حکومتی بیان ڈرامہ ہے: امان اللہ کنرانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمہوری وطن پارٹی کے سیکرٹری جنرل اور سابق سینیٹر امان اللہ کنرانی کا کہنا ہے کہ اکبر بگٹی کی ہلاکت کے حکومتی اعلان کو اڑتالیس گھنٹے گزر چکے ہیں مگر تاحال ُان کی لاش اہل خانہ کے حوالے نہیں کی گئی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ہماری قبائلی اور اسلامی روایات کے مطابق ہے کہ لاش ورثاء کے حوالے کی جائے تاکہ وہ آخری دیدار اور اس کی تدفین اپنے ہاتھوں سے کرسکیں‘۔ اس سوال پر کہ اکبر بگٹی کی لاش کے غار سے نکالے جانے کی تصدیق ہو سکی ہے یا نہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ذرائع کا کہنا ہے کہ لاش نکالنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ سارا ڈرامہ ہے کوئی غار اور کوئی سلسلہ نہیں ہے۔ اطلاع یہ ہے کہ وہاں باقاعدہ لڑائی ہوئی ہے جس میں انہوں نے نواب صاحب کو مار دیا ہے اور اطلاعات کے مطابق اب ان کی لاش دو دن سے سی ایم ایچ میں رکھی ہوئی ہے۔ ان کے بیٹے طلال اور داماد سینیٹر شاہد بگٹی نے چوہدری شجاعت حسین اور مشاہد حیسن سے لاش کے سلسلے میں متعدد بار رابطہ کیا ہے۔ وہ یقین دہانی تو کروا رہے ہیں مگر لگتا نہیں ہے کہ وہ لاش اہل خانے کے حوالے کریں۔ امان اللہ کا کہنا تھا کہ لوگ دو دن سے بگٹی ہاؤس میں بیٹھے ہوئے ہیں مگر جب تک لاش کی تدفین نہ ہو تو اس وقت تک فاتحہ خوانی نہیں ہو سکتی ہے۔ اکبر بگٹی کی نماز جنازہ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی لاش کے حصول کی کوشش تو کی جا رہی ہے تاہم اگر باڈی نہیں ملی تو ُان کی غائبانہ نماز جنازہ انتیس اگست کو گیارہ بجے نواب اکبر بگٹی کرکٹ گراؤنڈ میں ادا کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا’ ہم نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ پورے ملک سے خاص طور پر بلوچستان سے جو لوگ کوئٹہ نہیں پہنچ سکے ہیں تو اپنے اپنے مقامات پر نواب صاحب کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کریں‘۔ نواب اکبر بگٹی کے پوتوں کے بارے میں متضاد اطلاعات کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ان کا ُان لوگوں سے کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہے۔’بگٹی ہمارے سیاسی لیڈر تھے۔ وہ ہم سے سیٹلائٹ فون کی مدد سے کبھی دو دن یا ایک ہفتے کے بعد رابطہ کرتے تھے اور 23 اگست کے بعد نواب کا کسی سے رابطہ نہیں ہوا تھا جبکہ حکومت ان کی ہلاکت کا واقعہ چھبیس اگست کا بتا رہی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا’ ہم سے نواب صاحب یا ان کے خاندان کے کسی فرد کا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے تو ہمیں علم نہیں ہے کہ وہاں کون لوگ موجود تھے اور یہ واقعہ کس طرح پیش آیا ہے اور کن لوگوں نے نواب اکبر بگٹی کو’شہید‘ کیا ہے۔ حکومت کے اعلان اور کل میڈیا کے ذریعے ہی ہمیں یہ معلوم ہو رہا ہے کہ شاید نواب صاحب کے ساتھ ان کا کوئی ساتھی موجود نہیں تھا۔ یہ حکومتی اطلاعات ہیں جس پر ہم انحصار کر رہے ہیں اور اللہ کرے ایسا ہی ہو‘۔ اکبر بگٹی کے پوتوں کی ہلاکت کے بارے میں اپنے ذرائع سے کسی قسم کی تصدیق کے بارے میں امان اللہ کا کہنا تھا کہ ان کے ذرائع یہی بتا رہے ہیں کہ ان کے ساتھ سب کے سب مارے گئے ہیں اور لڑائی کی اطلاع بھی انہیں جام یوسف کی اکبر بگٹی سے ہتھیار ڈالنے کے لیئے کی جانی والی ملاقات کی مقامی اخبارات میں خبروں اشاعت کے بعد ہی پتہ چلی ہے کہ وہاں کوئی لڑائی ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی لوگوں کے بقول تمام علاقے میں کہیں کسی مقام پر کوئی غار موجود نہیں ہے۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ اتنا بڑا واقعہ ہوا ہو اور کسی کو پتہ بھی نہ چلے۔ | اسی بارے میں کوئٹہ: کرفیو، 450 افراد گرفتار27 August, 2006 | پاکستان یکم ستمبر کو ملک گیر ہڑتال27 August, 2006 | پاکستان بگٹی ہلاکت -- آفاتِ ناگہانی کا اشارہ27 August, 2006 | پاکستان کوہلو دھماکے سے بگٹی ہلاکت تک 28 August, 2006 | پاکستان بگٹی کی ہلاکت اور پاکستان کا مستقبل28 August, 2006 | پاکستان اکبر بُگٹی کے مخالفین کدھر گئے؟28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان اور سندھ میں ہڑتال28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان، سندھ میں ہڑتال، پرتشدد مظاھرے28 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||