بگٹی کی ہلاکت کے اثرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’وہ ظالم تھے، جابر تھے، کینہ پرور تھے، جلد غصے میں آنے والے تھے۔ وہ اپنے لوگوں کے خیرخواہ نہیں تھے، اپنے عوام کے نام پر حکومت سے ہر سال کروڑوں روپے لے کر اپنی جیب میں ڈالتے تھے، اپنے لوگوں کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھنا چاہتے تھے۔ وہ گرم مزاج تھے لیکن سیاست میں مستقل مزاج نہیں تھے۔‘ غرض یہ کہ اکبر بگٹی پر ان کی شخصیت سے متعلق الزامات کی بھرمار ہے۔ لیکن ان سب الزامات کے سائے میں نواب اکبر بگٹی کی شخصیت کے چند مثبت پہلو بھی تھے۔ ان سے چند ملاقاتوں میں ہی معلوم ہوا کہ اس ’آئرن مین‘ میں کچھ ایسا بھی تھا جو شاید کسی اور میں نہیں۔ ان کا میچ بلوچستان تو کیا پاکستانی سیاست میں ملنا مشکل ہے۔
بنیادی طور پر وہ مجلس کے شوقین تھے۔ کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ میں وہ اکثر ایک ایک دو دو کرکے مقامی صحافیوں کو کھانے پر مدعو کرتے اور رات گئے تک طویل بحث اور مباحثے منعقد کرتے۔ یاد آیا کئی صحافی خود بھی بغیر کسی روک ٹوک کے چلے جایا کرتے تھے۔ صحافی بھی ان سے اس مجلس سے کچھ نہ کچھ سیکھ کر لوٹتے تھے۔ جب کوئٹہ سے سن ننانوے میں وہ اپنے آبائی قصبے ڈیرہ بگٹی پہنچے تو یہ مجلسیں قدرتی طور پر کم پڑ گئیں لیکن ہوتی ضرور رہیں۔ کبھی کبھی کوئٹہ کے صحافی ایک گروپ کی شکل میں ان کے پاس جاتے اور ایک دو رات کے قیام کے دوران سیاست سے لے کر تقریباً ہر موضوع پر خوب بحث ہوتی۔ اگر بحث کوئی زیادہ دلچسپ نہ رہتی تو مرحوم کبھی کبھی صحافیوں کا خصوصاً انگریزی زبان کے صحافیوں کا امتحان بھی لے لیا کرتے تھے۔ کسی لفظ کا معنی پوچھ لینا وغیرہ وغیرہ۔ ان کو شاید سیکھانے کا بہت شوق تھا کہ ایک مرتبہ تو انہوں نے کوئٹہ پریس کلب کو ایک ڈکشنری بھی بطور تحفہ دی۔ ان کی خصوصیت کسی بھی انسان کو پہلی ملاقات میں پوری طرح سے جانچنے کی ان کی مہارت تھی۔ وہ پھر اس شخص سے گفتگو اسی کی سطح پر آ کر کیا کرتے تھے۔
اس کی وجہ ان کا حکومت پر سکیورٹی کے معملے میں اعتبار نہ کرنا تھا۔ حکومت انہیں اپنے محافظوں کے ساتھ کوئٹہ آنے نہیں دیتی تھی اور وہ حکومت کی سکیورٹی کے تحت وہاں جانا نہیں چاہتے تھے۔ ڈیرہ اللہ یار سے نواب صاحب کے آدمیوں نے کسی خفیہ مگر کمر توڑ راستے سے ان تک پہنچا دیا۔ ان کے پاس دو روز تک قیام کیا، روایتی کھانے کھائے، گپ شپ لگائی اور انٹرویو کیا۔ اس بات چیت میں معلوم ہوا کہ ان کی صحت کافی خراب رہنے لگی ہے۔ ایک ٹانگ میں گردش خون میں رکاوٹ کی وجہ سے وہ چھڑی کے بغیر چل پھر نہیں سکتے تھے۔ بعد میں جب روانگی کی اجازت طلب کی تو نواب اکبر خان بگٹی نے جواب میں کہا: ’ارے آپ وار کارسپانڈینٹ کہا چل دیے۔ ابھی تو جنگ شروع ہی نہیں ہوئی۔‘ اب محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت انہیں ایک جنگ کا پورا یقین تھا۔ ایسی جنگ جو ان کی تو آخری ہوگی لیکن بلوچستان کی شاید آخری نہ ہو۔ دس بارہ اخبار وہ روزانہ پڑھتے تھے، ٹی وی تھوڑا سے دیکھا نہ دیکھا لیکن گپ شپ ضرور تھی۔ ان کے مہمان خانے پر مجلس ضروری تھی۔ کسی کے ڈیرہ بگٹی آنے پر وہ کِھل جاتے تھے ورنہ اکیلے قدرے تنگ ہوتے تھے۔ ویسے انہیں مصروف رکھنے کے لیے ان کے قبیلے کے تنازعات اور دیگر مسائل بھی کافی تھے۔ ان کی ہلاکت کے بلوچستان کی بحرانوں سے اٹی سیاست پر منفی اثرات ضرور مرتب ہوں گے۔ بلوچستان خصوصاً دارالحکومت کوئٹہ پر اس کے اثرات پہلے بھی تھے لیکن اب زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آنے کا خدشہ ہے۔ کوئٹہ میں برس ہا برس سے مقیم پنجابی اور سیٹلرز پہلے ہی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ سنا ہے اب راہ چلتے لوگوں سے پوچھا جانے لگا ہے کہ ان کا تعلق کہاں سے ہے۔ |
اسی بارے میں کوئٹہ کے لیئے ٹرین سروس معطل27 August, 2006 | پاکستان کوہلو دھماکے سے بگٹی ہلاکت تک 28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان: اسمبلی اجلاس ملتوی 28 August, 2006 | پاکستان پورے بلوچستان میں 144 نافذ28 August, 2006 | پاکستان ’مقدمہ مشرف کے خلاف ہو گا‘28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان، سندھ میں ہڑتال، مظاھرے28 August, 2006 | پاکستان بگٹی کی ہلاکت اور پاکستان کا مستقبل28 August, 2006 | پاکستان اکبر بُگٹی کے مخالفین کدھر گئے؟28 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||