بگٹی کی میت پر اٹھتے سوالات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چار دن پہلے فوجی کارروائی میں ہلاک ہونے والے بلوچ سیاستدان اکبر بگٹی کی میت کیا ان کے ورثا کے حوالہ کردی جائے گی یا اسے چند رشتے داروں کی موجودگی میں خاموشی سے دفن کردیا جائے گا ؟ یا وہ غائب ہوجائے گی؟ اکبر بگتی کی میت سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے جس سے ان کی ہلاکت کے حالات و واقعات کے بارے میں سرکاری دعوؤں کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہورہے ہیں۔ اس واقعہ کے تین دن بعد فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے پریس کانفرنس میں پہلی بار سرکاری موقف تفصیل سے بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اکبر بگٹی پہاڑ میں بنی ہوئی غار کے منہدم ہونے پر اس میں دب جانے کے باعث ہلاک ہوئے اوران کی لاش ملبہ تلے دبی ہوئی ہے۔ فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ اس ملبہ کو ہٹانے میں چند دن لگ سکتے ہیں اور یہ کہ جس کچے پہاڑ میں غار بنی ہوئی ہے اس کا مزید ملبہ گرنے کا خدشہ ہے۔ اکبر بگتی کے ساتھ ان کے پچیس تیس ساتھی ہلاک ہوئے ہیں اب تک ان کی لاشوں کا بھی کوئی تذکرہ نہیں ہوا کہ ان میں سے کتنے لوگوں کی میتیں برآمد ہوئی ہیں، ان کی شناخت کیا ہے اور ان کے ورثاء کو یہ میتیں کب دی جائیں گی یا نہیں دی جائیں گی۔ یہ سوالات ابھی جواب طلب ہیں۔ دوسری طرف فوجی کاروائی میں ہلاک ہونے والے فوجی کرنل، میجر سمیت سات فوجی اہلکاروں کی لاشیں نہ صرف برآمد کر لی گئی ہیں بلکہ ان کی تدفین بھی کردی گئی ہے۔ اس کی توجیہ یہ بتائی گئی کہ وہ غار میں داخل ہوتے ہوئے ہلاک ہوئے اس لیئے ان کی لاشیں شروع میں ہی موجود تھیں جنہیں نکالنا آسان تھا۔ یہ بات بہرحال شبہات کا باعث ہے کہ فوج کو اکبر بگٹی کی غار سے کروڑوں روپے کی پاکستانی اور امریکی کرنسی، دو سیٹلائیٹ فون اور اسلحہ کا ڈھیر تو مل گیا لیکن لاش اب تک نہیں نکالی جاسکی۔ کیا یہ سب چیزیں ملبہ کےنیچے نہیں دبی تھیں اور غار کے آگے ہی رکھی ہوئی تھیں؟ دوسری طرف، مسلم لیگ (نواز) کے رہنما راجہ ظفرالحق نے، جو جنرل ضیاالحق کے دور میں وزیر اطلاعات رہ چکے ہیں، اسلام آباد میں سوموار کو ایک پریس کانفرنس کے دوران میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ اکبر بگٹی کی لاش حکومت کے پاس ہے۔ بگٹی کے قریبی عزیز اور ڈیرہ غازی خان کے بلوچ سردار شیر باز خان مزاری نے بھی سوموار کو یہ دعویٰ کیا کہ اکبر بگٹی کی لاش اسلام آباد میں موجود ہے۔ ان سے یہ بیان بھی منسوب کیا گیا کہ حکومت ان کی لاش کو اس لیے ورثاء کے حوالہ نہیں کر رہی کہ اسے عوامی ردعمل کا ڈر ہے۔
شیر باز مزاری نےاپنے جاری کیےگئے تحریری بیان میں صدر جنرل پرویز مشرف کو للکارتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے جسم میں کوئی عزت دار ہڈی ہے تو وہ اکبر بگٹی کی لاش ان کے ورثا کے حوالہ کردیں۔ یہ شکوک بھی ہیں کہ شاید اکبر بگٹی کی ہلاکت اس طرح نہیں ہوئی جیسے حکومت دعویٰ کررہی ہے اور وہ کچھ چھپانے کے لیئے ان کی لاش سامنے لانے سے گریزاں ہے کیونکہ جسم کے مشاہدے سے خاصی باتوں کی تصدیق یا تردید ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف اکبر بگٹی کےمخالف دھڑے اور سرکاری سرپرستی میں ڈیرہ بگٹی میں دوبارہ آباد کیے جانے والے کلپر بگٹیوں کے جرگہ نے منگل کو اعلان کیا کہ اکبر بگٹی کی تدفین ڈیرہ بگٹی میں کی جا سکتی ہے لیکن اس میں ان کے صرف دو ورثاء شریک ہوسکتے ہیں۔ چوبیس اگست کو اکبر بگٹی کے مخالف بگٹیوں کے جرگہ نے انہیں نواب کے منصب سے ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے قومی مجرم قرار دیا تھا۔ اس اعلان کے دو دن بعد، چھبیس اگست کو حکومت نے اعلان کردیا کہ اکبر بگٹی فوجی کارروائی میں ہلاک ہوگئے۔ ان دونوں واقعات کا یکے بعد دیگرے ہونا معنی خیز ہے۔ اکبر بگٹی کے مخالف اورحکومت کے حامی جرگہ کے اعلان کے بعد کیا یہ نتیجہ اخذ کیا جانا چاہیے کہ حکومت بالواسطہ طور پر یہ پیغام دے رہی ہے کہ اکبر بگٹی کی لاش تدفین کے لیئے اسی صورت میں حوالہ کی جائے گی جب ان کے ورثاء اسے سیاسی اجتماع نہ بنائیں اور خاموشی سے اسے دفن کر دیں۔ جب جنرل ضیاءالحق کے دور میں سابق سندھی وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی تو ان کی لاش ہیلی کاپٹر میں لاڑکانہ میں گڑھی خدا بخش لے جائی گئی۔ ان کے کزن اور سابق وزیراعلی سندھ ممتاز بھٹو سمیت بھٹو خاندان کے چند افراد نےمیت وصول کرکے فوجی حکام کی خواہش کے حکم کے مطابق اسے خاموشی سے دفن کردیا تھا۔ ضیاالحق کے دور میں سیاست پر سخت پابندیاں عائد تھیں، آئین معطل تھا، ملک میں مارشل لا نافذ تھا اور پریس پر سنسر شپ تھی۔ آج حالات مختلف ہیں۔ ملک میں جیسا تیسا ایک آئین ہے۔ پارلیمنٹ کام کر رہی ہے۔ میڈیا آزاد ہے۔ ایسی صورت میں کیا حکومت اس بات کا بندوبست کرسکے گی کہ اکبر بگٹی کی میت خاموشی سے دفن کردی جائے۔اگر اکبر بگٹی کے ورثاء اس بات پر رضامند نہ ہوئے جس کی خبریں اخباروں میں شائع ہورہی ہیں تو کیا ان کی میت ایسے غائب ہوجائے گی جیسے انگریزوں کے خلاف لڑنے والے پیر پگارو کے والد اور حروں کے مرشد پیر صبغت اللہ کی میت کے ساتھ ہوا تھا یا کوہلو کی جس غار میں حکومت کے بقول اکبر بگٹی اور ان کے ساتھی ہلاک ہوئے وہ ان سب کی اجتماعی قبر قرار دے دی جائے گی۔ اصل صورتحال تو چند روز بعد واضح ہوگی۔ تاہم اکبر بگٹی کی لاش ان کی ہلاکت سے بھی بڑا معمہ بنتی جا رہی ہے۔ مرنے کے بعد بھی اکبر بگٹی کو سنبھالنا حکومت کے لیے کم سے کم اتنا ہی مشکل نظر آرہا ہے جتنا ان کی زندگی میں تھا۔ |
اسی بارے میں حکومتی بیان ڈرامہ ہے: امان اللہ کنرانی 28 August, 2006 | پاکستان اکبر بُگٹی کے مخالفین کدھر گئے؟28 August, 2006 | پاکستان بگٹی، ساتھیوں کی لاشوں کا مطالبہ29 August, 2006 | پاکستان بگٹی کی ہلاکت کے اثرات 29 August, 2006 | پاکستان ’زندہ گرفتار کرنے کا حکم تھا‘29 August, 2006 | پاکستان بلوچستان: تمام شاہراہیں بند، سات سو گرفتار30 August, 2006 | پاکستان ’مقدمہ مشرف کے خلاف ہو گا‘28 August, 2006 | پاکستان اکبر بگٹی کی ہلاکت پر لوگ کیا کہتے ہیں27 August, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||