BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 August, 2006, 13:04 GMT 18:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بگٹی کی ہلاکت اور پاکستان کا مستقبل

بگٹی کی ہلاکت
نواب اکبر بگٹی بلوچ تحریک کے اہم رہنما تھے
جس طرح سے بگٹی کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا ہے اس سے یہ لگتا ہے کہ وہ بلوچ قوم کے لیئے ایک ہیرو کے طور پر ابھریں گے۔ باوجود اسکے کہ اسلام آباد انہیں حکومت مخالف قبائلی سردار کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔

بگٹی اور ان کے 35 ساتھی تب ہلاک ہو گئے جب پاکستانی فضائیہ نے بھمبھور کی پہاڑیوں کے مری علاقے میں، جہاں وہ روپوش تھے، بموں سے حملہ کر دیا۔ وہ
بگٹی قبیلے کے دو لاکھ سے زائد افراد کے خاصے مقبول رہنماتھے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہےکہ بلوچ جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ کے دوران 16 فوجی بھی ہلاک ہوئے ان میں چار افسر بھی شامل ہیں۔

اناسی سالہ بگٹی آرتھرائیٹس کے سبب چلنے پھرنے م یں دشواری محسوس کرتے تھے۔

کہا جا رہا ہے کہ انہیں اسی جگہ دفن کیا جائیگا جہاں وہ روپوش تھے۔

مہینوں سے پاکستانی سیاست داں جن میں حکمراں جماعت کے لیڈر بھی شامل ہیں ،فوجی حکومت پر زور دے رہے تھے کہ وہ بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات شروع کرے تاکہ بلو چستان میں خانہ جنگی کی شکل اختیار کرتے حالات پر قابو پایا جا سکے۔

متعدد سکیورٹی ایجنسیاں اور صدر کے مشیر جن میں آئی ایس آئی اور انٹیلیجینس بیورو کے اہلکار بھی شامل ہیں، نے پرویز مشرف کو بلوچوں سے مذاکرات کرنےکا مشورہ دیا تھا۔ اس کے برعکس ملٹری انٹیلیجینس نے بلوچ رہنماؤں کو ختم کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ جن بلوچ لیڈروں کا خاتمہ کیا جانا تھا ان میں بگٹی کے علاوہ خیر بحش مری اور عطاءاللہ مینگل شامل ہیں۔

سیاست دانوں کا کہنا ہےکہ بلوچستان مسئلہ پر مشرف کی سمجھ کی کمی، دوسرے صوبوں کے مسائل کی اہمیت کو نظر انداز کرنے کے رحجانات اور گزشتہ دسمبر میں ان کے ہیلی کاپٹر پر بلوچوں کا حملہ کچھ ایسے موضوعات تھے جنہوں نے مشرف کو بگٹی کے قتل جیسے اہم فیصلے لینے میں مدد کی۔

مشرف پر الزام ہے کہ انہوں نے بلوچستان کے مسائل کو نظرانداز کیا

بگٹی بلوچستان لبریشن آرمی، جس پر پاکستان اور برطانیہ میں پابندی عائد ہے، کے لیڈر نہیں تھے بلکہ وہ یقینی طور پرگزشتہ تین برسوں سے اس کے سب سے ترجمان تھے۔

پاکستانی فوج نے بلوچوں کو تقسیم کرنے کی پوری کوشش کی۔ اس کے لیئے حکومت نےان کی حمایت کرنے والوں کو بھاری امدادی گرانٹ دینے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ دوسری طرف حکومت نے اس قدم کو سردرای نظام کو ختم کرنے کی کوشش بتاتی رہی ہے۔

بلوچ قوم پرستوں کا کہنا ہے کی اسلام آباد نے بلوچستان کے قدرتی وسائل کا خوب استعمال کیا لیکن اس کے عوض بلوچستان کو بمشکل کچھ دیا گیا۔

گزشتہ سال پاکستان مسلم لیگ بلوچستان کومراعات دینے پر راضی ہو گئی تھی جس کے تحت کچھ حد تک آئینی خود مختاری بھی شامل تھی لیکن مشرف نے اسے مسترد کر دیا تھا۔

فوج کا کہنا ہے کہ بلو چستان کی ترقی کے لیئے اربوں روپے خرچ کیئے گئے مگر گواراد پورٹ اور سرکاری عمارتوں اور کچھ شاہ راہوں کی تعمیر سے عام بلوچ کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے ۔

جتنے بھی ترقیاتی پروجیکٹ ہیں اسے قومی سلامتی کو دھیان میں رکھ کر بنایا جاتا ہے اور اس سلسلے میں بلوچستان کی اسمبلی یا وہاں کے لیڈروں سے کوئی مشورہ نہیں لیا جاتا۔ ان ترقیاتی کاموں کو باہری کمپنیوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے جو عام طور پر مقامی لوگوں کو کم ہی روزگار فراہم کرتی ہیں۔

بگٹی کی ہلاکت کے بعد مشرف نے بلوچ عوام کی دشمنی مول لے لی ہے۔ بھلے ہی بلوچ عوام ہتھیار اٹھانے میں یقین نہ کریں لیکن وہ پہلے سے ہی اسلام آباد سے ناخوش تھے کیونکہ انہیں لگتا رہا ہے کہ بلوچستان میں ترقیاتی کام نہیں کئے گئے ہیں۔

فوجی حکومت کے لیئے چھوٹے صوبوں کی قوم پرستی ہمیشہ سے ہی بڑا خطرہ رہی ہے۔1979 میں اس وقت کے فوجی حکومت کےدور میں سندھ سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعٰظم ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ اس معاملے نے سندھیوں کو فوج مخالف رویہ اختیار کرنے کا موقع دیا۔

بگٹی
بگٹی فوجی آپریشن میں ہلا ک ہو گئے

بگٹی کی ہلاکت کے ذریعہ فوج دوسرے صوبوں کے قوم پرست رہنماؤں کو واضح پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ ان سے کس طرح پیش آنا چاہتی ہے۔ دوسری طرف چھوٹے صوبوں کے قوم پر ست لیڈروں کے درمیان یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ اسکے مفاد صرف پنجاب کی ترقی سے وابستہ ہیں۔

اس معاملے کے ذریعہ فوجی حکومت اپنے پڑوسی ممالک بھارت اور افغانستان کو بھی واضح اشارہ دینا چاہتی ہے۔ پاکستان بھارت پر بلوچوں کو اقتصادی مدد کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے جبکہ افغانستان پر اس کا الزام ہے کہ بلوچوں کو وہا ں ٹریننگ دی جاتی ہے۔

بھارت اور افغانستان ایسے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

اس حادثہ کے بعد پاکستان، افغانستان اور بھارت کے اندر جاری تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

بھارت پاکستان پر لگاتار یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ کشمیری انتہا پسندوں کے علاوہ ماؤ نواز باغیوں کی مدد کرتا رہا ہے۔ دوسری طرف افغانستان کا پاکستان پر الزام رہا ہے کہ وہ طالبان کو اس کے یہاں بڑھاوا دیتا رہا ہے۔ پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ آئندہ برس ہو نے والے انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی جبکہ پرویز مشرف آئندہ پانچ سال کے لیئے صدارت اور فوج کے سربراہ جیسے دونوں اہم عہدوں پر بر قرار رہنا چاہتے ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ بگٹی کی ہلاکت پاکستان کے مستقبل کے خطروں میں اضافہ ہی کریگی۔ اس کے علاوہ اس حادثے سےمشرف کے سیاسی مخالفین کو یہ تاثر ملے گا کہ ان کےساتھ مذاکرات کے بجائے انہیں ختم کر دینے کی پالیسی ہی اپنائی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد