’میں ڈائیلاگ کی بات کہتا رہا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق وزیراعظم میر ظفراللہ خاں جمالی نے اکبر بگٹی کےسانحہ کو اپنا ذاتی نقصان بتایا ہے۔ انہوں نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بگٹی صاحب سیاست میں ان کے آئیڈیل تھے۔ انہوں نے کہاکہ ’یہ ہمارے لیئے بہت بڑا حادثہ ہے۔ ذاتی طور سے بھی اور قومی اعتبار سے بھی۔ نواب صاحب کو خدا بخشے۔ وہ میرے تایا، میرے ماموں اور والد کے دوست بھی تھے اور میں انہیں چاچا کہتا تھا۔ ان کی موت سے ہمیں بڑا دھچکا لگا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دور حکومت میں بار بار بلوچستان کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیئے ڈائیلاگ کی بات کرتے رہے مگر کچھ نہیں ہو سکا۔ جمالی کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک بہت بڑا معاملہ ہے اور اس کا پاکستانی سیاست میں کافی بڑا اثر ہوگا‘۔ انہوں نے سیاسی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ’ آج کراچی میں اے آر ڈی اور ایم ایم اے کا جلسہ تھا۔ اس میں انہوں نے کافی واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے۔ بگٹی کی موت کے اثرات کافی منفی ہوں گے۔ایم کیو ایم نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ تھا کہ اگر فوجی کارروائی ہوئی تو وہ سرکار سے علیحٰدہ ہو جائیں گے لیکن وہ کہہ کے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ اب تو بہت بڑا سانحہ ہوگیا ہے۔ انہیں اپنا وعدہ یاد ہونا چاہیئے۔ دیکھیئے وہ کیا کرتے ہیں۔ خدا کرے کہ انہیں اپنا وعدہ یاد آ جائے‘۔ | اسی بارے میں بگٹی کی ہلاکت پر شدید ردعمل27 August, 2006 | پاکستان بگٹی کی موت پر’سانا‘ کی مذمت27 August, 2006 | پاکستان اکبر بگٹی کی ہلاکت پر لوگ کیا کہتے ہیں27 August, 2006 | پاکستان یہ ایک سانحہ ہے، سیاسی جماعتیں27 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||