اکبر بُگٹی کے مخالفین کدھر گئے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ایک مبینہ جھڑپ کے دوران ہلاک ہونے والے نواب اکبر خان بگٹی کے اپنے ہی قبیلے سے تعلق رکھنے والے مخالفین میر غلام قادر مسوری، وڈیرہ خان محمد کلپر اور میر احمدان بگٹی کی ڈیرہ بگٹی کے موجودہ منظر نامے سے مسلسل غیر حاضری ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ نواب بگٹی کی ہلاکت سے دو روز قبل ڈیرہ بگٹی کے جناح سٹیڈیم میں ریاستی سرپرستی میں ہونے والے نواب بگٹی مخالف اس ’جرگہ‘ میں بھی یہ تینوں قبائلی عمائدین اپنی غیر حاضری کی وجہ سے نمایاں تھے۔ نواب بگٹی کی ضلعی سیاست میں مضبوط گرفت کو چیلنج کرنے کے لیئے بیکڑ کے غلام قادر مسوری، سوئی کے امیر حمزہ کلپر اور نواب ہی کے رائجہ خاندان سے تعلق رکھنے والے میر احمدان بگٹی نے گزشتہ صدی اسی کی دہائی میں ایک سیاسی اتحاد بنایا تھا۔ قادر مسوری ضیاء دور میں مجلس شوریٰ کے رکن اور احمدان بگٹی اس وقت ضلع کونسل کے چیئرمین رہے جب کوہلو اور ڈیرہ بگٹی ایک ہی ضلع ’مری بگٹی ایجنسی‘ کا حصہ تھے جبکہ حمزہ کلپر کو بے نظیر بھٹو نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں ڈیرہ بگٹی میں پیپلز ورکس پروگرام کا انچارج بنایا تھا۔
خان محمد نے حمزہ کے قتل کا الزام نواب بگٹی پر لگاتے ہوئے قسم کھائی تھی کہ وہ انہیں (نواب) بھی ایسے ہی صدمے سے دوچار کرینگے۔ صلال بگٹی اپنے والد کو بہت پیارے تھے اور بڑے بیٹوں کی موجودگی میں نواب بگٹی انہیں اپنا جانشین کہتے تھے۔ صلال کے قتل کے بعد مبصرین کے مطابق نواب بگٹی نے قبائلی انتقام کی ایک نئی تاریخ رقم کی اور خان محمد کو اپنے قبیلے سمیت سوئی چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اسی قبائلی خونریزی کے نتیجے میں ضلعی سیاست میں نواب کے خلاف بننے والے اتحاد کے باقی دو رہنماؤں غلام قادر مسوری اور میر احمدان کو بھی اپنے وفاداروں سمیت ڈیرہ بگٹی سے نکل کر ڈیرہ غازی خان اور ملتان میں طویل عرصہ کے لیئے پردیس کاٹنا پڑا۔ ڈیرہ بگٹی میں کچھ عرصہ سے جاری مبینہ فوجی آپریشن کے نتیجے میں نواب بگٹی پہاڑوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوئے تو بے گھر کلپروں، مسوریوں اور میر احمدان سے وفادار رائجوں کو اسی طرح سرکاری سرپرستی میں ڈیرہ بگٹی واپس لے جانے کا سلسلہ شروع ہوا جس طرح پہلے نواب کی مخالفت کی وجہ سے انہیں سکیورٹی اہلکاروں کی نگرانی میں نکالا جاتا تھا۔ تاہم ابھی تک نہ تو میر غلام قادر مسوری ڈیرہ بگٹی واپس گئے ہیں اور نہ ہی وڈیرہ خان محمد کلپر۔ غلام قادر مسوری کے بارے تو ان کے اہل خانہ خاصی تشویش کا شکار ہیں۔ رابطہ کرنے پر ان کے بیٹے اور بیکڑ کے ناظم جان محمد مسوری نے بتایا کہ ان کے والد اور چھوٹے بھائی سرفراز مسوری پچھلے بائیس روز سے لاپتہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چھ اگست کے روز ایک میجر صاحب ان کے والد اور بھائی کو یہ کہہ کر ساتھ لے گئے تھے کہ ’جنرل صاحب‘ سے ملاقات کرانی ہے اور تب سے آج تک ان کا کوئی پتہ نہیں۔ جان محمد کا کہنا تھا کہ ان کے والد اور بھائی پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے والد چار ماہ تک نواب بگٹی کی ’نجی جیل‘ میں قید رہنے کے بعد پچھلے سال سترہ مارچ کے روز اس وقت فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے جب سِکیورٹی فورسز اور نواب کے لوگوں کے درمیان ایک بڑا تصادم ہوا تھا۔ جان محمد کے مطابق ان کے والد اور مسوری قبیلے نے نواب بگٹی کے ’مظالم‘ کے خلاف ایک لمبی جدوجہد کی اور قید وبند اور علاقہ بدری سمیت کئی صعوبتیں برداشت کیں ’لیکن آج حکومت بھی ہمارے ساتھ نواب کی طرح پیش آرہی ہے‘۔ جبکہ خان محمد کلپر ڈیرہ بگٹی میں ’حکومتی کامیابیوں‘ سے لاتعلق ہیں اور ان کے بارے بھی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے کہ آیا وہ آزاد ہیں یا غلام قادر مسوری کی طرح ’لاپتہ‘۔ جبکہ ڈیرہ بگٹی میں جاری آپریشن کے ذمہ داران وڈیرہ خان محمد کلپر کے پوتے جلال کلپر کو اپنے قبیلے کی شاخ کے سربراہ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ میر احمدان بگٹی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ملتان میں ہیں اور بیمار ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ بگٹی میں ہونے والے ’گرینڈ جرگہ‘ میں ان کی نمائندگی ان کے بیٹے لیاقت بگٹی نے کی تھی۔ انہوں نے غلام قادر مسوری کی گمشدگی کو ’نظر بندی‘ کا نام دیتے ہوئے کہا ’ایسے اقدامات ہی ظلم میں شمار ہوتے ہیں‘۔ میر احمدان کا کہنا تھا کہ قادر مسوری اپنے قبیلے کے مقبول رہنما ہیں اور انہیں زیادہ عرصہ اس طرح نہیں رکھا جا سکتا۔ مسوری قبیلے کے ذرائع کے مطابق ڈیرہ بگٹی میں جاری حکومتی کارروائیوں کے نگراں اہلکاروں نے غلام قادر مسوری کو دو دن کے نوٹس پر سامان باندھ کر اپنے ساتھیوں سمیت بیکڑ واپس جانے کا کہا تھا لیکن ان کی طرف سے کچھ مزید وقت مانگنے کو ’حکم عدولی‘ سمجھا گیا۔ ذرائع کے مطابق اسی لیئے اب غلام قادر مسوری کے بھتیجوں طارق اور خان محمد کو آگے لایا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں نیا بگٹی دستہ’وطن‘ کی طرف25 March, 2006 | پاکستان کڑی حفاظت میں بگٹیوں کی واپسی26 March, 2006 | پاکستان برہمداغ اور آغا شاہد کیلیے وزارتیں28 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||