لیاری میں جھڑپیں، شدید شیلنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواب اکبر بگٹی کی بمباری میں ہلاکت کے خلاف کراچی میں تیسرے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ احتجاج کی سب سے زیادہ شدت بلوچ آْبادی والے علاقے لیاری میں تھی، جہاں پولیس شام تک آنسو گیس کے گولے برساتی رہی۔ شہر کے قدیمی علاقے لیاری میں منگل کی صبح سے احتجاج کا سلسلے جاری تھا۔ مشتعل افراد نے رکاوٹیں کھڑی کر کے ٹریفک معطل کر دی۔ جب پولیس نے روڈ خالی کروانے کی کوشش کی تو مظاہرین سے ان کی جھڑپ ہوئی۔ گلیوں سے نکل کر نوجوان پولیس پر پتھراؤ کرتے رہے، جبکہ پولیس انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے پھینکتی رہی۔ کچھ مقامات پر ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔ پولیس کی شدید شیلنگ کی وجہ سے کئی گولے لوگوں کے گھروں میں بھی جا گرے۔ پولیس کی جانب سے پھینکے گئے گولے نوجوان واپس اٹھا کر پھینکتے رہے۔ اٹھ چوک، چاکیواڑہ اور کنبھار واڑہ میں شدید شیلنگ کی وجہ سے عام لوگوں کی زندگی سخت متاثر ہوئی۔ ان علاقوں میں سڑکیں ویران رہیں۔ پولیس نے بکتر بند گاڑیوں کی مدد سے علاقے میں داخل ہوکر بڑی تعداد میں نوجوانوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ دریں اثنا گولیمار کے علاقے میں نامعلوم افراد نے ایک پیٹرول پمپ کو نذر آتش کردیا ہے۔ رینجنرز کی ایک بڑی تعداد لیاری میں موجود ہے مگر اس نے کسی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ جے ڈبلیو پی کی اپیل پر پریس کلب کے باہر نواب اکبر بگٹی کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی، جس میں پی پی، اے این پی، مسلم لیگ اور جئے سندھ کے مقامی رہنماؤں نے شرکت کی۔ | اسی بارے میں بگٹی کی ہلاکت کے اثرات 29 August, 2006 | پاکستان ’زندہ گرفتار کرنے کا حکم تھا‘29 August, 2006 | پاکستان سندھ اسمبلی میں نعرے29 August, 2006 | پاکستان بگٹی نماز جنازہ: ہزاروں کی شرکت29 August, 2006 | پاکستان بلوچستان، سندھ میں ہڑتال، مظاھرے28 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||