BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 August, 2006, 21:31 GMT 02:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچ قوم پرست تحریک کے نئے دور کا آغاز

نواب اکبر بگٹی پاکستان کےقاعد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ

نواب اکبر بگٹی کوئی آیڈیل بلوچ سردار نہیں تھے۔ ان کا جبر و استبداد پورے بلوچستان میں مشہور تھا۔ نہ وہ عظیم بلوچ قوم پرست مانے جاتے تھے بلکہ وہ سدا طالع پسند جانے جاتے تھے۔

سن پچاس کے اوائل میں جب بلوچستان کو مغربی پاکستان کے ایک یونٹ میں ضم کردیا گیا تھا اور جس کے خلاف تحریک میں خان قلات پیش پیش تھے تو اس زمانہ میں نواب بگٹی وفاق میں وزیر مملکت برائے دفاع تھے اور سن تہتر میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بلوچستان میں سردار مینگل کی منتخب حکومت کی برطرفی کے بعد جب بلوچ قوم پرستوں نے ہتھیار اٹھائے تو اس وقت نواب اکبر بگٹی ہی گورنر کی مسند پر براجمان تھے-

اس زمانہ میں اپنے حریف سرداروں پر جو ظلم کیا وہ ایک طرف خود اپنے چھوٹے بھائی احمد نواز بگٹی کو بھی نہیں بخشا جو نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما تھے-انہیں اپنے بیٹے سلیم سے گرفتار کرا کے نہایت ہتک آمیز انداز سے ڈیرہ بگٹی میں نظر بند رکھا-

ایک پاکستانی المیہ
 المیہ در اصل یہ ہے کہ پاکستان میں چاہے سیاسی قیادت ہو یا فوجی طالع پرست حکمران ہوں کسی نے بھی بلوچوں کو اور ان کے جذبات اور احساسات اور آرزؤں اور تمناؤں کو ان کی قدیم تاریخ کے تناظر میں ان کی ثقافت اور روایات کے پس منظر میں اور ان کے نظریۂ حیات کے آئینہ میں دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کی-
لیکن پچھلے ایک برس کےدوران جنرل مشرف کی حکومت کے خلاف عسکری مزاحمت کے بعد جن حالات میں نواب بگٹی جاں بحق ہوئے ہیں اس کی بدولت وہ بلاشبہ بلوچ قوم پرستی کے ’شہید‘ ہیرو مانے جائیں گے اور پاکستان میں پچھلی نصف صدی سے فوجی حکمرانوں کے جبر و استبداد کے خلاف بلوچوں کی مزاحمت کی تاریخ میں ان کا نام امر رہے گا-

المیہ در اصل یہ ہے کہ پاکستان میں چاہے سیاسی قیادت ہو یا فوجی طالع پرست حکمران ہوں کسی نے بھی بلوچوں کو اور ان کے جذبات اور احساسات اور آرزؤں اور تمناؤں کو ان کی قدیم تاریخ کے تناظر میں ان کی ثقافت اور روایات کے پس منظر میں اور ان کے نظریۂ حیات کے آئینہ میں دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کی-

بلوچستان کے المیہ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک کے حکمرانوں نے کبھی اس حقیقت پر غور نہیں کیا کہ بلوچستان میں قوم پرستی کی تحریک محض قیام پاکستان کے بعد سے شروع نہیں ہوئی جب بلوچستان کی آزادی کے سمجھوتہ اور باقاعدہ اعلان آزادی کے آٹھ مہینہ بعد ہی اسے زبردستی پاکستان میں ضم کر لیا گیا تھا بلکہ یہ تحریک برصغیر کی تحریک آزادی کی ہم عمر ہے-

پاکستان کے حکمرانوں کو غالبا اس بات کا قطعی احساس نہیں کہ بلوچوں کا اپنا آزاد اور مشترکہ تشخص دو ہزار سال قدیم ہے اور سن اٹھارہ سو انتالیس تک جب کہ انگریزوں نے بلوچستان پر قبضہ کیا یہ چوالیس مکمل آزاد اور خودمختار قبائل کا متحدہ علاقہ تھا- انگریزوں نے بلوچوں کی تاریخ اور روایات کے ہی پیش نظر سینڈیمن نظام رائج کیا۔ دوسرے معنوں میں یہاں براہ راست حکمرانی کے بجائے سرداری نظام کے ذریعہ اپنا تسلط برقرار رکھا-

اکبر بگٹی کی ہلاکت پر کئی شہروں میں مظاہرے ہوئے ہیں
بلوچستان میں قوم پرست تحریک کا آغاز ہی دراصل اسی سرداری نظام کے خاتمہ کے لیے ہوا کیونکہ اس تحریک کے بانیوں کو احساس تھا کہ بلوچستان میں برطانوی راج درحقیقت اسی سرداری نظام کی بیساکھی پر قایم ہے، سرداری نطام پر جب بھر پور زک پڑے گی تو برطانوی راج کی چولیں بھی ڈھیلی ہوں گی۔
اسی مطمع نظر سے بلوچستان میں سن انیس سو بیس میں قوم پرست تحریک کی داغ بیل ڈالی گئی- یوسف علی مگسی اور عبد العزیز کرد اس تحریک کے بانی تھے۔

پہلے انہوں نے خفیہ ینگ بلوچ کے نام سے تنظیم قایم کی اور اس کے بعد کھلم کھلا انجمن اتحاد بلوچاں کے نام سے ایک آزاد عظیم تر بلوچستان کے قیام کے لیے تحریک شروع کی گئی جس میں پنچاب میں زبردستی شامل کیےگئے ضلع ڈیرہ غازی خاں اور سندھ کے ضلع جیکب آباد کی شمولیت کا مطالبہ کیا گیا تھا-
سن انیس سو پینتیس کے کوئٹہ کے زلزلہ میں یوسف علی مگسی کی ہلاکت کے بعد عبدالعزیز کرد نے محمد حسین عنقا گل خاں نصیر اور غوث بخش بزنجو کے ساتھ اس تحریک کو آگے بڑھایا اور تنظیم کا نام بدل کرنیشنل پارٹی رکھا-

گو برطانوی حکومت اور اس کے حامی سرداروں کے دباؤ کی بناء پر نیشنل پارٹی ممنوعہ قراردے دی گئی لیکن اس نے قلات کی اسمبلی کے انتخابات میں کھلم کھلم حصہ لیا اور کامیاب رہی-

برصغیر کی آزادی سے ذرا پہلے جب خان قلات نے اپنی ریاست اور بلوچستان کے مستقبل کے بارے میں برطانوی راج سے بات چیت کی تو یہی نیشنل پارٹی اور اس کی مقبولیت خان قلات احمد یار خان کی بڑی قوت تھی- آخر کار وہ برطانوی راج سے یہ بات منوانے میں کامیاب رہے کہ برصغیر میں اقتدار کی منتقلی سے پہلے قلات مکمل آزادی حاصل کر لے گا اور اس کی وہی حیثیت اور درجہ ہو گا جو سن اٹھارہ سو انتالیس سے قبل قلات اور بلوچستان کا تھا-

اسی سمجھوتہ کی بنیاد پر چار اگست انیس سو سینتالیس کو دلی میں بلوچستان کے مستقبل کے بارے میں ایک گول میز کانفرنس ہوئی جس میں وائس رائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن قائداعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان، قلات کے حکمران ان کے وزیر اعظم سر سلطان احمد قلات کے قانونی مشیر اور قلات کے چیف سیکریٹری شریک ہوئے- اس کانفرنس میں طے ہوا کہ قلات ریاست پانچ اگست سن سینتالیس سے آزادی حاصل کر لے گی۔ پاکستان کی حکومت نے اس فیصلہ سے مکمل اتفاق کیا تھا- اس سمجھوتہ کا گیارہ اگست سن سینتالیس کو باقاعدہ اعلان کیا گیا اور اسی کی روشنی میں قلات کی اسمبلی میں ریاست کی آزادی کی قرارداد منظور کی گئی-

بلوچستان کو پہلا گھاؤ
 بلوچستان کو پہلا گھاؤ اس وقت لگا جب قیام پاکستان کے فورا بعد دسمبر سینتالیس میں قائد اعظم نے خود خان قلات پر دباؤ ڈالا کہ وہ پاکستان میں شامل ہو جائیں- خان قلات اس بات پر دم بخود رہ گئے کیونکہ قلات کی آزادی کے بارے میں چار اگست کے سمجھوتہ میں قائد اعظم شامل تھے اور یہی نہیں بلکہ خان قلات کے وکیل کی حیثیت سے بہت پہلے قائداعظم یہ قانونی مشورہ دے چکے تھے کہ قلات کی ریاست مکمل آزادی کے حصول کی اہل ہے کیونکہ اس کی حیثیت ہندوستان کی دوسری ریاستوں ایسی نہیں-
بلوچستان کو پہلا گھاؤ اس وقت لگا جب قیام پاکستان کے فورا بعد دسمبر سینتالیس میں قائد اعظم نے خود خان قلات پر دباؤ ڈالا کہ وہ پاکستان میں شامل ہو جائیں- خان قلات اس بات پر دم بخود رہ گئے کیونکہ قلات کی آزادی کے بارے میں چار اگست کے سمجھوتہ میں قائد اعظم شامل تھے اور یہی نہیں بلکہ خان قلات کے وکیل کی حیثیت سے بہت پہلے قائداعظم یہ قانونی مشورہ دے چکے تھے کہ قلات کی ریاست مکمل آزادی کے حصول کی اہل ہے کیونکہ اس کی حیثیت ہندوستان کی دوسری ریاستوں ایسی نہیں-

جب خان قلات پر پاکستان میں شامل ہونے کے لیے بہت زیادہ دباؤ پڑا تو انہوں نے اپنے وزیراعظم نواب زادہ محمد اسلم کو فوجی تیاری کی ہدایت کی اور برطانیہ سے اسلحہ کی درخواست کی لیکن برطانوی حکومت نے اسلحہ دینے سے یہ کہہ کرصاف انکار کر دیا کہ پاکستان کی حکومت کی منظوری کے بغیر وہ اسلحہ نہیں دے سکتی۔ خان قلات نے افغانستان سے بھی اسلحہ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن وہاں سے بھی جواب نفی میں ملا-

اس دوران پاکستان نے بلوچستان کی ریاست خاران مکران اور لس بیلہ کو پاکستان میں شمولیت پر آمادہ کر لیا اور یوں خان قلات بالکل اکیلے رہ گئے- انہوں نے بلوچستان کے سرداروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن صرف دو غیر اہم سرداروں کے سوا سب نے حمایت سے انکار کر دیا-

اسی کے ساتھ پاکستان نے پسنی اور جیوانی میں اپنی فوج روانہ کردی۔ آخر کار خان قلات مارچ سن اڑتالیس میں قلات کو پاکستان میں شامل کرنے پر مجبور ہوگئے- یکم اپریل سن اڑتالیس کو پاکستانی فوج قلات میں داخل ہوگئی اور بلوچستان کابینہ کے تمام وزیروں اور قوم پرستوں کو گرفتار کر لیا-

خان قلات کے بھائی آغا عبدالکریم نے پاکستان کے اس اقدام کے خلاف جھلاوان میں مسلح جدو جہد کا آغاز کیا، یوں یہ بلوچستان میں قوم پرست تحریک کے نئے دور کی شروعات تھی جس نے پچھلے اٹھاون برس میں چار بڑی فوجی کاروائیاں دیکھی ہیں-

ایک یادگار انٹرویو
’وہ میرے بارے میں کہتے ہیں میں جھکتا نہیں‘
لیجنڈری موت
اکبر بگٹی: بھٹو کے بعد لیجنڈری موت
بگٹی کی ہلاکت
پاکستان کے لیے آفاتِ ناگہانی کا اشارہ ؟
عطاللہ مینگلہم تھک گئے: مینگل
’مشرف کے ہوتے ہوئے مفاہمت کا امکان نہیں‘
بگٹیآواز خلق
بگٹی کی ہلاکت پر لوگوں کا ملاجلا ردعمل
اکبر بگٹی کی بات
’پوتے اور نواسے مِشن آگے بڑھائیں گے‘
جنرل مشرفدھماکہ تاہلاکت
حکومت۔بگٹی کشیدگی کے گزشتہ دو سال
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد