’زندہ گرفتار کرنے کا حکم تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ اکبر بگٹی کو آپریشن کے دوران نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ وہ اپنی پناہ گاہ میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس اطلاع کی بھی تردید کی کہ اکبر بگٹی کی پناہ گاہ کا پتہ سیٹلائٹ فون کے سگنل کی مدد سے چلایا گیا تھا۔ بلوچستان میں کیئے جانے والے آپریشن کی تفصیل بتاتے ہوئے میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا کہ تئیس اگست کو مذکورہ علاقے سے ایک فوجی ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی گئی جس پر اگلے دن یعنی چوبیس تاریخ کو نیم فوجی دستے ہیلی کاپٹروں کی مدد سے علاقے میں اتارے گئے تاکہ ان ٹھکانوں کا پتہ چلایا جاسکے جہاں سے فائرنگ ہوئی۔ پچیس اگست کو ان فوجی دستوں نے تلاشی کے دوران سات غار دریافت کیئے اور اس دوران انہیں شدید مزاحمت اور فائرنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ چھبیس اگست کو مزید نیم فوجی دستے علاقے میں بھیجے گئے جن کے ساتھ بگٹی گائیڈز بھی تھے۔ شوکت سلطان نے بتایا کہ تلاشی کے عمل کے دوران ایک گائیڈ اس غار میں داخل ہوا جہاں اکبر بگٹی موجود تھے اور اس نے باہر آ کر ان کی موجودگی کی اطلاع دی جس پر فوجی دستے کے کمانڈنگ افسر ساتھیوں کے ہمراہ ممکنہ طور پر مذاکرات کے لیئے غار میں داخل ہو ہی رہے تھے کہ ایک دھماکے کے بعد غار بیٹھ گیا اور وہ ملبے تلے دب گئے۔ ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ فوجی افسر اپنے ساتھیوں سمیت مذاکرات کے لیئے غار میں داخل ہوئے تھے کیونکہ انہیں اکبر بگٹی کو زندہ گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ شوکت سلطان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی اور ملبے سے اب تک پانچ لاشوں کو نکالا جا سکا ہے جس میں سے دو لاشیں واقعے کے روز جبکہ تین ستائیس تاریخ کو نکالی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فوجیوں کی لاشوں کو عزت و احترام کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔ اکبر بگٹی کی لاش کی تلاش کے بارے میں میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا کہ دھماکے سے غار میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور کسی بھی غیر احتیاطی کوشش کے نتیجے میں وہ مکمل طور منہدم ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی انجینئروں نے جائے حادثہ کا مکمل سروے کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر راستہ بنانے کے لیئے دھماکہ خیز مواد یا بھاری مشینری استعمال کی گئی تو غار بیٹھ جائے گا۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ کے مطابق غار سے لاشیں نکالنے میں چار سے پانچ دن کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ غار سے ملنے والی اشیا کے متعلق بتاتے ہوئے شوکت سلطان نے کہا کہ جہاں تک غار میں رسائی ہو سکی ہے وہاں سے دس کروڑ پاکستانی روپے، چھیانوے ہزار امریکی ڈالر، دو سیٹلائٹ فون، آٹھ کلاشنکوف، راکٹ اور بھاری تعداد میں دیگر اسلحہ ملا ہے۔ اکبر بگٹی کی ہلاکت پر احتجاج اور بلوچسان میں امن و امان سے متعلق سوال پر شوکت سلطان نے کہا کہ اکبر بگٹی کا اثر و رسوخ ڈیرہ بگٹی، سوئی، کوہلو، نصیر آباد اور جعفرآباد کے علاقوں میں تھا لیکن ان علاقوں سے کسی قسم کے احتجاج اور تشدد کی اطلاعات نہیں ملی ہیں اور کوئٹہ میں بھی دو علاقوں کے علاوہ حالات مکمل طور پر پر امن اور کنٹرول میں ہیں۔ |
اسی بارے میں پوتے، نواسے آگے بڑھیں گے: بگٹی28 August, 2006 | پاکستان حکومتی بیان ڈرامہ ہے: امان اللہ کنرانی 28 August, 2006 | پاکستان احتجاج، ہڑتال، کانفرنس کا اعلان28 August, 2006 | پاکستان کوہلو دھماکے سے بگٹی ہلاکت تک 28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان اور سندھ میں ہڑتال28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان، سندھ میں ہڑتال، مظاھرے28 August, 2006 | پاکستان ’مقدمہ مشرف کے خلاف ہو گا‘28 August, 2006 | پاکستان بگٹی کے بیٹے سے حکومت کا رابطہ28 August, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||