BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بگٹی کی ہلاکت کی تحقیقات کرائیں‘

انسانی حقوق کمیشن
انسانی حقوق کمیشن کے علاوہ دیگر نتظیموں نے بھی بگٹی کی ہلاکت کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے
پاکستان میں انسانی حقوق اورمختلف پیشوں سے وابستہ تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں جاری آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے اور بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی اور ان کے ساتھوں کی ہلاکت کے حقائق اور اسباب جاننے کے لیئے ایک آزاد اور خودمختارکمیشن قائم کیا جائے۔

انسانی حقوق، مزدور، وکلا، ماہی گیروں کی تنظیموں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں اقبال حیدر، کرامت علی اور عظمیٰ نورانی نے کراچی میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فوجی آپریشن اور خاص طور نواب اکبر بگٹی کے ہلاکت والی جگہ پر عام شہریوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافیوں کی رسائی ممکن بنائی جائے۔

انسانی حقوق اور مزدور تنظیموں کا یہ بھی کہنا تھا کہ نواب اکبر اور ان کے ساتھیوں کی لاشیں فوری طور پر ان کے ورثاء کے حوالے کی جائیں۔

انہوں نے بلوچستان سے گرفتار تمام سیاسی کارکنوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔
مختلف جماعتوں کی نمائندگی کرنے والے ان رہنماوں کا کہنا تھا کہ چوھدری شجاعت کی سربراہی میں قائم پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کو منظر عام پر لایا جائے اور بلوچستان کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔

انسانی حقوق کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں اس آپریشن سے پہلے بھی یہ ملک دو حصوں میں بٹ چکا ہے۔اگر آپریشن بند نہیں کیا گیا تو اس کے نتائج انیس سو اکہتر سے مختلف نہیں ہوں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت جب وزیرستان میں دو دو مرتبہ معاہدے کرسکتی ہے، تو پھر بلوچستان کے عوام کے نمائندوں سے کیوں نہیں معاہدے کرتی۔

اقبال حیدر نے حکمران جماعت اور اتحادیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چوھدری شجاعت حسین کہتے ہیں اکبر بگٹی ان کے محسن تھے، ظفر اللہ جمالی کا کہنا ہے کہ وہ ان کے آئیڈیل تھے،مشاہد حسین کا کہنا ہے کہ وہ ان کے دوست تھے جبکہ الطاف حسین نے اکبر بگٹی کے قتل پر سخت تنقید کی ہے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ’اگر ایسا تھا تو ان لوگوں نے اپنا اثر رسوخ کیوں نہیں استعمال کیا تا کہ بلوچستان کے مسئلے کا سیاسی حل کروایا جا سکے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد