حب میں بم دھماکہ، چار افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر حب کے ایک ریسٹورانٹ میں زور دار دھماکے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس حکام کےمطابق حب کے قریب صنعتی علاقے میں واقع ایک ہوٹل میں اس وقت ہوا جب وہاں کئی مزدور وہاں کھانا کھانے آئے ہوئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ مرنے والوں کے اعضاء دور دور تک بکھر گئے۔ پولیس کےمطابق جس ریسٹورنٹ میں دھماکہ ہوا اس میں مقامی مزدور کھانا کھانے کےعلاوہ وی سی آر پر فلمیں دیکھنے کے لیئے آتے تھے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق حب ہسپتال میں اب تک چار لاشیں پہنچائی گئی ہیں۔ دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں سے دو افراد کو سول ہسپتال کراچی پہنچایا گیا ہے۔ ڈی پی او لسبیلا غلام حیدر بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بم دیسی ساخت کا تھا اور اس کا وزن دو سے ڈہائی کلو تھا۔ ان کے مطابق دہشتگرد ہوٹل میں پلاسٹک کی ایک تھیلی میں ٹائم بم چھوڑ گئے تھے۔ غلام حیدر بلوچ نے بتایا کہ یہ بم دیسی ساخت کا ہے اور اس سے پہلے بھی حب میں ایسے ہی مٹیریل سے بم دھماکے ہوتے رہے ہیں۔ یہ میٹریل عام طور پر مائینز میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈی پی او کے مطابق پولیس نے دھماکے کے بعد پندرہ سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جن سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ ان دھماکوں میں کون لوگ ملوث ہیں تو ان کا کہنا تھا یہ وہی لوگ ہیں جو بلوچستان میں بھی دہشتگردی کر رہے ہیں۔ ضلعی پولیس سربراہ سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا حب میں ہونے والے دھماکوں میں مقامی لوگ ملوث ہیں یا باہر سے آکر یہ کارروائیاں کی جاتی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بلوچستان کے ہی لوگ ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے یوم آزادی چودہ آگست کو بھی حب میں ایک ریڑھی پر بم دھماکہ ہوا تھا۔ ابھی تک کسی گروہ نےاس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور پولیس کےمطابق دھماکہ کرنے والوں کے عزائم کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ یاد رہے کہ حب میں چند ماہ پہلے ایک ہوٹل میں دھماکے سے تیرہ افراد زخمی ہو گئے تھے جبکہ اس سے پہلے فروری کے مہینے میں تین چینی انجینئرز سمیت چار افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا ۔ یہ انجینئر حب میں اٹک سیمنٹ فیکٹری میں کام کرتے تھے۔ چینی انجینئرز پر حملے کی ذمہ داری اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان کہلوانے والے آزاد بلوچ نامی شخص نے قبول کی تھی۔ | اسی بارے میں پوتے، نواسے آگے بڑھیں گے: بگٹی28 August, 2006 | پاکستان حکومتی بیان ڈرامہ ہے: امان اللہ کنرانی 28 August, 2006 | پاکستان احتجاج، ہڑتال، کانفرنس کا اعلان28 August, 2006 | پاکستان کوہلو دھماکے سے بگٹی ہلاکت تک 28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان اور سندھ میں ہڑتال28 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||