BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 August, 2006, 09:56 GMT 14:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
براہمداغ اور میر علی زندہ ہیں؟

سرکاری طور پر برہمداغ اور میر علی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا
نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمدغ بگٹی اور میر علی بگٹی کے بارے میں اطلاعات ملی ہیں کہ وہ زندہ ہیں جبکہ سرکاری سطح پر اس بارے کوئی واضح بات نہیں کی جا رہی ہے۔


مری قبیلے سے تعلق رکنے والے افراد نے بتایا ہے کہ کاہان میں ان کا رابطہ ہوا جہاں سے یہ اطلاعات ملی ہیں کہ میر بالاچ مری اور نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمدغ اور میر علی زندہ ہیں اور خیریت سے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات میں یہ کہا گیا تھا کہ نواب اکبر بگٹی کے دونوں پوتے اس کارروائی میں ان کے ساتھ ہلاک ہوگئے ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو رہی تھی۔

صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے بھی اس بارے میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کے پوتوں کے بارے میں اب تک کوئی تصدیق شدہ اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

اس کے علاوہ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے سرحدی علاقوں میں فوجی کارروائی میں دونوں جانب سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات پہنچ رہی ہیں۔ بگٹی مسلح قبائلیوں نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ تین روز سے جاری اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز کے چار افسران سمیت تیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں اور کچھ اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنھیں سبی اور سوئی ہسپتالوں میں پہنچایا گیا ہے۔

فوجی آپریشن میں دونوں طرف کی ہلاکتوں کے بارے میں متضاد خبریں ہیں

ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ صرف چھبیس اگست کو چار اہلکار اور باقی چوبیس اور پچیس اگست کی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

مسلح بگٹی قبائلیوں کی ہلاکتوں کے بارے میں بھی متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایسی معلومات ملی ہیں کہ نواب اکبر بگٹی جس غار میں موجود تھے وہاں ان کے ہمراہ پچیس سے تیس افراد موجود تھے جو فضائی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ مری قبیلے کے لوگوں نے بتایا ہے کہ چوبیس تاریخ کو فوجی کارروائی کے بعد مری قبیلے کے کوئی پچاس خاندانوں کا ایک قافلہ ترتانی سے نقل مکانی کررہا تھا جو سکیورٹی فورسز کے حملوں کی زد میں آگیا جس میں کچھ لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں لیکن اب ان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ اس قافلے میں خواتین اور بچے شامل ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ سرکاری سطح پر اس بارے میں کسی سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔

اکبر بگٹی’مسئلہ حق کا ہے‘
’ہم اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں‘
اکبر بگٹی کی ہلاکت
حکومت کی نئی پالیسی کا پہلا نشانہ؟
بگٹی پاکستانی اخبارات
’اکبر بگٹی کا پتہ سیٹلائٹ فون سے چلا ‘
لیجنڈری موت
اکبر بگٹی: بھٹو کے بعد لیجنڈری موت
اکبر بگٹینواب اکبر بگٹی
آخری پناہ گاہ کی تصاویر
اسی بارے میں
کراچی میں پرتشدد احتجاج
27 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد