بگٹی، ساتھیوں کی لاشوں کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کی چار سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر نواب اکبر بگٹی اور ان کے ساتھیوں کی لاشیں ان کے ورثاء حوالے کی جائیں ورنہ صوبے بھر میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ بات اتحاد کے اجلاس کے بعد نیوز بریفنگ میں ڈاکر عبدالحئی بلوچ، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اختر جان مینگل، حاصل بزنجو اور سردار ثناء اللہ زہری نے کہی اور اعلان کیا کہ بدھ تیس اگست کو بلوچستان بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فوجی حکمرانوں نے بلوچستان کے قومپرست رہنماؤں کی ایک فہرست بنائی ہے اور باری باری انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بھی بنا رکھا ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے ایسا خدشہ ایک ماہ قبل ظاہر کیا تھا اور اب نواب اکبر بگٹی کے قتل سے اس کی شروعات ہوچکی ہے۔ سابق صوبائی وزیر داخلہ سردار ثناء اللہ زہری نے کہا کہ جب چاغی میں جوہری بم کا تجربہ کیا گیا تھا اس وقت پہاڑ کو کچھ نہیں ہوا تو اب کیسے ممکن ہے کہ فائرنگ سے غار دب گیا؟ انہوں نے کہا کہ اگر نواب اکبر بگٹی کے غار والا پہاڑ دبنے کو درست مان لیا جائے تو اس سے لگتا ہے کہ حکومت نے فوجی آپریشن میں لیزر گائیڈڈ میزائیل اور بھاری بمباری کی ہے جس سے پہاڑ دب گیا ہے۔ سردار زہری نے خدشہ ظاہر کیا کہ نواب بگٹی کی لاش اس لیئے ورثا کے حوالے نہیں کی جارہی کیونکہ پوسٹ مارٹم سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سمیت کسی بھی بڑے انکشاف کا امکان ہے۔ جب اختر جان مینگل سے پوچھا گیا کہ صوبے کے بعض علاقوں میں غیر بلوچ اور خاص کر پنجابی زبان بولنے والے بعض افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے تو اختر مینگل نے کہا کہ اگر فوجی آپریشن بند نہیں ہوا اور بلوچستان کے وسائل پر صوبے کا حق مالکیت تسلیم نہیں کیا گیا تو ایسے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان سے ایک اور سوال میں پوچھا گیا کہ جب نواب اکبر بگٹی زندہ تھے اور وہ چار جماعتی اتحاد کو ایک پارٹی بنانے کا کہتے رہے اور بعد میں مسلح ہوکر پہاڑ بسانے کے بعد اس اتحاد کو ایسی ترغیب دیتے رہے تو اس وقت ان کی بات پر عمل کیوں نہیں کیا گیاآ اس پر انہوں نے کہا کہ جب ایک جماعت بنانے پر پیش رفت ہوئی تو حکومت نے ڈیرہ بگٹی کے حالات خراب کیئے اور اس تجویز پر عمل نہیں ہوسکا۔ مینگل کے مطابق جہاں تک ہتھیار اٹھانے کی بات ہے تو جس کی حیثیت تھی انہوں نے ایسا کیا اور ان کی جماعت نے کسی کو ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اپنا سیاسی کردار ادا کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اختر مینگل نے اس موقع پر فوج اور عدلیہ پر انتہائی سخت الفاظ میں تنقید کی۔ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے بارے میں ایک سوال پر ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے کہا کہ وہ اس بارے میں تیار ہیں اور حتمی فیصلہ ملکی سطح پر بڑی سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے کریں گے۔ سینیٹر عبدالمالک نے بتایا کہ تاحال ان کے اتحاد کے چھ سو کارکن گزشتہ تین روز کے اندر گرفتار کیئے گئے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز نے دو کارکنوں کو قتل اور بیس کو زخمی کیا ہے۔ |
اسی بارے میں پوتے، نواسے آگے بڑھیں گے: بگٹی28 August, 2006 | پاکستان حکومتی بیان ڈرامہ ہے: امان اللہ کنرانی 28 August, 2006 | پاکستان احتجاج، ہڑتال، کانفرنس کا اعلان28 August, 2006 | پاکستان کوہلو دھماکے سے بگٹی ہلاکت تک 28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان اور سندھ میں ہڑتال28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان، سندھ میں ہڑتال، مظاھرے28 August, 2006 | پاکستان ’مقدمہ مشرف کے خلاف ہو گا‘28 August, 2006 | پاکستان بگٹی کے بیٹے سے حکومت کا رابطہ28 August, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||