نواب اکبر بگٹی کیسے مارے گئے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کی طرف سے نواب اکبر بگٹی کو ہلاک کردینے کے بعد جس انداز میں صرف سرکار کی بیان کردہ تفصیلات کی صداقت پر اصرار کیا جا رہا ہے، اس نے بہت سے شکوک کو جنم دیا ہے۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے واقعے کے متعلق کہا تھا کہ فوج علاقے میں تلاشی کی کارروائی کررہی تھی جس کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس سے ایک غار منہدم ہوگیا اور اس میں شاید اکبر بگٹی اور بقول جنرل شوکت سلطان، کئی دوسرے دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ اس کے برعکس سابق وزیراعظم نواز شریف نے اسے باقاعدہ قتل قرار دیا ہے جس کا ذمہ دار وہ پاکستان کے فوجی صدر جنرل مشرف کو سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قتل کی ایف آئی آر جنرل مشرف اور دوسرے ذمہ داروں کے خلاف درج کی جائے گی۔ لیکن نہ تو فوج اور نہ ہی سول حکام نے ابھی تک اس واقعے کے درست مقام کا انکشاف کیا ہے۔ بظاہر دکھائی یہ دیتا ہے کہ سول حکام کا اس پورے آپریشن میں کوئی کردار نہیں تھا۔ مرحوم اکبر بگٹی کے صاحبزادے طلال بگٹی کے مطابق گو حکومت انہیں بذریعہ ہیلی کوپٹر جائے وقوعہ تک لے جانے کی پیش کش کررہی ہے لیکن انہیں اس کے باوجود بھی حکومتی موقف پر اعتبار نہیں ہے۔ ان کے مطابق ہوسکتا ہے کہ ایک ہیلی کوپٹر سے انہیں لے جایا جائے اور ان کے پہنچنے سے پہلے ہی دوسرے ہیلی کوپٹر سے نواب بگٹی کی لاش ڈیرہ بگٹی بھیج دی جائے۔ پاکستانی اخبارات کی اطلاعات کے مطابق فوج کو نواب بگٹی کے ٹھکانے کا سراغ سیٹلائیٹ فون کی گفتگو سے ملا۔اس کے آگے کے واقعات بتاتے ہوئے وزیراطلاعات محمد علی درانی کا دعوٰی تھا کہ بنکر نما ڈھانچے جو گارے اور پتھروں سے بنے ہوئے تھے، کارروائی کے دوران ڈھے گئے جس سے نواب بگٹی چار افسروں اور ایک جوان سمیت مارے گئے۔ قوم پرست حلقوں کا ایک الزام یہ بھی ہے کہ فوج نے اکبر بگٹی کو مارنے کے لیے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے اور اب اس جرم کو چھپانے کے لیے لاش ورثاء کو نہیں دی جا رہی۔ نیشنل پارٹی کے رکن بلوچستان اسمبلی سردار ثناء اللہ زہری کہتے ہیں کہ اگر لاش کا پوسٹ مورٹم کیا جائے تو یہ بات ثابت بھی ہوسکتی ہے اور اسی لیے لاش ورثاء کو نہیں دی جارہی۔ سرکاری موقف کا ایک بڑا تضاد ایک اور وزیر طارق عظیم کے اس بیان سے سامنے آیا جس میں دو طرفہ مقابلے کے تمام سرکاری دعووں کے برعکس یہ انکشاف کیا گیا کہ بارودی سرنگوں کے دھماکوں سے وہ غار جس میں اکبر بگٹی چھپے ہوئے تھے، ڈھے گیا اور یوں وہ اپنے ساتھیوں سمیت مارے گئے۔ تاہم نواب بگٹی کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اور ترجمان امان اللہ کنرانی کہتے ہیں کہ سارے حکومتی دعوے جھوٹ ہیں، حتٰی کہ اکبر بگٹی کی لاش بھی فوجی حکام نے اپنے قبضے میں کوئٹہ کے فوجی اسپتال میں رکھی ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا مقامی لوگوں کے مطابق بھی واقعے کا جو علاقہ حکومت کی جانب سے بتایا جارہا ہے وہاں کہیں بھی غار نہیں ہیں۔ تمام ابہام ختم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا تھا کہ حکومت صحافیوں کو آزادانہ طور پر اس واقعے کے مقام پر جانے دیتی۔ لیکن محمد علی درانی کہتے ہیں کہ کہیں بھی ایسے واقعات کو میڈیا شو نہیں بنایا جاتا۔ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کیسے اور کس انداز میں ہوئی، ممکن ہے کہ یہ معمہ ایک لمبے عرصے حل نہ ہوسکے اور نتیجتاً قیاس آرائیاں اور الزام در الزام کا سلسلہ چلتا ہی رہے۔ |
اسی بارے میں بگٹی کے بیٹے سے حکومت کا رابطہ28 August, 2006 | پاکستان بگٹی اور ساتھیوں کی لاشوں کا مطالبہ29 August, 2006 | پاکستان لاش ورثا کو دی جائے گی: جام 29 August, 2006 | پاکستان ’زندہ گرفتار کرنے کا حکم تھا‘29 August, 2006 | پاکستان حب میں بم دھماکہ، چار افراد ہلاک29 August, 2006 | پاکستان لاہور: لبرٹی مارکیٹ میں دھماکہ29 August, 2006 | پاکستان لیاری میں جھڑپیں، شدید شیلنگ29 August, 2006 | پاکستان سندھ اسمبلی میں نعرے29 August, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||