر لوٹ آنا ناممکن نہیں تو از حد دشوار ضرور ہوگیا ہے۔

نواب اکبر بگٹی روایتی قبائلی سردار تھے۔ ان کے کردار کے بہت سے پہلو متنازع تھے لیکن سردار اکبر بگٹی گزشتہ بیس برس میں بلوچستان کی شناخت کا استعارہ بن گئے تھے۔ یہ درجہ کسی عہدے کا محتاج نہیں ہوتا۔ یہ کسی منطقی دلیل کا نتیجہ بھی نہیں ہوتا۔ اسے زمینی حقائق سے بھی واسطہ نہیں ہوتا۔اس کا تعلق تاریخی تناظر اور معاشرتی مکالمے کے ارتقا سے ہوتا ہے۔ سیاست محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں۔ سیاسی عمل میں حقائق اور واقعات کی اہمیت اپنی جگہ مگر اجتماعی نفسیات میں مقبولِ عام تاثر کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان میں کم ہی لوگوں کو یاد ہوگا کہ مشرقی پاکستان 16 دسمبر 1971 کو نہیں بلکہ 5 دسمبر 1963 ہی کو الگ ہو گیا تھا جب پاکستان کے سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی بیروت کے ہوٹل میں پُراسرار حالت میں مردہ پائے گئے تھے۔

 حکومت کا یہ دعوی حالات و واقعات کی روشنی میں نہایت بودا ہے کہ کوہلو کی پہاڑیوں میں ہونے والی جھڑپ فوجی ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ سے شروع ہوئی۔ تین روز قبل کوئٹہ میں اکبر بگٹی کے روایتی حریف کلپر سرداروں کے اجتماع میں اکبر بگٹی کو غدار قرار دیا گیا۔ کثیرالاشاعت اخبارات میں اس اجتماع پر اداریے لکھے گئے۔ سرداری نظام کے خاتمے کا نقارہ بجایا گیا۔طُرفہ تماشا یہ ہے کہ جرگہ بذاتِ خود سرداری نظام کی علامت ہے۔ سرکاری سطح پر جرگے کی سرپرستی ریاستی عملداری سے دستبرداری کے مترادف ہے۔
حکومت کا یہ دعوی حالات و واقعات کی روشنی میں نہایت بودا ہے کہ کوہلو کی پہاڑیوں میں ہونے والی جھڑپ فوجی ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ سے شروع ہوئی۔ تین روز قبل کوئٹہ میں اکبر بگٹی کے روایتی حریف کلپر سرداروں کے اجتماع میں اکبر بگٹی کو غدار قرار دیا گیا۔ کثیرالاشاعت اخبارات میں اس اجتماع پر اداریے لکھے گئے۔ سرداری نظام کے خاتمے کا نقارہ بجایا گیا۔طُرفہ تماشا یہ ہے کہ جرگہ بذاتِ خود سرداری نظام کی علامت ہے۔ سرکاری سطح پر جرگے کی سرپرستی ریاستی عملداری سے دستبرداری کے مترادف ہے۔ حکومتی حلقوں نے اس جرگے پر داد و تحسین کے ڈونگرے تو برسائے مگر یہ نہیں بتایا کہ پاکستان کے آئین و قوانین میں کون سا حصہ سرداری نظام سے متعلق ہے۔

بلوچستان اسمبلی کی موجودگی میں اس نام نہاد جرگے کے اعلانات کی کیا حیثیت ہے؟ اگر ایسے بے سر پیر کے اعلانات سے سرداری نظام ختم ہو سکتا تو ایسا ہی ایک اعلان 1976 میں سینڈک کے مقام پر جلسہ ِ عام میں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کیا تھا۔ سرداری نظام اور شرعی نظام ایسے طلسمی کبوتر ہیں جنہیں مداری کی پٹاری سے کہیں بھی برآمد کیا جا سکتا ہے۔

اس معاملے کی نزاکت پاکستان کی قومی سیاسی جماعتوں اور مرکزی قیادت سے دانشمندی اور حساس رویے کی متقاضی ہے۔ وفاقی وزیرِ مملکت برائے اطلاعات نے اکبر بگٹی کی موت کی تصدیق کرتی ہوئے انہیں دہشت گرد قرار دیا۔ ظاہر ہے کہ واقعے کے فوری بعد ایسا کہنا حکومت کی مجبوری تھی مگر جہاں قانون ساز اداروں میں دنیا بھر کے قانون شکن افراد کے لیے دعائے مغفرت کی تحریکیں پیش کی جاتی ہیں وہاں ملک کے حساس ترین صوبے سے تعلق رکھنے والے اور اعلی ترین عہدوں پر فائز رہنے والے سیاسی رہنما کے لیے دہشت گرد کے لقب سے قومی یکجہتی کو فروغ نہیں ملا۔

مستعد فضائیہ اور سیٹلائٹ تصاویر کی صلاحیت رکھنے والی پاکستانی فوج کے بارے میں کون تسلیم کرے گا کہ اسے بلوچستان کے چپے چپے پر فوجی چوکیوں کے باوجود تین روز قبل ہی اکبر بگٹی کے ٹھکانے کا علم ہوا تھا۔ خبروں کے مطابق یہ جھڑپیں 24 اگست سے شروع ہو کر 26 اگست تک جاری رہیں۔ یہ باور کرنا نہایت مشکل ہے کہ اس دوران میں فوج کو اس پناہ گاہ میں نواب اکبر بگٹی کی موجودگی کا علم نہ ہو سکا۔

 آج بلوچستان میں بلوچوں کے دل اسی طرح جل اٹھے ہیں جس طرح 4 اپریل 1979 کو ہر سندھی کی آنکھ میں چنگاری سلگ اٹھی تھی۔ تب پنجاب اور دوسرے صوبے اس سانحے میں سندھیوں کے ساتھ شریک تھے۔ 2006 کا المیہ یہ ہے کہ پنجاب اور دوسرے صوبوں میں بسنے والے پاکستانیوں کو بلوچ دکھ کا پورا اِدراک نہیں ہے۔ سیاسی معاملات کا شعور پیدا کرنے کے مکلف قومی ذرائع ابلاغ جہادی کہہ مکرنیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔
متحدہ مجلسِ عمل جو صومالیہ سے لے وینزویلا تک ہر اہم اور غیراہم معاملے پر قوم کی سماعت کا امتحان لیتی رہی ہے اس اہم واقعے کی ْخبر کے 12 گھنٹے بعد بھی منقار زیرِ پر تھی۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو اس واقعے پر ذاتی طور پر ردعمل ظاہر کرنا چاہیے تھا۔ ان کے ردِ عمل میں تاخیر عواقب سے خالی نہیں۔ چوہدری شجاعت حسین کا بیان حسبِ توقع ڈیرہ دار مصلحت پسندی کا نمونہ رہا۔

آج بلوچستان میں بلوچوں کے دل اسی طرح جل اٹھے ہیں جس طرح 4 اپریل 1979 کو ہر سندھی کی آنکھ میں چنگاری سلگ اٹھی تھی۔ تب پنجاب اور دوسرے صوبے اس سانحے میں سندھیوں کے ساتھ شریک تھے۔ 2006 کا المیہ یہ ہے کہ پنجاب اور دوسرے صوبوں میں بسنے والے پاکستانیوں کو بلوچ دکھ کا پورا اِدراک نہیں ہے۔ سیاسی معاملات کا شعور پیدا کرنے کے مکلف قومی ذرائع ابلاغ جہادی کہہ مکرنیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔

موجودہ سیاسی صورت حال میں غالب امکان یہی ہے کہ بلوچوں میں بے گانگی کا احساس مزید بڑھے گا اور شاید اس واقعے سے جنوبی بلوچستان میں جاری کشیدگی کا درجہ حرارت کم ہونے کی بجائے خطرے کا نشان پار کر جائے۔

مشرقی پاکستان کے قوم پرست رہنما شیخ مجیب الرحمان مارچ 1971 سے لے کر جنوری 1972 تک مغربی پاکستان میں قید رہے لیکن انہیں گزند نہیں پہنچایا گیا۔ پرویز مشرف کمانڈو وردی پہننا پسند کرتے ہیں۔ فوجی سالار کے لیے اعصابی جبلت پر مبنی فوری ردِعمل خوبی سمجھا جاتا ہے۔ سیاست ٹھنڈے دل و دماغ کا اثاثہ مانگتی ہے۔ ایک سے زیادہ اہم مواقع پر جنرل صاحب کا ردعمل ایسا رہا ہے جو درجن بھر کور کمانڈروں کے اجلاس کے لیے تو شاید موزوں ہو مگر 16 کروڑ عوام پر مشتمل ایسے وفاق کے لیے سود مند نہیں جس کی اکائیاں رقبے، آبادی، وسائل، جغرافیائی حقائق اور معاشرتی خدوخال کے اعتبار سے نہایت نازک توازن کی حامل ہیں۔

اگلے مورچوں پر لڑنے والے کمانڈر میں پہل کاری کی جو صلاحیت خوبی سمجھی جاتی ہے سیاست میں اس کے دُوررس اور غیرمتوقع نتائج برآمد ہوتے ہیں۔صدیق سالک نے 25 مارچ 1971 کی فوجی کارروائی کے ایک روز بعد ڈھاکہ یونیورسٹی کے اقبال ہال اور جگن ناتھ ہال کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھا کہ پوری قوت استعمال کرتے ہوئے ان عمارتوں کو فتح تو کر لیا گیا مگر ان کے ملبے سے اٹھنے والا بنگالی قوم پرستی کا نظریہ مسخر نہ کیا جا سکا۔ شاید یہ کام بندوقوں اور گولیوں سے کیا بھی نہیں جا سکتا۔

 نواب اکبر بگٹی دبنگ شخصیت تھے۔ کھلے میدان میں میں کھڑے ہو کر لڑنا پسند کرتے تھے۔ ان میں طنطنہ بھی تھا اور برجستہ فقرے بازی کی صلاحیت بھی فراواں تھی۔ 1989 میں پنجاب کے وزیرِ اعلی نواز شریف کی دعوت پہ لاہور کے باغ جناح میں تقریر کرنے آئے تو سٹیج پہ بیٹھے پنجابی عمائدین کی طرف مڑ کر کہا ’میں کچھ کہنے نہیں، صرف پوچھنے آیا ہوں کہ کیا آپ اب بھی مجھے غدار سمجھتے ہیں۔‘ اگر اب وہ سوال کر سکتے تو شاید اسلام آباد کی طرف نیم رخ ہو کر کہتے ’وہ جنگ تم بھی نہ جیتے جو ہم نے ہاری ہے۔‘
سردار اکبر بگٹی قومی رہنما تھے۔ وہ بلوچستان کے ان عمائدین میں شامل تھے جنہوں نے بنفسِ نفیس قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا تھا۔ وہ بلوچستان کے وزیراعلی اور گورنر رہے تھے۔ 80 سالہ اکبر بگٹی بلوچ قوم پرستی کا استعارہ بن چکے تھے۔ ممتاز دولتانہ اور غوث بخش بزنجو کے بعد کتاب دوستی کے حوالے سے پاکستانی سیاستدانوں میں نایاب جنس کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کا ذاتی کردار بے داغ نہیں تھا۔ ان کا سیاسی ریکارڈ بھی قابلِ رشک نہیں تھا۔ ان کے بہت سےشخصی رویے جدید انسانی قدروں سے لگا نہیں کھاتے تھے لیکن سیاست فرشتوں کا کھیل نہیں، ممکن کی جستجو اور پُل باندھنے کی سعی کا نام ہے۔ نواب اکبر بگٹی کی پناہ گاہ پر گولہ باری سے جو سینکڑوں من وزنی پتھر لُڑکھے ہیں ان کے بوجھ تلے بہت سے موجود اور ممکنہ پل شوریدہ پانیوں کی نذر ہو گئے ہیں۔

نواب اکبر بگٹی دبنگ شخصیت تھے۔ کھلے میدان میں میں کھڑے ہو کر لڑنا پسند کرتے تھے۔ ان میں طنطنہ بھی تھا اور برجستہ فقرے بازی کی صلاحیت بھی فراواں تھی۔ 1989 میں پنجاب کے وزیرِ اعلی نواز شریف کی دعوت پہ لاہور کے باغ جناح میں تقریر کرنے آئے تو سٹیج پہ بیٹھے پنجابی عمائدین کی طرف مڑ کر کہا ’میں کچھ کہنے نہیں، صرف پوچھنے آیا ہوں کہ کیا آپ اب بھی مجھے غدار سمجھتے ہیں۔‘ اگر اب وہ سوال کر سکتے تو شاید اسلام آباد کی طرف نیم رخ ہو کر کہتے ’وہ جنگ تم بھی نہ جیتے جو ہم نے ہاری ہے۔‘

خصوصی ضمیمہ
فوجی آپریشن میں اکبر بگٹی کی ہلاکت
لیجنڈری موت
اکبر بگٹی: بھٹو کے بعد لیجنڈری موت
عطاللہ مینگلہم تھک گئے: مینگل
’مشرف کے ہوتے ہوئے مفاہمت کا امکان نہیں‘
nawaz sharif’ تاریخ کا سیاہ باب‘
نواز شریف کا کہنا ہے بگٹی کا قتل سیاہ باب ہے
بگٹیآواز خلق
بگٹی کی ہلاکت پر لوگوں کا ملاجلا ردعمل
بگٹی کے بعد
کوئٹہ میں مظاہرین کی توڑ پھوڑ، ہنگامے
بلوچبلوچ تحریکیں
بُگٹی بلوچ تحریک کاحصہ نہ تھے: آر رحمٰان
اسی بارے میں
کراچی میں پرتشدد احتجاج
27 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد