BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 August, 2006, 20:03 GMT 01:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پوتے، نواسے آگے بڑھیں گے: بگٹی

نواب اکبر بگٹی قاعد اعظم کے ساتھ
’اسی برس کا ہوجاؤں گا چند ماہ میں۔ ایک پاؤں قبر میں ہے ایک باہر تھوڑا سا جھٹکا لگا کھڑاک قبر میں۔ لیکن میرے پوتے اور نواسے میرے مشن کو آگے بڑھائیں گے اور کوئی یہ نہ سمج کہ میرے یا نواب خیر بخش مری کے مرنے سے یہ جدوجہد ختم ہوجائے گی۔‘

یہ الفاظ تھے مرحوم نواب اکبر بگٹی کے جب میں ان کا انٹرویو کرنے یکم فروری کو ڈیرہ بگٹی کے ایک پہاڑی سلسلے کی وادی میں ان سے ملا تھا۔نواب اکبر خان بگٹی سے روپوشی کے ایام میں ایک کچے چھپر میں بیٹھ کر بات چیت کی تو وہ جسمانی طور پر کمزور مگر اپنے خیالات اور نظریات میں پکے لگ رہے تھے۔
دو گھنٹے سے زائد اس ملاقات میں ان سے کھل کر باتیں ہوئیں تھیں وہ کہنے لگے کہ انہیں پتہ ہے کہ حکومت کے خلاف ان کی مسلح جھڑپوں میں کسی وقت بھی موت واقع ہوسکتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ خوفزدہ نہیں تھے۔

نواب بگٹی کے حامیوں کے پاس جدید ترین مواصلاتی نظام اور بھاری اسلحہ موجود تھا۔ ان کے کئی حامیوں کے پاس سیٹلائٹ فون بھی تھے اور انہیں سورج کی روشنی سے چارج کرنے کے آلات بھی میسر تھے۔ فروری میں ڈیرہ بگٹی ضلع کے بیشتر علاقے پر حکومتی فورسز سے زیادہ کنٹرول اکبر بگٹی کا تھا۔ چند برس قبل تک دو لاکھ کی آبادی والے ضلع ڈیرہ بگٹی کے تمام تر معاملات میں ان کا حکم حتمی سمجھا جاتا رہا۔

یہ سب کچھ قریب سے دیکھنے کے بعد اُس وقت مجھے سن چورانوے میں بلوچستان میں خاصے پڑھے جانے والے ایک اخبار روزنامہ انتخاب کے مالک ایڈیٹر انور ساجدی کی وہ بات حقیقی معنوں میں سمجھ میں آئی۔ اس میں انہوں نے ملازمت دیتے وقت کہا تھا کہ ’تین چیزوں کا خیال رکھنا اور اپنے کالم میں کبھی عدلیہ، فوج اور نواب اکبر خان بگٹی کے خلاف نہ لکھنا۔‘

ضلع ڈیرہ بگٹی کے تمام تر سرحدی اضلاع کے بڑے قبیلوں کے سرداروں کے ساتھ رشتہ داریاں رکھنے والے اکبر خان بگٹی نے ملاقات کے دوران بکرے کے شانے کی تکونی ہڈی دیکھ کر کہا تھا کہ انہیں بہت دور تک فوج ہی فوج نظر آتی ہے۔ بگٹی قبیلے میں اس طرح کی مخصوص ہڈی دیکھ کر حالات کے بارے میں پیش گوئی کرنے کی خاصی پرانی روایت ہے۔

اپنے خاندان کی کئی شادیوں میں نکاح خواں کا کردار خود ادا کرنے والے اکبر خان بگٹی گزشتہ کئی برسوں سے انسومینیا کے مرض میں مبتلا رہے اور اس وجہ سے انہیں نیند نہیں آتی تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ رات کے پچھلے پہروں تک کچہری یعنی گپیں مارنے کے شوقین تھے۔

نواب بگٹی کو ہری مرچیں بہت پسند تھیں اور وہ پاکستان کے مختلف علاقوں سمیت جنوبی امریکہ اور ہندوستان سے بھی کڑوے سے کڑوی مرچیں منگواتے تھے۔ اکھڑ مزاج اکبر خان بگٹی بہت ساری خوبیوں اور خامیوں کے امتزاج والی شخصیت کے ساتھ ساتھ عاشق مزاج بھی تھے۔ ان کے قبیلے کے مخالفین انہیں ایک بڑا ظالم شخص کہتے تھے۔

اکبر خان بگٹی اپنے قبیلے کے بعض حامیوں کے ہمراہ تقریبا آٹھ ماہ پہاڑوں پر رہے اور حکومتی فورسز کے ساتھ ان کے حامیوں کی جھڑپیں ہوتی رہیں۔ آخر کار چھبیس اگست کی شام گئے وہ پہاڑوں کی جس غار میں موجود تھے وہاں شدید بمباری کی وجہ سے وہ غار دب گئی اور وہ اس میں مارے گئے۔

واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے بلوچ شدت پسندوں کی کاروائیوں پر انتباہ کرتے ہوئے ایک بار کہا تھا کہ یہ انیس سو ستر کی دہائی نہیں کہ عسکریت پسند بلوچ پہاڑوں میں چھپ جائیں اور یہ کہ اس بار انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کہاں سے کیا چیز آ کر ان کو لگی۔

نواب محمد اکبر خان بگٹی کی اسی سالہ زندگی میں بہت سارے اتار چڑھاؤ بھی آئے لیکن بظاہر جیت ان کی رہی۔ لیکن اب کی بار صدر جنرل پرویز مشرف سے ٹکراؤ کے دوران ان کے تمام تر تجربات کے باوجود بھی ایسا لگتا ہے کہ وہ حالات کا شاید درست اندازہ نہیں کرسکے اور اس ٹکراؤ کا نتیجہ ان کی موت کی صورت میں سامنے آیا۔

کئی بلوچ قومپرست رہنماؤں کا خیال ہے کہ زندگی میں نواب بگٹی چاہے جتنے بھی متنازعہ شخصیت رہے ہوں لیکن جن حالات میں ان کی موت واقع ہوئی اس سے بلوچوں کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔

جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اکبر خان بگٹی کی موت پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر اثر انداز ہوگی اور صدر جنرل پرویز مشرف کے لیےمشکلات بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔ ان کے مطابق بگٹی کے موت سے پاکستان میں چھوٹے صوبوں اور پنجاب کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کی خلیج بھی وسیع ہوسکتی ہے۔

ایک یادگار انٹرویو
’وہ میرے بارے میں کہتے ہیں میں جھکتا نہیں‘
لیجنڈری موت
اکبر بگٹی: بھٹو کے بعد لیجنڈری موت
بگٹی کی ہلاکت
پاکستان کے لیے آفاتِ ناگہانی کا اشارہ ؟
عطاللہ مینگلہم تھک گئے: مینگل
’مشرف کے ہوتے ہوئے مفاہمت کا امکان نہیں‘
nawaz sharif’ تاریخ کا سیاہ باب‘
نواز شریف کا کہنا ہے بگٹی کا قتل سیاہ باب ہے
بگٹیآواز خلق
بگٹی کی ہلاکت پر لوگوں کا ملاجلا ردعمل
بگٹی کے بعد
کوئٹہ میں مظاہرین کی توڑ پھوڑ، ہنگامے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد