بگٹی کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی شرکت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں نواب اکبر بگٹی کی غائبانہ نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔ اکبر بگٹی کی فوجی آپریشن میں ہلاکت کے بعد بلوچستان اور ملک کے دوسرے حصوں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ حکومت نے ملک میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیئے ہیں اور کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر دیا گیا ہے۔ قلات میں ایک گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے اور کوئٹہ میں ایک مکان پر دستی بم پھینکا گیا ہے جس سے ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ محکمہ داخلہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت سمیت بلوچستان بھر میں فوری طور پر دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق کسی قسم کے ہتھیار کی نمائش پر پابندی عائد ہے اور یہ آئندہ ساٹھ روز تک نافذالعمل رہے گا۔ صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا ہے کہ منو جان روڈ پر ایک مکان پر نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا ہے جس سے ایک شخص زخمی ہوا ہے جبکہ کچھ دکانوں پر بھی حملے ہوئے ہیں۔ قلات میں رات کے وقت نامعلوم افراد نے ایک گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑادیا ہے جس سے بجلی کی تاریں بھی گرگئیں۔ مقامی صحافی محمود آفریدی نے بتایا ہے بجلی کی ترسیل تو ایک گھنٹے تک بحال کر دی گئی لیکن گیس پائپ لائن کی مرمت کا کام اب شروع نہیں کیا گیا ہے۔ یہ پائپ لائن قلات میں کچھ محلوں کو گیس فراہم کرتی ہے۔ ان علاقوں کو اب گیس کی ترسیل معطل ہے۔
بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں پیر کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال رہی ہے۔ کاروباری مراکز بند رہے اور ٹریفک نہیں تھی۔ بلوچ قوم پرست جماعتوں کے قائدین نے کہا ہے کہ یہ حکومت کے خلاف عوام کا کھلا رد عمل ہے۔ نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی اور چیف آف جھلاوان سردار ثناءاللہ زہری نے کہا ہے کہ فورسز نے نواب اکبر بگٹی کو مارنے کے لیے انتہائی مہلک ہتھیار استعمال کیے ہیں۔ پیر کو ہڑتال کے روز کوئٹہ کے سریاب روڈ پر اقوام متحدہ کے دفتر کو نقصان پہنچایا گیا ہے جہاں تین گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ سپنی روڈ اور سبزل روڈ پر عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ مری اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ سریاب روڈ پر آنسو گیس کے گولے پھینکنے سے چھ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری محمد یعقوب نے بتایا ہے کہ دو روز میں کوئی ساڑھے پانچ سو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ادھر ضلع کوہلو میں کاہان سے آمدہ اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں کارروائی تیز کر دی ہے اور کئی مقامات پر حملے کیے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ تین روز پہلے پچاس خاندانوں پر مشتمل لوگ نقل مکانی کررہے تھے، وہ غائب ہیں جن میں سے دو بچوں کی لاشیں ملی ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو رہی۔ بلوچستان کے دیگر اضلاع جیسے گندھاوا ڈیرہ مراد جمالی سبی نوشکی وغیرہ میں مکمل ہڑتال رہی۔ جبکہ گوادر پسنی اور قلات میں تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں پسنی میں کم سے کم دس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ کراچی میں احتجاج، گاڑیاں نذر آتش سندھ کے دارالحکومت کراچی کے بلوچ آبادی والے علاقے لیاری، پراناگولیمار، ملیر اور دیگر علاقوں میں پیر کو دوسرے روز بھی کاروبار بند رہا جبکہ بلوچ قومپرست تنظیموں کی جانب سے احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ سب سے زیادہ پرتشدد احتجاج پرانا گولیمار کے علاقے اور پاک کالونی میں ہوئے جہاں رات تک پولیس اور مشتعل مظاہرین میں جھڑپیں جاری رہیں۔ پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے نہ صرف ہوائی فائرنگ کی بلکہ آنسو گئس کا بھی استعمال کیا۔
لیاری کے علاقے میں پولیس سے جھڑپ کے بعد مشتعل افراد نے گاڑیوں کو روک کر تین موٹر سائیکلوں کو آگ لگادی، جن میں ایک پولیس کی موٹر سائیکل بھی شامل تھی۔ ٹی پی او سائیٹ ایریا کے مطابق رات تک صورتحال معمول پر آگئی ہے۔ دریں اثناء سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل کی صبح شروع ہورہا ہے، جس میں اپوزیشن کی جانب سے بگٹی کی ہلاکت پر احتجاج کیا جائیگا جبکہ قائد حزب اختلاف نثار کھوڑو کی جانب سے ایک قرار داد پیش کی جائیگی جس میں بگٹی کو خراج تحسین پیش کیا جائیگا۔ اسلام آباد میں بھی احتجاج
لیکن سپیکر نے کہا کہ انہوں نے کارروائی چلانے کے لیے تمام جماعتوں سے مشاورت کے لیے اپنے چیمبر میں اجلاس بلایا تھا لیکن حزب مخالف والے نہیں آئے۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے کارروائی ملتوی کرنے کا اعلان کیا اور وہ چلے گئے۔ اس پر حزب مخالف کے کئی اراکین اپنی نشستیں چھوڑ کر سپیکر کے روسٹرم کے پاس جمع ہوئے اور وہاں نواب بگٹی کے قتل کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے تقاریر بھی کیں۔ کچھ دیر بعد وہ پارلیمان کی عمارت سے باہر نکل کر صدر دروازے کے پاس احتجاجی مظاہر کیا اور ’قاتل قاتل جنرل قاتل، قاتل قاتل مشرف قاتل‘ کے نعرے لگائے۔ منگل کی صبح حزب مخالف کی جانب سے وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف پیش کردہ عدم اعتماد کی تحریک پر کارروائی ہوگی۔ دریں اثناء وزیراعظم شوکت عزیز نے کچھ صحافیوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکبر بگٹی کے قتل سے پیدا ہونے والی صورتحال کا کسی کو بھی غلط فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ بلوچستان میں امن امان خراب کرنے والے عناصروں کے خاتمے تک سیکورٹی فورسز کارروائی جاری رکھیں گی۔ |
اسی بارے میں پوتے، نواسے آگے بڑھیں گے: بگٹی28 August, 2006 | پاکستان حکومتی بیان ڈرامہ ہے: امان اللہ کنرانی 28 August, 2006 | پاکستان احتجاج، ہڑتال، کانفرنس کا اعلان28 August, 2006 | پاکستان کوہلو دھماکے سے بگٹی ہلاکت تک 28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان اور سندھ میں ہڑتال28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان، سندھ میں ہڑتال، مظاھرے28 August, 2006 | پاکستان ’مقدمہ مشرف کے خلاف ہو گا‘28 August, 2006 | پاکستان بگٹی کے بیٹے سے حکومت کا رابطہ28 August, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||