BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک ہلاک، سو دکانیں نذر آتش

آگ پتنگ کی ڈور تاروں میں پھنس جانے سے لگی
آگ پتنگ کی آہنی ڈور تاروں میں پھنس جانے سے لگی
لاہور کے مشہور بازار اچھرہ میں دھاتی تار والی کٹی پتنگ کی وجہ سے لگنے والی آگ میں ایک شخص ہلاک اور چار جھلس گئے جبکہ کم سے کم سو دکانیں جل گئی ہیں۔

رات گئے تک آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا اور نہ ہی جانی نقصان کا اندازہ ہوسکا۔

بدھ کی شام پونے چھ بجے بجلی کے قریب اچھرہ کے بھنڈارہ شاپنگ سینٹر کے سامنے بجلی کی تاروں سے آگ کا شعلہ نکلا جو نیچے موجود کپڑے کی دکان میں آگرا جس سے آگ لگ گئی۔

آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے بھنڈارہ سینٹر، خواجہ آرکیڈ اور مین بازار کے اردگرد کی دکانوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ جس کے نتیجہ میں کم سہ کم سو دکانیں جل کر تباہ ہوگئیں۔

ایس ایس پی آپریشن آفتاب چیمہ نے بتایاکہ ایک دکان سے جلی ہوئی لاش ملی ہے جبکہ تین آدمی جھلس گئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی ملبے کی تلاشی ہو رہی اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق آگ میں پھنس جانے والے چند افراد نے چار منزلہ بھنڈارہ سینٹر سے چھلانگ لگا کر اپنی جانیں بچائیں لیکن وہ زخمی ہوگئے۔ انہیں ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔

آگ سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے کئی دکاندار جلتی آگ کے نزدیک روتے دیکھے گئے۔ ایک دکاندار نے کہا کہ ان کی اندر اور باہر دونوں دکانیں جل گئی ہیں اور تیس لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

شہر بھر کی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف رہیں لیکن دکانداروں کو ان پر اعتراض تھا۔ ایک دکاندار حاجی احسان نے کہاکہ بریگیڈ کا عملے کافی دیر سے پہنچا اس لیے آگ زیادہ پھیل گئی۔

ایک دوسرے دکاندار منان عرف منا جی کا کہنا تھا کہ تاخیر اس لیے ہوئی کہ یہ غریبوں کی دکانیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ جب پیس اور الفتح جیسے بڑے سٹورز میں آگ لگی تھی تو اس وقت تو فائر بریگیڈ کا عملہ موقع پر فوراً پہنچ گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں پرانی تھیں اور پائپ لیک تھے اور پانی دور تک نہیں پہنچتا تھا۔اس کے علاوہ قریب سے پانی لانے کا کوئی مناسب انتظام بھی نہیں تھا۔

ضلعی ناظم لاہور میاں عامر محمود نے کہا کہ’ ابھی فوری طور پر نقصان کا تخمینہ نہیں لگایا جا سکتا لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ کافی زیادہ نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امدادی کاموں میں کوئی کمی نہیں آنے دی گئی پہلے آگ کو پھیلنے سے روکا گیا۔

موقع پر موجود پولیس کے اچھرہ تفتیشی سینٹر کے انچارج انسپکٹر ملک منشا نے بتایا کہ کچھ لوگوں نے دھاتی تار والی ایک کٹی پتنگ بجلی کے ٹرانسفارمر پر گرتے دیکھی تھی اور اسی سے ہونے والے شارٹ سرکٹ سے یہ ساری آگ لگی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد