لاش ورثا کو دی جائے گی: جام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعلی بلوچستان میر جام یوسف نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان کی کوشش ہے کہ جلد سے جلد نواب محمد اکبر کی لاش وصول کرکے انکے ورثاء کے حوالےکیا جائے ـ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کی شام کوہٹھ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیاـ میر جام یوسف نے کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں صدرپاکستان جنرل پرویز مشرف، وزیراعظم پاکستان اور چوہدری شجاعت سے رابطہ کیا ہے تاکہ نواب بگٹی کی لاش فوری طور ان کے رشتہ داروں کے حوالے کیا جا سکے۔ وزیراعلی نے صوبے کے مختلف علاقوں میں امن امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر صوبے میں نہ صرف سرکاری املاک کو نقصان پہنچارہے ہیں بلکہ بےگناہ غیربلوچستانیوں کے دکانوں اور گھروں کو بھی نذرآتش کررہے۔ نواب بگٹی کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جام یوسف نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ یہ کو شش رہی تھی کہ بلوچستان کا مسئلہ افہام و تفہم سے حل ہوسکے لیکن بد قسمتی سے ابھی ایسانہیں ہوسکا ہے۔ نواب اکبربگٹی کے مرنے کے بعد ڈیرہ بگٹی میں آپریشن جاری رکھنے کے بارے میں ایک سوال پر وزیراعلی نے کہا کہ جہاں بھی ایسے لوگ ہونگے کہ جس سے قومی تنصیبات کو خطرہ لاحق ہو تو ان کے خلاف کاروائی ضرور ہوگی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ نواب بگٹی کے قتل آپ کے دور حکومت میں ہوئی ہے تو کیا کل بلوچ قوم آپ کواسکا ذمہ دار نہیں ٹھہرائیں گے تو جام یوسف نے جواب میں کہا کہ حکومت کی رٹ قائم کرنا انتظامیہ اور اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے اور ویسے بھی بڑے عرصےسے صوبے کے مختلف علاقوں میں بم دھماکوں کے ذریعے بڑے پلوں اور ریلوے کی پٹریوں کو اڑایاجارہا تھا۔ جام یوسف نے ان اطلاعات کی بھی تردید کی کہ جس سے یہ تاثردیاجارہا ہے کہ نواب بگٹی کی لاش پاکستان آرمی کے کنڑرول میں ہےـ وزیراعلی بلوچستان نے یہ بھی کہا کہ نواب بگٹی کے ورثاء کو یہ اختیار ہے کہ وہ جہاں بھی ان کی میت کو دفناناچاہیں گے حکومت مکمل تحفظ دے گی چاہے وہ کوہٹھ ھو یاڈیرہ بگٹی۔ یہاں دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ جب پرسوں رات نواب بگٹی کے مرنے کی اطلاع آئی تو اس کے بعد پیر کی شام پہلی بار وزیراعلی بلوچستان صحافیوں کے سامنے آئے اور بڑے پریشان دکھائی دہے رہے تھے ـ یہاں دلچست بات بھی تھا کہ پیر کےاس ہنگامی پریس کانفرنس کا اہتمام اسلام آباد کے زیرکنڑول اطلاعات و نشریات کے محکمے یعنی (پی آہی ڈی) نے کیا تھا جبکہ صوبائی محکمۂ تعلقات عامہ کا کوئی عمل دخل نہیں نظرآیا۔ اس موقع پر بعض افسران پریس کانفرنس کے دوران بھی صحافیوں سے ہاتھـ جوڑ جوڑ کرشہزادہ میرجام محمد یوسف سے سخت سوالا ت نہ کرنے کی استدعا کررہے تھے- |
اسی بارے میں کراچی میں پرتشدد احتجاج27 August, 2006 | پاکستان کوئٹہ کے لیئے ٹرین سروس معطل27 August, 2006 | پاکستان احتجاج، ہڑتال، کانفرنس کا اعلان28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان: اسمبلی اجلاس ملتوی 28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان اور سندھ میں ہڑتال28 August, 2006 | پاکستان بلوچستان، سندھ میں ہڑتال، مظاھرے28 August, 2006 | پاکستان بگٹی کی ہلاکت کے اثرات 29 August, 2006 | پاکستان بگٹی کے بیٹے سے حکومت کا رابطہ28 August, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||