BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 August, 2006, 13:47 GMT 18:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کچھ لوگ حل نہیں چاہتے تھے: مزاری

’ہم انگریزوں کے زمانے سے لڑتے ہوئے آئے ہیں‘
پاکستان کے بزرگ سیاستدان اور نواب اکبر بگٹی کے قریبی دوست سردار شیرباز مزاری نے کہا ہے کہ بگٹی نے ان کے کہنے پر نرمی اختیار کی تھی مگر جنرل مشرف کے کچھ قریبی لوگ معاملات حل کرنا نہیں چاہتے تھے۔

کراچی میں نواب اکبر بگٹی کے بہنوئی سردار شیرباز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا’حکمران جماعت کے رہنما چوہدری شجاعت اور مشاہد حسین سید میرے پاس آئے تھے کہ مہربانی کرکے ثالثی کریں مگر میں نے انہیں جواب دیا تھا کہ میں تمہارے لیئے نہیں مگر قوم اور ملک کی خاطر ثالثی کرنے کے لیئے تیار ہوں‘۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے بچپن کے دوست نواب اکبر نے ان کے کہنے پر نرمی اختیار کی تھی اور معاملات طے ہورہے تھے مگر مشرف کے کچھ ایسے لوگ تھے جو نہیں چاہتے تھے کہ فیصلہ ہوجائے۔

سردار شیرباز مری کا کہنا تھا’مشرف دھمکیاں دیتے ہیں کہ ہم یہ کردیں گے، ہم وہ کردیں گے۔ ہم اس قسم کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں اور نہ ہی کوئی ہمیں دھمکیوں سے ڈرا کر کنٹرول کرسکتا ہے۔ ہم انگریزوں کے زمانے سے لڑتے ہوئے آئے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں افسوس ہے کہ کہ وہ مرنے کے لیئے وہاں اکبر بگٹی کے موجود نہیں تھے۔ وہ اگر بیمار نہیں ہوتے تو نواب اکبر کے ساتھ ہوتے۔ باوجود اس کے پھر بھی میں ذہنی طور وہ ان کے ساتھ تھے۔

شیرباز مزاری کے مطابق نواب اکبر کے لڑنے کے موقف سے وہ متفق تھے کیونکہ وہ ذاتی نہیں قومی حقوق کے لیئے لڑ رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ بلوچوں کو ان کے حقوق مل جائیں۔ وہ اپنے حقوق کے لیئے لڑ رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ گوادر پورٹ بناؤ، بیشک بناؤ وہاں کے جو فوائد ہیں وہ مقامی افراد کو ملنے چاہیں‘۔

ایک سوال کے جواب میں سردار شیرباز مزاری نے کہا کہ بگٹی کی شہادت کے بعد لوگوں نے انہیں ایک ہیرو بنا دیا ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک پر ہوں گے۔

 شیر باز مزاری نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ’میں جھکوں گا نہیں‘ اور اس پر انہوں نے عمل بھی کیا۔

سردار شیر باز نے بتایا کہ اکبر بگٹی کے پوتے براہمداغ ان کی نواسی کے شوہر ہیں اور نواب اکبر نے انہیں بگٹی قبیلے کی سرداری کے لیئے نامزد کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ براہمداغ کے بارے میں کبھی کہتے ہیں کہ وہ مارا گیا ہے کبھی کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو تین ماہ سے ان کا نواب اکبر بگٹی سے کوئی رابطہ نہیں رہا تھا وہ کبھی کبھار سیٹلائٹ فون کے ذریعے ان سے رابطہ کرتے تھے۔ انہیں ٹانگ میں تکلیف تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ بھٹو اور ایوب کے دور میں بھی اُن پر الزامات لگائے گئے مگر مخالفین کو ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔

شیر باز مزاری نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ’میں جھکوں گا نہیں‘ اور اس پر انہوں نے عمل بھی کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد