احتجاج، ہڑتال، کانفرنس کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اپوزیشن کے اتحاد برائے بحالی جمہوریت نے فوجی آپریشن میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے خلاف ملک گیر احتجاجی ہڑتال اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ اے آر ڈی کے رہنماؤں مخدوم امین فہیم، راجہ ظفر الحق اور طفر اقبال جھگڑا نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اے آر ڈی انتیس اگست کو تحریکِ عدم اعتماد کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اکبر بگٹی کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن اتحاد کے پروگرام کے مطابق تیس اگست کو ملک گیر یومِ احتجاج منایا جائے گا، اکتیس اگست کو اسلام آباد میں اکبر بگٹی کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر کل جماعتی کانفرنس منعقد ہو گی جبکہ یکم ستمبر کو ملک میں مکمل شٹر ڈاؤن ہو گا۔ یاد رہے کہ متحدہ مجلس عمل پہلے ہی یکم ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کی کال دے چکی ہے۔ دریں اثناء پاکستانی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اکبر بگٹی کا قتل پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ یہ بات دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں افغان اسمبلی میں اکبر بگٹی کے قتل پر بحث اور بھارت کی جانب سے بلوچ سردار کے قتل پر بیان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہی۔ بلوچستان کی صورت حال پر ہندوستان کی وزارت خارجہ کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی وزارتِ خارجہ کا حالیہ بیان نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان قائم اچھے تعلقات کے خلاف ہے بلکہ یہ پڑوسی ملک کے اندورنی معاملات میں کھلی مداخلت بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کا دوسرے ممالک کے عوام کے لیئے فکرمندی کا اظہار ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کو جبر اور طاقت کے استعمال کے بجائے ان علاقوں کے لوگوں کے مسائل کا سیاسی حل نکالنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کو بجائے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات پر رائے دینے کے اپنے اندورنی معاملات پر توجہ دینا چاہیے۔ یاد رہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اکبر بگٹی کی ہلاکت بلوچوں اور پاکستانی عوام کے لیئے ایک المناک نقصان ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ بلوچستان کے عوامی مسائل کے حل اور بلوچوں کی خواہشات کی تکمیل کے لیئے پُرامن مذاکرات ضروری ہیں۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری نے بھی نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع ابلاع کو جاری کردہ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اکبر بگٹی ان کے والد میاں محمود علی قصوری کے سیاسی ساتھیوں میں سے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے پر قائم پارلیمانی کمیٹی نے اس مسئلے کے حل کے لیئے انتھک کوششیں کیں اور یہ نہایت افسوسناک بات ہے کہ ان کوششوں کے باوجود یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔ |
اسی بارے میں کوہلو دھماکے سے بگٹی ہلاکت تک 28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان: اسمبلی اجلاس ملتوی 28 August, 2006 | پاکستان کوئٹہ: کرفیو، 450 افراد گرفتار27 August, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||