بلوچستان، سندھ میں ہڑتال، مظاھرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں آج نواب اکبر بگٹی کے ہلاکت کے خلاف ہڑتال ہوئی ہے۔ کاروباری مراکز اور دکانیں بند ہیں جبکہ صوبے کے ساحلی شہر پسنی میں فائرنگ سے کم سے کم دس افراد زخمی ہو گئے ہیں اور قلات میں آئل ٹینکرز تباہ کیئےگئے ہیں۔ اس کے علاوہ صوبہ سندھ کے کئی شہروں میں بھی پیر کے روز شٹربند ہڑتال کی گئی ہے جبکہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں۔ کوئٹہ کے سریاب روڈ پر نیو کاہان کے قریب مظاہرین نے احتجاج کیا ہے جس پر پولیس نے درجن بھر لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ کوئٹہ کے پولیس افسر سسلمان سید نے بتایا ہے کہ پولیس نے یہ کارروائی ان لوگوں کے خلاف کی ہے جو قانون کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ کوئٹہ میں دکانیں مارکیٹیں اور دیگر کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکوں پر گاڑیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بلوچ قوم پرست جماعتوں نے صوبہ بھر میں سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ بلوچ بار ایسوسی ایشن نے چالیس روز تک سوگ منانے کا اعلان کیا ہے جبکہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے پندرہ روز تک سوگ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبے کے دیگر اضلاع جیسے گوادر، تربت، خضدار، ڈیرہ مراد جمالی اور جھل مگسی کے علاقوں میں بھی ہڑتال ہے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پسنی میں فائرنگ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں ایک بچہ ہلاک ہو گیا ہے۔ صوبے کے شمالی علاقے جیسے لورالائی ژوب وغیرہ میں ہڑتال نہیں ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق گوادر میں مشتعل ہجوم نے نیشنل بینک کے ریجنل آفس کو آگ لگا دی جبکہ کچھ مقامات پر توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔ پسنی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر شیر جان بلوچ نے بتایا ہے کہ مظاہرین نے پسنی میں سرکاری عمارتوں بنکوں، ریستورانوں اور دکانوں کو آگ لگا دی ہے اور کئی مقامات پر توڑ پھوڑ کی ہے۔گوادر میں ایف ایم ریڈیو سٹیشن پر حملے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس نے مظاہرین کو منتشر کر دیا ہے۔ پسنی میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراو کے دوران شدید فائرنگ ہوئی ہے جس میں دس افراد زخمی ہوئے ہیں ان میں ایک کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ شیر جان بلوچ نے کہا کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی ہے اور آنسو گیس کے شیل پھینکے ہیں۔ مقامی لوگوں نے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ کوسٹ گارڈ اور انسداد دہشت گردی کی فورس کے مزید دستے پہنچ گئے ہیں۔ قلات سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ دو تیل کے ٹینکرز پر دست بم اور فائرنگ سے حملے کیے گئے ہیں جس سے ایک ٹینکر تباہ ہوگیا اور دوسرے کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ ایک دستکاری مرکز اور سرکاری عمارت پر دستی بم پھینکے گئے ہیں۔ پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے جبکہ تین مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ آج کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس نواب اکبر بگٹی کے لیے دعا کے فورا بعد ختم کر دیا گیا جس پر حزب اختلاف کے اراکین نے احتجاج اور شور شرابا کیا ہے۔ اسمبلی سے باہر آتے وقت پولیس نے نیشنل پارٹی کے سینیٹر ڈاکٹر عبدالمالک اراکین صوبائی اسمبلی جان محمد بلیدی اور رحمت بلوچ کو کوئی سو مظاہرین کے ساتھ گرفتار کر لیا تھا لیکن بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔ مری اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ سریاب روڈ پر آنسو گیس کے گولے پھینکنے سے چھ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ سندھ: کراچی کے بلوچ آبادی والے علاقے لیاری اور دیگر علاقوں میں پیر کو دوسرے روز بھی کاروبار بند ہے جبکہ احتجاجی جلوس نکالے گئے ہیں۔ جہانگیر روڈ پر جہاں اتوار کے روز رکاوٹیں کھڑی کرکے احتجاج کیا گیا تھا اور پاکستان کے جھنڈے کو نذر آتش کا گیا تھا۔ اس سلسلے میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں سندھی آبادی والے علاقوں میں کاروبار بند ہے جبکہ عوامی تحریک اور جئے سندھ قومی محاذ کی جانب سے احتجاجی جلوس نکالے گئے ہیں۔ لاڑکانہ، ٹھٹہ، شہدادکوٹ، جیکب آْباد، قبوسعید خان اور میرو خان میں کاروبار زندگی معطل ہے جبکہ ٹرئفک بھی معمول سے کم ہے۔ان شہروں سمت نصیرآباد، باڈہ اور مورو میں احتجاجی جلوس نکالے گئے ہیں جن میں شامل مظاہرین نے حکومت، پنجاب اور فوج کے خلاف شدید نعرہ بازی کی ہے۔ لاڑکانہ میں بھی، جہاں بگٹی قبیلے کی لوگوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ جلوس کے شرکاء کی پولیس کے ساتھ جھڑپ بھی ہوئی ہے۔احتجاج کا زور بلوچستان اور سندھ کے سرحدی علاقوں میں زیادہ ہیں۔ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت پر یہ سیاسی سطح پر پہلی ہڑتال ہے۔اس کے برعکس اتوار کے روز بلوچستان کے علاوہ کراچی اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں ہونے والے مظاہرے کسی سیاسی جماعت کی کال پر بلکہ عوامی سطح پر منعقد نہیں کیےگئے تھے۔
اس سے قبل اتوار کی رات بھی بلوچستان کے علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کشیدگی رہی۔ جبکہ پولیس حکام نے بتایا کہ انہوں نے لگ بھگ 500 لوگوں کو گرفتار کیا ہے جن میں بیشتر طالب علم ہیں جو مظاہروں میں پیش پیش رہے۔ |
اسی بارے میں بگٹی کی موت پر’سانا‘ کی مذمت27 August, 2006 | پاکستان یکم ستمبر کو ملک گیر ہڑتال27 August, 2006 | پاکستان فوجی آپریشن میں کتنی ہلاکتیں؟27 August, 2006 | پاکستان ’میں ڈائیلاگ کی بات کہتا رہا‘27 August, 2006 | پاکستان حکومت سے علیحدگی پر غور27 August, 2006 | پاکستان کوئٹہ کے لیئے ٹرین سروس معطل27 August, 2006 | پاکستان کراچی میں پرتشدد احتجاج27 August, 2006 | پاکستان یہ ایک سانحہ ہے، سیاسی جماعتیں27 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||