بگٹی کے بیٹے سے حکومت کا رابطہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے نواب اکبر بگٹی کے بڑے بیٹے طلال بگٹی سے لاش کی شناخت اور وصول کرنے کے لیئے رابطہ کیاہے تاہم انہوں نے فوجی حکام کے ساتھ جاکر لاش کی شناخت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ نواب اکبر بگٹی کے بڑے بیٹے طلال بگٹی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حکمران جماعت اور چودھری شجاعت حسین اور مشاہد حسین سید نے ان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ نواب اکبر بگٹی کی لاش مل گئی ہے اور اس کی شناخت ہوگئی ہے، وہ مری علاقے میں کسی پہاڑ کی چٹان کے نیچے ہے۔ طلال بگٹی کے مطابق انہوں نے حکمران جماعت کے رہنماؤں سے سوال کیا کہ اگر نواب اکبر کی لاش چٹان کے نیچے ہے تو ان کو کیسے علم ہے کہ اس کے نیچے لاش پڑی ہے، جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جیسے ان کو وہاں سے اطلاع مل رہی ہیں وہ وہی بات بتا رہے ہیں ، وہ اس کے عینی گواہ نہیں ہیں۔ طلال بگٹی نے بتایا کہ شجاعت حسین اور مشاہد حسین نے میرا پروگرام معلوم کیا میں نے انہیں بتایا کہ میں گزشتہ روز کوئٹہ آنا چاہتا تھا مگر میری فلائٹ منسوخ ہوگئی اور آج ٹکٹ دستیاب نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے شجاعت حسین پیشکش کی کہ ہم دو ہیلی کاپٹروں کا بندوبست کرتے ہیں، آپ فوجیوں کے ساتھ جائیں اور وہاں شناخت کرکے لاش اٹھائیں، پھر آپ کی مرضی ہے کہ جہاں دفنائیں طلال بگٹی کے مطابق میں نے یہ پیشکش رد کردی ہے۔ طلال بگٹی کا کہنا تھا کہ یہ میرا نہیں پوری بلوچ قوم کا مسئلہ ہے، میں اکیلا فیصلہ نہیں کرسکتا ہوں نواب اکبر بگٹی میرے اکیلے کے نہیں پورے بلوچستان کے بابا ہیں۔ سیاسی جانیشن طلال بگٹی نے نواب اکبر کی سیاسی جانشینی کے بارے میں بتایا کہ میں نے سیاست میں حصہ نہیں لیا ہے کیونکہ بڑے بھائی اور نواب صاحب تھے مجھ ایسا کوئی موقع نہیں ملا تھا کہ میں سیاست میں آتا۔ انہوں نے کہا کہ جب میں بلوچستان پہنچوںگا بلوچ قوم ،اپنی پارٹی اور اے آرڈی والوں سے مل کر یہ فیصلہ کرینگے کہ کون سیاسی وارث بنے گا۔ بگٹی قبیلے کی سرداری سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواب اکبر کا سب سے بڑا بیٹا میں رہ گیا ہوں یہ جو میرے بھتیجے ہیں، خدا کرے وہ حیات ہوں ہم آپس میں مل بیٹھ کر فیصلہ کرینگے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خاندانی روایت یہ ہے کہ سب سے بڑا بیٹا گدی نشین ہوتا ہے۔ مگر وقت کا سردار اس بات کا مجاز ہے کہ جس بیٹے کے سر پر چاہے پگ باندھے۔ ’اگر نواب صاحب حیات ہوتے تو ان کی مرضی ہوتے۔ اب اگر وہ نہیں رہے تو بڑے بیٹے کے ناتے یہ پگ میرے سر پر آئیگی۔‘ حکومت سے مفاہمت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اگر میں نے ایسا کیا تو میرے نام پر ایک دھبہ ہوگا۔ مجھ ان کے مشن کو آگے بڑھانا ہے۔ | اسی بارے میں کوہلو دھماکے سے بگٹی ہلاکت تک 28 August, 2006 | پاکستان بگٹی کی ہلاکت اور پاکستان کا مستقبل28 August, 2006 | پاکستان اکبر بُگٹی کے مخالفین کدھر گئے؟28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان، سندھ میں ہڑتال، پرتشدد مظاھرے28 August, 2006 | پاکستان ’مقدمہ مشرف کے خلاف ہو گا‘28 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||