BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان اور سندھ میں ہڑتال

اتوار کے مظاہروں کے دوران 500 افراد گرفتار اور دو ہلاک ہوئے

بلوچ قوم پرست جماعتوں اور بلوچستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی اپیل پر بلوچستان میں آج نواب اکبر بگٹی کے ہلاکت کے خلاف ہڑتال ہے کاروباری مراکز اور دکانیں بند ہیں۔اس کے علاوہ صوبہ سندھ کے کئی شہروں میں بھی پیر کے روز شٹربند ہڑتال کی گئی ہے جبکہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں۔

کوئٹہ کے سریاب روڈ پر نیو کاہان کے قریب مظاہرین نے احتجاج کیا ہے جس پر پولیس نے درجن بھر لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ کوئٹہ کے پولیس افسر سسلمان سید نے بتایا ہے کہ پولیس نے یہ کارروائی ان لوگوں کے خلاف کی ہے جو قانون کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔

کوئٹہ میں دکانیں مارکیٹیں اور دیگر کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکوں پر گاڑیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بلوچ قوم پرست جماعتوں نے صوبہ بھر میں سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ بلوچ بار ایسوسی ایشن نے چالیس روز تک سوگ منانے کا اعلان کیا ہے جبکہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے پندرہ روز تک سوگ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

صوبے کے دیگر اضلاع جیسے گوادر، تربت، خضدار، ڈیرہ مراد جمالی اور جھل مگسی کے علاقوں میں بھی ہڑتال ہے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پسنی میں فائرنگ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں ایک بچہ ہلاک ہو گیا ہے۔

صوبے کے شمالی علاقے جیسے لورالائی ژوب وغیرہ میں ہڑتال نہیں ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق گوادر میں مشتعل ہجوم نے نیشنل بینک کے ریجنل آفس کو آگ لگا دی جبکہ کچھ مقامات پر توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔ ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ بعض مقامات پر فائرنگ کی گئی ہے اور پولیس نے آنسو گیس کے شیل پھینکے ہیں۔ کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

کراچی کے بلوچ آبادی والے علاقے لیاری اور دیگر علاقوں میں پیر کو دوسرے روز بھی کاروبار بند ہے جبکہ احتجاجی جلوس نکالے گئے ہیں۔

جہانگیر روڈ پر جہاں اتوار کے روز رکاوٹیں کھڑی کرکے احتجاج کیا گیا تھا اور پاکستان کے جھنڈے کو نذر آتش کا گیا تھا۔ اس سلسلے میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔

صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں سندھی آبادی والے علاقوں میں کاروبار بند ہے جبکہ عوامی تحریک اور جئے سندھ قومی محاذ کی جانب سے احتجاجی جلوس نکالے گئے ہیں۔

لاڑکانہ، ٹھٹہ، شہدادکوٹ، جیکب آْباد، قبوسعید خان اور میرو خان میں کاروبار زندگی معطل ہے جبکہ ٹرئفک بھی معمول سے کم ہے۔ان شہروں سمت نصیرآباد، باڈہ اور مورو میں احتجاجی جلوس نکالے گئے ہیں جن میں شامل مظاہرین نے حکومت، پنجاب اور فوج کے خلاف شدید نعرہ بازی کی ہے۔

لاڑکانہ میں بھی، جہاں بگٹی قبیلے کی لوگوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ جلوس کے شرکاء کی پولیس کے ساتھ جھڑپ بھی ہوئی ہے۔احتجاج کا زور بلوچستان اور سندھ کے سرحدی علاقوں میں زیادہ ہیں۔

نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت پر یہ سیاسی سطح پر پہلی ہڑتال ہے۔اس کے برعکس اتوار کے روز بلوچستان کے علاوہ کراچی اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں ہونے والے مظاہرے کسی سیاسی جماعت کی کال پر بلکہ عوامی سطح پر منعقد نہیں کیےگئے تھے۔

لگ بھگ 500 لوگ گرفتار
لگ بھگ 500 لوگوں کو گرفتار کیا ہے جن میں بیشتر طالب علم ہیں جو مظاہروں میں پیش پیش رہے۔ جبکہ دو افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
پولیس حکام

اس سے قبل اتوار کی رات بھی بلوچستان کے علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کشیدگی رہی۔ جبکہ پولیس حکام نے بتایا کہ انہوں نے لگ بھگ 500 لوگوں کو گرفتار کیا ہے جن میں بیشتر طالب علم ہیں جو مظاہروں میں پیش پیش رہے۔ جبکہ دو افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والوں میں جو بےگناہ ہیں ان کو رہا کردیا جائے گا لیکن جو لوگ توڑ پھوڑ کے واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں ان کے خلاف عدالتی کارروائی کی جائے گی۔

اتوار کو دن ڈھلتے ڈھلتے حالات کافی قابو میں آئے گئے تھے اور صورت حال کسی حد تک معمول پر آرہی تھی۔ حالات پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بعض مقامات پر پولیس نے ہوائی فائرنگ کی تھی اور کئی جگہ آنسو گیس کے شیل پھینکے۔

لیکن ہسپتالوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق زیرعلاج افراد میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں گولیاں لگی ہیں جس سے لگتا ہے کہ بعض مقامات پر آمنے سامنے گولیاں چلائی گئیں اور کوئٹہ میں دو افراد ہلاک بھی ہوئے۔

اکبر بگٹی سنیچر کو ایک فوجی آپریشن میں مارے گئے
کرفیوں میں سختی ان علاقوں میں برتی گئی جہاں مظاہرے ہوئے اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے۔ جبکہ دیگر علاقوں میں کرفیو پر سختی سے عمل نہیں کیا گیا۔اتوار کے روز مظاہروں میں زیادہ تر بینکوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور گاڑیاں نذرآتش کرنے کے واقعات پیش آئے۔

کوئٹہ میں ہنگاموں میں ایک انسپکٹر سمیت چھ پولیس اہلکار زخمی اور چار مظاہرین زخمی ہوئے ہیں جبکہ پنجگور میں ایک شخص زخمی ہوا۔ کوئٹہ کے جنوب میں قلات میں پولیس نے بتایا کہ ایک سرکاری عمارت پر بم کا حملہ کیا گیا اور ٹیلی فون ایکسچینج کو نذر آتش کر دیا گیا۔

صوبے کے دیگر علاقوں میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی اور بہت کم گاڑیاں سڑکوں پر نظر آئیں۔

خضدار سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی اور آگ لگائی ہے۔ گوادر میں بلوچ قوم پرست جماعتوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا جبکہ پسنی، تربت، پنجگور، دابندین، نوشکی، ڈیرہ مراد جمالی، ڈیرہ اللہ یار میں بھی حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔

اکبر بگٹینواب اکبر بگٹی
آخری پناہ گاہ کی تصاویر
عطاللہ مینگلہم تھک گئے: مینگل
’مشرف کے ہوتے ہوئے مفاہمت کا امکان نہیں‘
بگٹی کی ہلاکت
پاکستان کے لیے آفاتِ ناگہانی کا اشارہ ؟
بگٹیآواز خلق
بگٹی کی ہلاکت پر لوگوں کا ملاجلا ردعمل
nawaz sharif’ تاریخ کا سیاہ باب‘
نواز شریف کا کہنا ہے بگٹی کا قتل سیاہ باب ہے
بلوچبلوچ تحریکیں
بُگٹی بلوچ تحریک کاحصہ نہ تھے: آر رحمٰان
بگٹی کے بعد
کوئٹہ میں مظاہرین کی توڑ پھوڑ، ہنگامے
اسی بارے میں
یکم ستمبر کو ملک گیر ہڑتال
27 August, 2006 | پاکستان
حکومت سے علیحدگی پر غور
27 August, 2006 | پاکستان
کراچی میں پرتشدد احتجاج
27 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد