بلوچستان: اسمبلی اجلاس ملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پیرکو شروع ہونے کے چند منٹ بعد ہی ملتوی کردیاگیا ہے۔ اجلاس کی صدارت ڈپٹی سپیکر محمد اسلم بھوتانی کر رہے تھے۔ اجلاس شروع ہونے کے فورًا بعد حزب اختلاف کے رکن اور سابق صوبائی وزیر داخلہ سردار ثناء اللہ زہری کھڑے ہوئے اور کہا کہ نواب محمد اکبر بگٹی کی ہلا کت سے بلوچستان کے لوگ یتیم ہو چکے ہیں اور اکبر بگٹی کے ایصال ثواب کے لیئے فاتحہ خوانی کی جائے۔ اس دوران ایوان میں حزب اختلاف کے دس ارکان جبکہ مسلم لیگ کے ایک رکن حیدر جمالی موجود تھے جبکہ متحد مجلس عمل (ایم ایم اے) کا کوئی رکن ایوان میں موجود نہیں تھا۔ فاتحہ کے فوراً بعد ثناءاللہ زہری نے پوائنٹ آف آرڈر پر کھڑے ہوکر پاکستان کی مرکزی حکومت اور فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہو ئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کو ایک منصوبے کے تحت ماراگیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نواب بگٹی کے خلاف جو اسلحہ استعمال کیا گیا وہ امریکہ نے پاکستان کوعالمی دہشت گردی کے لیئے دیا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگرفوری طور پر نواب بگٹی اور ان کے ساتھیوں کی لاشیں ورثاء کے حوالے نہیں کی گئیں تو پورے صوبے میں حالات خراب ہو جائیں گے جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ اس موقع پر ارکان اسمبلی کی اکثریت نے متحدہ مجلس عمل کے اراکین کی غیرحاضری کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ متحدہ مجلس عمل نے ہمیشہ کی طرح آج بھی دوغلے پن کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ ایک طرف ایم ایم اے کی مرکزی قیادت نواب بگٹی کی ہلاکت کے بعدصوبے میں حکومت سے علیحٰدگی کی باتیں کررہی ہے تو دوسری جانب ان کے وزراء اپنی نوکریوں کی خاطر ایوان میں نہیں آئے ہیں۔ ایوان میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے خلاف حزب اختلاف کے ارکان کی جانب سے گرماگرم بحث جاری تھی کہ اچانک ڈپٹی سپیکرنے سیکریٹری اسمبلی سےصلاح ومشورہ کے بعد اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کےلیئے ملتوی کرنے کا اعلان کیا جس پر حزب اختلاف نے شدید احتجاج کیا۔ حزب اختلاف کے اراکین کا کہنا تھا کہ بلوچـستان کی موجودہ صورتحال پر بحث کے لیئے اسمبلی کا اجلاس جاری رکھا جائے تاہم سپیکر نےگورنر بلوچستان کا حکم پڑھ کر سنایا اور اجلاس غیر معینہ مدت تک کےلیئے ملتوی کردیا۔ اس دوران حزب اختلاف کےارکان ’نواب بگٹی کو سرخ سلام سرخ سلام‘ کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے حزب اختلاف کے رہنما کچکول علی ایڈوکیٹ نے کہا کہ صوبے میں گورنر نے آمرانہ نظام قائم کر رکھا ہے۔ وہ پارلیمینٹ اور جمہوریت کو اہمیت ہی نہیں دیتے۔ ہونا تویہ چاہیے تھا کہ موجودہ صورتحال پر بحث کے لیئے اسمبلی کا نیا اجلاس طلب کیا جاتا مگر گورنر نے جاری اجلاس کو ہی ملتوی کردیا تاکہ بلوچستان کی صورتحال پر بحث نہ ہوسکے اور اصل حقائق عوام کے سامنے نہ آسکیں۔ اسمبلی کے اجلاس میں ایم ایم اے کی عد م شرکت کی وضاحت کرنے ہوئے حکومت بلوچستان کےسینئر وزیر مولانا عبدالواسع کا کہنا تھا کہ کچھ ارکان تو شہر سے باہر ہیں اور باقی کوئٹہ شہر کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے ہیں۔ | اسی بارے میں کوہلو دھماکے سے بگٹی ہلاکت تک 28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان اور سندھ میں ہڑتال28 August, 2006 | پاکستان اپیل: نواب کی لاش حوالے کی جائے27 August, 2006 | پاکستان بگٹی کی ہلاکت پر شدید ردعمل27 August, 2006 | پاکستان بگٹی ہلاکت:اے این پی کی مذمت27 August, 2006 | پاکستان یکم ستمبر کو ملک گیر ہڑتال27 August, 2006 | پاکستان بلوچستان، سندھ میں ہڑتال، پرتشدد مظاھرے28 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||