BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 August, 2006, 20:56 GMT 01:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بگٹی کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی شرکت

اتوار اور پیر کو ہونے والے مظاہروں میں 550 افراد کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے

کوئٹہ میں نواب اکبر بگٹی کی غائبانہ نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔

اکبر بگٹی کی فوجی آپریشن میں ہلاکت کے بعد بلوچستان اور ملک کے دوسرے حصوں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

حکومت نے ملک میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیئے ہیں اور کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر دیا گیا ہے۔ قلات میں ایک گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے اور کوئٹہ میں ایک مکان پر دستی بم پھینکا گیا ہے جس سے ایک شخص زخمی ہوا ہے۔

محکمہ داخلہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت سمیت بلوچستان بھر میں فوری طور پر دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق کسی قسم کے ہتھیار کی نمائش پر پابندی عائد ہے اور یہ آئندہ ساٹھ روز تک نافذالعمل رہے گا۔

صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا ہے کہ منو جان روڈ پر ایک مکان پر نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا ہے جس سے ایک شخص زخمی ہوا ہے جبکہ کچھ دکانوں پر بھی حملے ہوئے ہیں۔

قلات میں رات کے وقت نامعلوم افراد نے ایک گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑادیا ہے جس سے بجلی کی تاریں بھی گرگئیں۔ مقامی صحافی محمود آفریدی نے بتایا ہے بجلی کی ترسیل تو ایک گھنٹے تک بحال کر دی گئی لیکن گیس پائپ لائن کی مرمت کا کام اب شروع نہیں کیا گیا ہے۔ یہ پائپ لائن قلات میں کچھ محلوں کو گیس فراہم کرتی ہے۔ ان علاقوں کو اب گیس کی ترسیل معطل ہے۔

بیشتر اضلاع میں شٹر ڈاؤن
 بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں پیر کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال رہی ہے۔ کاروباری مراکز بند رہے اور ٹریفک نہیں تھی۔ بلوچ قوم پرست جماعتوں کے قائدین نے کہا ہے کہ یہ حکومت کے خلاف عوام کا کھلا رد عمل ہے۔
کوئٹہ کے سریا ب روڈ پر پیر کی شام تک حالات انتہائی کشیدہ تھے جہاں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے مابین آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا۔ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنما نے کہا کہ ان کی یہ تحریک جاری رہے گی ۔

بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں پیر کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال رہی ہے۔ کاروباری مراکز بند رہے اور ٹریفک نہیں تھی۔ بلوچ قوم پرست جماعتوں کے قائدین نے کہا ہے کہ یہ حکومت کے خلاف عوام کا کھلا رد عمل ہے۔ نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی اور چیف آف جھلاوان سردار ثناءاللہ زہری نے کہا ہے کہ فورسز نے نواب اکبر بگٹی کو مارنے کے لیے انتہائی مہلک ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

پیر کو ہڑتال کے روز کوئٹہ کے سریاب روڈ پر اقوام متحدہ کے دفتر کو نقصان پہنچایا گیا ہے جہاں تین گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ سپنی روڈ اور سبزل روڈ پر عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ مری اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ سریاب روڈ پر آنسو گیس کے گولے پھینکنے سے چھ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔

بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری محمد یعقوب نے بتایا ہے کہ دو روز میں کوئی ساڑھے پانچ سو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

نواب اکبر بگٹی فوجی آپریشن میں مارے گئے
کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس نواب اکبر بگٹی کے لیے دعا کے فورا بعد ختم کر دیا گیا جس پر حزب اختلاف کے اراکین نے احتجاج اور شور شرابا کیا ہے۔ اسمبلی سے باہر آتے وقت پولیس نے نیشنل پارٹی کے سینیٹر ڈاکٹر عبدالمالک اراکین صوبائی اسمبلی جان محمد بلیدی اور رحمت بلوچ کو کوئی سو مظاہرین کے ساتھ گرفتار کر لیا تھا لیکن بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔

ادھر ضلع کوہلو میں کاہان سے آمدہ اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں کارروائی تیز کر دی ہے اور کئی مقامات پر حملے کیے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ تین روز پہلے پچاس خاندانوں پر مشتمل لوگ نقل مکانی کررہے تھے، وہ غائب ہیں جن میں سے دو بچوں کی لاشیں ملی ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو رہی۔

بلوچستان کے دیگر اضلاع جیسے گندھاوا ڈیرہ مراد جمالی سبی نوشکی وغیرہ میں مکمل ہڑتال رہی۔ جبکہ گوادر پسنی اور قلات میں تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں پسنی میں کم سے کم دس افراد زخمی ہوئے ہیں۔

کراچی میں احتجاج، گاڑیاں نذر آتش
کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق اکبر بگٹی کی فوجی آپریشن میں ہلاکت کے خلاف کراچی میں پیر کی رات تک پرتشدد احتجاج کا سلسلہ جاری رہا جس دوران مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئیں اور شہر میں سات سے زائد گاڑیاں اور ایک ناظم کے آفس کو نذر آتش کیا گیا۔

سندھ کے دارالحکومت کراچی کے بلوچ آبادی والے علاقے لیاری، پراناگولیمار، ملیر اور دیگر علاقوں میں پیر کو دوسرے روز بھی کاروبار بند رہا جبکہ بلوچ قومپرست تنظیموں کی جانب سے احتجاجی جلوس نکالے گئے۔

سب سے زیادہ پرتشدد احتجاج پرانا گولیمار کے علاقے اور پاک کالونی میں ہوئے جہاں رات تک پولیس اور مشتعل مظاہرین میں جھڑپیں جاری رہیں۔ پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے نہ صرف ہوائی فائرنگ کی بلکہ آنسو گئس کا بھی استعمال کیا۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس
 سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل کی صبح شروع ہورہا ہے، جس میں اپوزیشن کی جانب سے بگٹی کی ہلاکت پر احتجاج کیا جائیگا جبکہ قائد حزب اختلاف نثار کھوڑو کی جانب سے ایک قرار داد پیش کی جائیگی جس میں بگٹی کو خراج تحسین پیش کیا جائیگا۔
منگھو پیر کے علاقے میں مشتعل لوگوں نے سائیٹ ٹاؤن کے ناظم کے دفتر کو آگ لگا دی، جس دوران ایک کار کو بھی نذر آتش کیا گیا جو ایم کیوایم کی خاتون رکن اسمبلی فریدہ بلوچ کے زیر استعمال تھی۔راشد منہاس روڈ پر گیراج میں کھڑی ہوئی ایک کار اور ایک ہائی روف کو نامعلوم افراد نے نذر آتش کردیا جبکہ ملیر پندرہ کے علاقے میں ایک شہزور ٹرک کو روکا گیا اور تیل چھڑکر اسے آگ لگادی گئی۔

لیاری کے علاقے میں پولیس سے جھڑپ کے بعد مشتعل افراد نے گاڑیوں کو روک کر تین موٹر سائیکلوں کو آگ لگادی، جن میں ایک پولیس کی موٹر سائیکل بھی شامل تھی۔ ٹی پی او سائیٹ ایریا کے مطابق رات تک صورتحال معمول پر آگئی ہے۔

دریں اثناء سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل کی صبح شروع ہورہا ہے، جس میں اپوزیشن کی جانب سے بگٹی کی ہلاکت پر احتجاج کیا جائیگا جبکہ قائد حزب اختلاف نثار کھوڑو کی جانب سے ایک قرار داد پیش کی جائیگی جس میں بگٹی کو خراج تحسین پیش کیا جائیگا۔

اسلام آباد میں بھی احتجاج
اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح اسلام آباد میں بھی اکبر بگٹی کے قتل کے خلاف احتجاج ہوا اور قومی اسمبلی کا اجلاس سوگ میں ملتوی کیا گیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی
 قومی اسمبلی کا پیر کی شام کو جیسے ہی اجلاس شروع ہوا تو سپیکر چودھری امیر حسین نے تلاوت کے بعد نواب بگٹی کے لیے دعائے مغفرت کی اور اجلاس کی کارروائی سوگ میں منگل کی صبح تک ملتوی کردی۔
قومی اسمبلی کا پیر کی شام کو جیسے ہی اجلاس شروع ہوا تو سپیکر چودھری امیر حسین نے تلاوت کے بعد نواب بگٹی کے لیے دعائے مغفرت کی اور اجلاس کی کارروائی سوگ میں منگل کی صبح تک ملتوی کردی۔ اس دوران حزب مخالف کے کئی اراکین نے احتجاج کیا کہ حسب روایت جب بھی ایوان کا کوئی موجودہ یا سابق رکن فوت یا ہلاک ہوتا ہے تو انہیں خراج پیش کرنے کے لیے تقریریں کی جاتی ہیں۔

لیکن سپیکر نے کہا کہ انہوں نے کارروائی چلانے کے لیے تمام جماعتوں سے مشاورت کے لیے اپنے چیمبر میں اجلاس بلایا تھا لیکن حزب مخالف والے نہیں آئے۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے کارروائی ملتوی کرنے کا اعلان کیا اور وہ چلے گئے۔

اس پر حزب مخالف کے کئی اراکین اپنی نشستیں چھوڑ کر سپیکر کے روسٹرم کے پاس جمع ہوئے اور وہاں نواب بگٹی کے قتل کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے تقاریر بھی کیں۔ کچھ دیر بعد وہ پارلیمان کی عمارت سے باہر نکل کر صدر دروازے کے پاس احتجاجی مظاہر کیا اور ’قاتل قاتل جنرل قاتل، قاتل قاتل مشرف قاتل‘ کے نعرے لگائے۔

منگل کی صبح حزب مخالف کی جانب سے وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف پیش کردہ عدم اعتماد کی تحریک پر کارروائی ہوگی۔

دریں اثناء وزیراعظم شوکت عزیز نے کچھ صحافیوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکبر بگٹی کے قتل سے پیدا ہونے والی صورتحال کا کسی کو بھی غلط فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ بلوچستان میں امن امان خراب کرنے والے عناصروں کے خاتمے تک سیکورٹی فورسز کارروائی جاری رکھیں گی۔

بگٹیآواز خلق
بگٹی کی ہلاکت پر لوگوں کا ملاجلا ردعمل
بگٹی کے بعد
کوئٹہ میں مظاہرین کی توڑ پھوڑ، ہنگامے
اکبر بگٹی کی بات
’پوتے اور نواسے مِشن آگے بڑھائیں گے‘
حملے کی زد میں
بگٹی پر گزشتہ سال بھی بمباری ہوئی
جنرل مشرفدھماکہ تاہلاکت
حکومت۔بگٹی کشیدگی کے گزشتہ دو سال
بگٹیمخالفین کو پیغام
بگٹی کی ہلاکت اور پاکستان کا مستقبل
پراسرار گمشدگی
اکبر بُگٹی کے مخالفین کدھر ہیں؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد