BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 August, 2006, 22:15 GMT 03:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سلامتی کا خطرہ برقرار: اسلم بیگ
اکبر بگٹی چھبیس اگست کو فوجی آپریشن میں مارے گئے
فوجی آپریشن میں اکبر بگٹی کی ہلاکت پر جنرل اسلم بیگ نے بی بی سی اردو سروِس کے صحافی شفیع نقی جامعی سے بات چیت کی ہے۔ اس انٹرویو کا متن حسب ذیل ہے:

سوال: کیا پاکستان کے موجودہ حالات سے پاکستان کی سالمیت کو کوئی خطرہ ہے؟

جنرل اسلم بیگ: جی یقیناً ہے، اس لیے کہ بلوچستان میں یہ بات یقینی طور سے ثابت ہوچکی ہے کہ اس میں بھارت ملوث تھا اور ہے۔ حالات جس طرح سے خراب ہوئے ہیں، ہتھیار اور سامان بلوچستان بھیجے گئے، جس طرح سے بلوچستان لبریشن آرمی بنی ہے، اس کا مقصد یہی رہا ہے کہ کیسے بلوچستان کو غیرمستحکم کیا جائے اور یہاں پر جو تحریک چلی ہے پاکستان کے خلاف، خصوصاً بلوچستان لبریشن آرمی کے حوالے سے، کھلی بغاوت کی، جس میں نہ صرف اکبر بگٹی صاحب بلکہ دوسرے قبائلی بھی شامل تھے تو یہ سازش کا نتیجہ ہے جس سے یقیناً پاکستان کی سلامتی کو خطرات تھے اور ہیں۔

خطرات تھے اور ہیں
 حالات جس طرح سے خراب ہوئے ہیں، ہتھیار اور سامان بلوچستان بھیجے گئے، جس طرح سے بلوچستان لبریشن آرمی بنی ہے، اس کا مقصد یہی رہا ہے کہ کیسے بلوچستان کو غیرمستحکم کیا جائے اور یہاں پر جو تحریک چلی ہے پاکستان کے خلاف، خصوصاً بلوچستان لبریشن آرمی کے حوالے سے، کھلی بغاوت کی، جس میں نہ صرف اکبر بگٹی صاحب بلکہ دوسرے قبائلی بھی شامل تھے تو یہ سازش کا نتیجہ ہے جس سے یقیناً پاکستان کی سلامتی کو خطرات تھے اور ہیں۔
اور ابھی جو یہ واقعہ ہوا ہے اکبر بگٹی صاحب کی ہلاکت، وہ میں نہیں سمجھتا کہ جان بوجھ کر ایسا ہوا ہے بلکہ کچھ غلط فہمی کے نتیجے میں یہ حالات پیدا ہوئے۔ مثلاً جو اطلاعات ہیں وہ یہ کہ پتہ چلا انہیں فلاں جگہ اکبر بگٹی صاحب روپوش ہیں، اس علاقے کا محاصرہ کیا گیا اور اس غار میں سپیشل سروس گروپ کے ہمارے افسر اور جوان داخل ہوئے کہ ان کو زندہ پکڑ لیں لیکن وہاں جو فائرنگ ہوئی اس کے نتیجے میں پورا غار بیٹھ گیا کیونکہ وہ ظاہر ہے مٹی کا تھا اور اس کے نتیجے میں خود اکبر بگٹی صاحب غالباً ابھی تک ان کا ڈیڈ باڈی ریکور نہیں ہوا ہے اور ایس ایس جی کےچار پانچ افسر اور کوئی آٹھ دس جوان اس میں دب گئے اور وہ بھی ہلاک ہوئے۔

تو ان کو قتل کرنے کا میں نہیں سمجھتا کہ کوئی منصوبہ تھاـ یہ حادثہ پیش آیا ہے اور اس کے نتائج جو ہیں وہ یقیناً برے ہیں۔

سوال: تو اس میں آپ نے بھارت کا تو ذکر کر دیا لیکن بلوچستان میں اس کی دفاعی اور جغرافیائی حیثیت کے پیش نظر تو دیگر کئی ملکوں کے مفادات بھی اس خطے سے وابسطہ ہیں جن میں ایران افغانستان اور امریکہ کے ساتھ چین بھی شامل ہے تو ایسی صورت حال میں بلوچستان کا دفاع اب مشکل نہیں ہو گیا ہے؟

جواب: نہیں، میں نہیں سمجھتا کہ بلوچستان کا دفاع مشکل ہو گیا ہے، یقیناً جو بلوچی قبائل ہیں وہ آج سے نہیں بلکہ پچھلے پچاس سال سے اپنے حقوق مانگ رہے ہیں اور اس کے اندر جیسا آپ نے ابھی کہا یہ سازشیں شامل ہوجائیں تو خطرناک صورت حال بن جاتی ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ بلوچستان کے حالات ایسے ہیں کہ جو پاکستان کے قابو سے باہر ہوں۔

جو سازشیں باہر کی ہیں جیسے آپ نے ایران کا تذکرہ کیا، افغانستان کا تذکرہ کیا، امریکہ کا تذکرہ کیا اور اس کی سٹریٹیجک لوکیشن کا وہ اپنی جگہ مسلم ہےـ چین کے اپنے اس علاقے میں مفادات ہیں، اس سب کے باوجود میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایسی خطرنات صورت حال پیدا ہوگئی ہے کہ ہم یہ کہہ دیں کے یہ علاقہ پاکستان سے الگ ہو جائے گا، اس کے امکانات نہیں ہیں۔

سوال: جرنل صاحب کیا کسی اعتبار سے یہ کہا جائے کہ فوج سے یہ نہ صرف تکنیکی بلکہ فوجی اعتبار سے بھی غلطی ہوئی ہے؟

جواب: یہ باالکل غلطی ہے اور آپ خود غور کریں کہ ایک شخص جو اسی سال کی عمر کا ہے، بیمار بھی ہے اور زندگی کی آخری منزل پر پہنچا ہوا تھا اس سے کیا خطرہ تھا، وہ تو ایک پاسنگ فیز تھے جو آج نہیں تو کل گزر جاتا لیکن یہ واقعہ جو ہوا ہے میں سمجھتا ہوں کہ نادانستہ ہوا ہے، منصوبہ نہیں تھا، یہ نیچے والوں کی کمزوری ہے یا ان کی بددیانتی ہے جو بھی آپ کہہ لیںـ

اکبر بگٹی کی بات
’پوتے اور نواسے مِشن آگے بڑھائیں گے‘
حملے کی زد میں
بگٹی پر گزشتہ سال بھی بمباری ہوئی
جنرل مشرفدھماکہ تاہلاکت
حکومت۔بگٹی کشیدگی کے گزشتہ دو سال
تاریخی پس منظر
بلوچستان کو پہلا گھاؤ سن سینتالیس میں لگا
بگٹیمخالفین کو پیغام
بگٹی کی ہلاکت اور پاکستان کا مستقبل
پراسرار گمشدگی
اکبر بُگٹی کے مخالفین کدھر ہیں؟
 ڈیرہ بگٹی میں اکبر بگٹی باہر سے ملنے آنے والوں کے ساتھبگٹی سے ملاقات
’بگٹی کی ہلاکت کے اثرات مرتب ہوں گے‘
اسی بارے میں
لاش ورثا کو دی جائے گی: جام
29 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد