اپیل: نواب کی لاش حوالے کی جائے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواب اکبر بگٹی کے خاندان کے افراد نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نواب اکبر بگٹی کا جسد خاکی ورثا کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ منگل کے روز دس بجے یہاں کوئٹہ میں ان کی نماز جنازہ ادا کر سکیں۔ جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے بتایا ہے کہ آج مسلم لیگ کے قائدین چوہدری شجاعت حسین اور مشاہد حسین کے توسط سے حکومت سے کہا گیا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کا جسد خاکی ورثا کے حوالے کیا جائے لیکن دو مرتبہ رابطے کے باوجود تاحال حکومت کے طرف سے کسی قسم کا کوئی جواب انھیں نہیں ملا۔ دریں اثنا اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے آزاد بلوچ نے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ سیکیورٹی فورسز فراریوں کے تعاقب میں تھی اور جہاں سے حملہ ہوا وہاں جوابی کارروائی میں نواب اکبر بگٹی ہلاک ہوئے ہیں بلکہ یہ سب کچھ ایک منصوبہ بندی کے تحت ہی کیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ تین روز سے پیش رفت ہو رہی تھی اور آخر کار نواب اکبر بگٹی کو مار دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ نواب اکبر بگٹی کا جسد خاکی ورثا کے حوالے نہ کیا جا سکے۔ ان سے جب دیگر افراد کے نقصان کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کسی قسم کا کوئی جواب دینے سے ان کار کر دیا ہے۔ سرکاری سطح پر کہا گیا ہے کہ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے سرحدی علاقے سے سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا گیا او اس وقت سرچ آپریشن میں مصروف تھے جس پر جوابی کارروائی کی گئی اور اس حملے میں نواب اکبر بگٹی ہلاک ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں بگٹی اور مینگل پر پابندی29 April, 2006 | پاکستان فوجی آپریشن بند کرنے کا مطالبہ18 June, 2006 | پاکستان مینگل کی جائیداد ضبطی کا حکم10 June, 2006 | پاکستان بلوچستان: حکومت کی ’نظرِ کرم‘26 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||