BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 August, 2006, 16:31 GMT 21:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور: لبرٹی مارکیٹ میں دھماکہ

دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے دس سے بارہ گاڑیوں کو نقصان پہنچا
لاہور کی مشہور و معروف لبرٹی مارکیٹ میں ایک بم دھماکہ ہوا ہے جس میں کم از کم تین افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ کئی گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں۔

لاہور کے پولیس چیف خواجہ خالد فاروق کے مطابق دھماکہ خیز مواد لبرٹی مارکیٹ کے کارپارک میں کھڑی کی گئی دو گاڑیوں کے درمیان کوڑے دان میں رکھا گیا تھا۔

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس خواجہ خالد فاروق کے مطابق لبرٹی مارکیٹ میں پھٹنے والا بم انتہائی طاقتور تھا اور اس کا وزن ایک سے ڈیڑھ کلو تک تھا۔

پولیس چیف کے مطابق دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے دس سے بارہ گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

پولیس چیف نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک شخص کی حالت نازک ہے جبکہ دیگر دو زخمیوں میں سے ایک کی ٹانگ اور دوسرے کا بازو ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔

دھماکے میں زخمی ہونے والا ایک شخص اس کار کا ڈرائیور تھا جس کے نزدیک بم نصب کیا گیا۔ یہ دونوں کاریں جو ساتھ ساتھ کھڑی تھیں وہ اس دھماکے میں بری طرح تباہ ہوئی ہیں جبکہ دیگر سات گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

منگل کی شام تقریبا ساڑھے سات بجے ہونے والے دھماکے کے نتیجہ میں سڑک کے دوسرے کنارے پر واقع متعدد دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور کے سیلز مین محسن کے مطابق دھماکہ بے حد زور دار تھا اور یوں لگا جیسے بجلی گری ہے انہوں نے کہا کہ ’جائے وقوعہ پر لوگ چیخ و پکار کر رہے تھے۔ سٹور کے ملازمین نے چار سے پانچ افراد کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا ہے‘۔

دھماکے کے بعد پولیس نے لبرٹی مارکیٹ کی ناکہ بندی کر دی ہے اور پولیس کی بھاری نفری وہاں تعینات ہے جبکہ پوری مارکیٹ بند کر دی گئی ہے۔ تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ دھماکہ کرنے والے کون لوگ ہیں۔

لاہور پولیس کے سربراہ خواجہ خالد فاروق کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی تنظیم نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم مختلف خطوط پر تفتیش جاری ہے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اس دھماکے کا تعلق بلوچستان کے حالات سے جوڑا جا سکتا ہے تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔

لبرٹی مارکیٹ کے تاجروں کی ایک تنظیم کے چیئرمین صفدر علی بٹ نے کہا ہے کہ’ تاجروں نے اس مارکیٹ میں چوبیس کیمرے لگا رکھے ہیں جو چوبیس گھنٹے چلتے ہیں تاہم یہ دھماکہ ایسے مقام پر ہوا ہے جہاں کیمرہ لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی‘۔

ایک دکاندار نے کہا کہ یہ دھماکہ سڑک دوسرے کنارے ہوتا تو جانی اور مالی نقصان زیادہ ہوسکتا تھا۔

اسی بارے میں
ایک ہلاک، سو دکانیں نذر آتش
23 February, 2005 | پاکستان
لاہور:234 غیر ملکی زیر حراست
10 August, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد