بگٹی نماز جنازہ: ہزاروں کی شرکت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں نواب اکبر بگٹی کی غائبانہ نماز جنازہ کے بعد فسادات پھوٹ پڑے ہیں جس میں اب تک ایک پولیس اہلکار سمیت دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری محمد یعقوب نے بتایا ہے ایک بینک کو اور سٹیڈیم کی عمارت کو نقصان پہنچایا گیا ہے جبکے دیگر مقامات پر بھی توڑ پھوڑ کی گئی ہے لیکن پولیس نے مظاہرین کو محدود علاقے تک قابو میں رکھا ہوا ہے۔ ایوب سٹیڈیم میں نماز جناز کے بعد مشتعل ہجوم جب باہر نکلے تو انھوں نے سخت نعرہ بازی کی اور عمارتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ پولیس اہلکاروں نے ہجوم کو روکا تو سخت کشیدگی پیدا ہو گئی۔ شہر کے بعض علاقوں میں فائرنگ ہوئی ہے۔ چوہدری یعقوب سے جب پوچھا کہ کیا فوج کو طلب کیا جا رہا ہے تو انہوں نے کہا حالات قابو میں ہیں فی الحال فوج کو طلب نہیں کیا جارہا۔
ادھر گوادر اور تربت سے بھی نماز جنازہ کے بعد توڑ پھوڑ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جہاں دکانوں اور کچھ عمارتوں کو جلایا گیا ہےاور بعض مقامات پر فائرنگ ہوئی ہے۔تربت سے آمدہ اطلاعات کے مطابق ایک شخص اس فائرنگ سے زخمی ہوا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پولیس اہلکار بشیر احمد کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اس سٹیڈیم کے باہر جہاں اکبر بگٹی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جا رہی تھی کم طاقت کے دو بم دھماکے ہوئے۔ خبر رساں ادارے رائٹر کے مطابق کوئٹہ میں مظاہرین اور سکیورٹی اداروں میں جھڑپوں کے دوران مظاہرین نے ایک سکیورٹی چیک پوسٹ کو تباہ کر دیا ہے۔ نواب اکبر بگٹی کی غائبانہ نماز جنازہ ایوب سٹیڈیم کے بگٹی کرکٹ گراؤنڈ میں ادا کی گئی جہاں ہزاروں لوگوں نےاس میں شرکت کی ہے۔ بگٹی خاندان اور بلوچ قائدین کی اپیل کے باوجود حکومت نے تاحال نواب اکبر بگٹی کی میت ورثا کے حوالے نہیں کی ہے۔ یہاں یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ نواب اکبر بگٹی کی میت حکومت کے پاس ہے اور کسی وقت ڈیرہ بگٹی میں ورثاء کے حوالے کی جائے گی لیکن سرکاری سطح پر اس بارے میں کوئی واضح بات نہیں کی جا رہی ہے۔
غائبانہ نماز جنازہ میں بلوچ قائدین کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی ہے ان میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار عطاءاللہ مینگل سابق سپیکر نیشنل اسمبلی الہی بخش سومرو، پیپلز پارٹی بلوچستان کے لیڈر بسم اللہ کاکڑ، نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ، نواب اکبر بگٹی کے صاحبزادے طلال بگٹی جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور دیگر جماعتوں کے قائدین شریک تھے۔ منتظیم لوگوں سے بار بار پر امن رہنے کی اپیل کرتے رہے۔ نماز جنازہ کے بعد لوگ مشتعل ہوگئے اور سٹیڈیم کے باہر توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ پولیس نے اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے لیکن زیادہ تر توجہ زرغون روڈ کے اس حصے پر مرکوز تھی جہاں گورنر ہاؤس وزیر اعلی ہاؤس وزیروں اور اعلی انتظامی افسران کی رہائش گاہیں ہیں اور اس طرف جانے والی تمام شاہراہوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی جہاں کی ہر قسم کی گاڑی کوجانے کی اجازت نہیں تھی۔ |
اسی بارے میں پوتے، نواسے آگے بڑھیں گے: بگٹی28 August, 2006 | پاکستان حکومتی بیان ڈرامہ ہے: امان اللہ کنرانی 28 August, 2006 | پاکستان احتجاج، ہڑتال، کانفرنس کا اعلان28 August, 2006 | پاکستان کوہلو دھماکے سے بگٹی ہلاکت تک 28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان اور سندھ میں ہڑتال28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان، سندھ میں ہڑتال، مظاھرے28 August, 2006 | پاکستان ’مقدمہ مشرف کے خلاف ہو گا‘28 August, 2006 | پاکستان بگٹی کے بیٹے سے حکومت کا رابطہ28 August, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||